تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

چیکو: آنکھوں کی صحت کیلئے قدرت کا انعام

چیکو غذائی ریشے سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ایک سو گرام چیکو میں 5.6 گرام ریشے ہوتے ہیں۔ چیکو میں وٹامنز مثلاً فولیٹ (folate) اور نیاسین معدنیات مثلاً کیلشیم، پوٹاشیم، جست، فولاد اور صحت بخش غیر تکسیدی اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ چیکو میں وٹامن سی کی بڑی مقدار ہوتی ہے۔ جب کہ وٹامن اے بھی اس میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔

چیکو سیب اور ناشپاتی جیسی ساخت کا ایک پھل ہے۔ پکنے کے بعد یہ بہت میٹھا ہوتا ہے۔ کچا ہو تو اس کا ذائقہ کسیلا ہوتا ہے۔ کھانے میں مزے دار اور ہضم کرنے میں آسان ہوتا ہے۔ یوں تو اس پھل کا اصل رنگ ہراہے لیکن پکنے کے بعد اس کا رنگ بھورا ہوجاتا ہے۔ چیکو کے اندر صحت کے لیے بے حد فائدے مند غذائی اجزا موجودہیں۔

چیکو کا نباتاتی نام manilkara zapota ہے۔ اسے انگریزی میں Sapotaکہتے ہیں۔ اس کا چھلکا آلو کی طرح ہوتا ہے۔ اس میں دو سے لے کر دس تک کالے بیج ہوتے ہیں۔ یہ گول یا بیضوی، یعنی ایک طرف سے نوکدار شکل میں ہوتے ہیں۔ چیکو کا درخت سال میں دو مرتبہ پھل دیتا ہے۔چیکو کا ایک درخت سال میں دو ہزار پھل دیتا ہے۔

چیکو میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
چیکو غذائی ریشے سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ایک سو گرام چیکو میں 5.6 گرام ریشے ہوتے ہیں۔ چیکو میں وٹامنز مثلاً فولیٹ (folate) اور نیاسین معدنیات مثلاً کیلشیم، پوٹاشیم، جست، فولاد اور صحت بخش غیر تکسیدی اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ چیکو میں وٹامن سی کی بڑی مقدار ہوتی ہے۔ جب کہ وٹامن اے بھی اس میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔

چیکو کے طبی فوائد:

ٓآنکھوں کے لئے مفید:
چیکو میں وٹامن اے موجود ہوتا ہے جو کہ آنکھوں کے لئے بے حد مفید ہے۔ وٹامن اے کی کمی سے اکثر بچوں کی نظر کمزور ہو جاتی ہے۔ اس سے بچنے کے لئے ایسی غذائیں لینے کی ضرورت ہوتی ہے جن میں کثیر تعداد میں وٹامن اے موجود ہو۔ اس لئے چیکو ہر عمر کے فرد کو ہی استعمال کرنا چاہئے۔

تونائی فراہم کرے:
چیکو جسم کو فوری انر جی فراہم کرتا ہے۔ اس میں موجود فریکٹو اس اور ا سکروس اسے توانائی سے بھر پور غذا بناتے ہیں۔ چیکو کو ناشتے یا اسنیک کے طور پر لینا مفید ہے۔

اینٹی انفلا میٹری خصوصیات:
چیکو میں موجود ٹینتز اسے اینٹی انفلا میٹری یعنی سوزش دور کرنے والی خصوصیات دیتا ہے۔ اس سے درد دور ہو تا ہے اور جسم کی سوجن اترتی ہے۔

گٹھیا میں فائدہ مند:
گٹھیا کے مریضوں کو چیکو کا استعمال کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ ایسی دیگر بیماریاں جن میں جسم کا کوئی حصہ یا ہڈیاں سوج جاتی ہوں چیکو کا استعمال فائدے مندثابت ہو سکتا ہے۔

کیلشیم سے بھر پور:
چیکو میں آئرن، فاسفورس اور کیلشیم موجود ہوتا ہے۔ کیلشیم اور فاسفوس ہڈیوں کے بیرونی حصے کو مضبوط بناتا ہے۔ ان سے ہڈیوں کو قوت ملتی ہے اور وہ زیادہ بوجھ اٹھانے کے قابل بن جاتی ہے۔ دوسری طرف آئرن ہڈیوں کی اندرونی ساخت پر کام کرتے ہیں، ہڈیوں میں کیلشیم اسٹور کرنے میں مدد کرتے ہیں اور خون اور کولا جین پیدا کرتا ہے۔

حمل میں فائدے مند:
یہ حاملہ خواتین کے لئے بھی بے حد مفید ہے۔ اس میں کا ربوہائیڈ ریٹس موجود ہوتے ہیں جو حاملہ عورتوں کو توانائی پہنچاتے ہیں۔ ساتھ ہی اس کا ذائقہ اور خوشبو متلی اور کمزوری کی کیفیت کو دور کرتے ہیں۔ ا سکے لئے علاوہ اس میں فائبر بھی پایا جاتا ہے جو جسم کو انفیکشن اور نقصان دہ جراثیم سے پاک رکھتا ہے۔ حاملہ خواتین کو نہ صرف حمل کے دوران بلکہ زچگی کے بعد بھی چیکو کو اپنی روز مرہ کی خوراک کا حصہ رکھنا چاہئے۔

دل اور خون کی شریانوں کے لئے:
معدنی غذائی اجزا یعنی منرلز دل کے لئے بہت فائدے مند ہے۔ اس سے خون کی شریا نیں سٹریس فری ہو جاتی ہیں اور بلڈ پریشر نیچے آتا ہے۔ جس کی وجہ سے جسم میں خون کی روانی درست رہتی ہے۔ فولیٹ اور آئرن سے خون کے نئے خلیات پیدا ہوتے ہیں۔ پوٹا شیئم خون میں سوڈیم کو بیلنس رکھتا ہے۔ بلڈ پریشر کو نارمل رکھتا ہے۔

احتیاط: چیکو ہمیشہ پکا ہوا خریدنا چاہئے۔ پھل کو ہاتھ لگا کر اگر نرمی محسوس ہو تو اس کا مطلب وہ پکا ہوا ہے۔ ا سکے رنگ سے بھی اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پھل پکا ہوا ہے۔ یا کچا۔ اگر چیکو ہرا ہے تو اس کا مطلب یہ پوری طرح سے پکا نہیں ہے۔ کچا چیکو ذائقے میں کڑوا بھی ہوتا ہے اور اس میں لیٹکس اور ٹینتز کی زیادہ مقدار صحت کے لئے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔ کچے چیکو سے منہ میں چھالے، گلے میں سوزش، سانس لینے میں تکلیف اور خارش جیسی تکالیف ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button