Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
بین الاقوامی

چینی صدر شی جن پنگ کا غیر ملکی افواج کو انتباہ

چین کے صدر شی جن پنگ نے غیر ملکی افواج کو خبردار کیا ہے کہ چینی قوم کے ساتھ بدمعاشی کرنے کی کوشش کے نتیجے میں ان کا اپنا نقصان ہوگا، ساتھ ہی انہوں نے اپنے عوام کی تخلیق کردہ ‘نئی دنیا’ کو بھی سراہا۔
چینی کمیونسٹ پارٹی کی صدر سالہ تقریبات کے موقع پر تیاننمین اسکوائر پر ایک گھنٹے طویل خطاب کرتے ہوئے شی جنگ پنگ نے چینی فوج کی تعمیر، تائیوان کو دوبارہ شامل کرنے کا ظاہر کیا اور کہا کہ چین کی سلامتی اور خودمختاری کی حفاظت کرتے ہوئے ہانگ کانگ می استحکام یقینی بنایا جائے گا۔
غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ‘چین کے عوام نہ صرف پرانی دنیا کو تباہ کرنے میں اچھے ہیں بلکہ انہوں نے ایک نئی دنیا بھی بنائی ہے’۔
چینی رہنما ماؤزے تنگ کے بعد سب سے طاقتور سمجھے جانے والی چینی صدر کا کہنا تھا کہ ‘صرف سوشل ازم ہی چین کو محفوظ بناسکتا ہے’۔
ایسے میں جب چین کووِڈ 19 کے پھیلاؤ سے تیزی کے ساتھ صحتیاب ہورہا ہے چینی صدر اور ان کی جماعت اونچا اڑ رہے ہیں اور عالمی سطح پر مزید ٹھوس مؤقف اپنا رہے ہیں۔
تاہم بیجنگ کو ہانک کانگ میں پابندیوں اور نسلی اقلیت کے ساتھ اختیار کردہ سلوک پر پر بیرونی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
چنانچہ اپنے خطاب میں چینی صدر نے کہا کہ چینی عوام کسی غیر ملکی فوج کو اپنے آپ کو دبانے، سبوتاژ کرنے یا بدمعاشی نہیں کرنے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ‘جس نے بھی یہ کرنے کی کوشش کی وہ ایک ارب 40 کروڑ سے زائد کی چینی عوام سے اپنا سر ٹکرائے گا’۔
یہ بات انہوں نے وسطی بیجنگ کے بڑے چوک پر جمع ہوئے 70 ہزار افراد کے مجمع سے کہی، ان کا یہ جملہ چین کی ٹوئٹر جیسی ویب سائٹ پر سب سے زیادہ ٹرینڈنگ کرنے والا عنوان بن گیا۔
فوجی طاقت اور خود مختاری
چینی صدر نے کہا کہ چین اپنی خودمختاری، سلامتی کے تحفظ اور ترقی کے لیے اپنی مسلح افواج تیار کرے گا اور اسے دنیا کے اعلیٰ معیار تک بلند کرے گا۔
چینہ صدر جو کہ ملک کی مسلح افواج کو قابو کرنے والے سینٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں قومی دفاع اور مسلح قوت جدید بنانے کے عمل کو تیز کرنا چاہیے۔
تائیوان کا سوال حل کرنا اور چین کو دوبارہ متحد کرنا پارٹی کا ایک ایسا تاریخی کام ہے جس کا جواب نہیں مل سکا۔
شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین کے تمام بیٹوں اور بیٹوں بشمول تائیوان کے دونوں اطراف رہنے والے ہم وطنوں کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا اور یکجہتی سے آگے بڑھنا ہوگا۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!