Uncategorized

ڈاکوﺅں کے سامنے کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے؟

” وہ رات کو اس وقت دیوار پھلانگ کر آئے جب ہم گہری نیند میں تھے، انہوں نے ہمیں باندھا اور ہمارا سب کچھ لوٹ کر لے گئے”۔

میں گھر کی جانب گاڑی میں جارہا تھا اور دروازے کے قریب میں باہر نکلا تو انہوں نے گن پوائنٹ پر مجھے اندر دھکیلا، آرام سے انہوں نے گاڑی کو میری تمام قیمتی اشیاءسے بھرا اور چلے گئے”۔

ہم سب لوگوں سے ایسی صورتحال کا تذکرہ سنتے رہتے ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے اور یہ ایسی صورتحال ہوتی ہے جس کو کسی کے لیے روکنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

تو آخر کسی فرد کو ڈکیتی یا لوٹ مار کے دوران کیسے ردعمل کا اظہار کرنا چاہئے؟ کیا ڈاکوﺅں کو چیلنج کرنا درست طریقہ کار ہے؟

گن پوائنٹ پر ڈکیتی کے دوران لوگوں کو کیسے ردعمل کا اظہار کرنا چاہئے اس کا اظہار اس لمحے میں ان کے ذہن پر ہوتا ہے مگر ان کے اقدامات اور کارروائی زندگی بدل دینے کا باعث بن سکتی ہے۔


گھر میں داخل ہونے والے ڈاکوﺅں کے سامنے کیسا ردعمل ہونا چاہئے


پوری توجہ سے سننا

یہ بہت ضروری ہے کہ سنا جائے کہ گھر میں داخل ہونے والا ڈاکو کیا کر رہا ہے، کیا آپ کئی قدموں کی چاپ سن رہے ہیں؟ کیا کوئی فرد کسی سے بات کررہا ہے یا فون پر ہے؟ کیا وہ آپ کی جانب بڑھ رہا ہے؟ اس سے آپ کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ آپ کا کس سے سامنے ہونے والا ہے۔

بے آواز حرکت کریں

اگر آپ کمرے کے اندر ہیں اور دروازہ بند کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو ایسا بہت معمولی یا بے آواز انداز سے کریں، لائٹس آن یا آف نہ کریں کیونکہ اس سے آپ کی موجودگی کا عندیہ مل سکتا ہے۔

ایک الارم کو چلائیں

اگر آپ کے پاس ایک الارم ہو جس کی آواز گھر کے اندر گونجتی ہو تو اسے استعمال کریں، اگر آپ کے پاس ریموٹ مانیٹرنگ کے ساتھ پینک الارم ہو تو اسے چلادیں، اگر آپ کے پاس کچھ نہیں تو اپنی گاڑی کا الارم استعمال کریں (رات کو اپنی گاڑی کی چابی اپنے بستر کے سرہانے کی میز پر رکھا کریں)۔

خاموشی اختیار کریں

خاموشی آپ کی بہترین دوست ہے کیونکہ شور شرابے سے ڈاکو خبردار ہوجائیں گے کہ آپ پولیس کو بلانے والے ہیں یا آپ کے پاس ہتھیار ہیں اور ان پر فائرنگ ہوسکتی ہے، جس سے ان میں انتشار پیدا ہوگا، اگر ڈاکو خوف کا شکار ہوئے تو وہ پکڑے جانے کے ڈر سے آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اپنے فون کا استعمال کریں

پولیس کو فون کریں اور گھر میں داخل ہونے والے کے بارے میں آگاہ کرکے اپنا پتا دیں، یہ کبھی نہ بتائیں کہ آپ کس کمرے میں چھپے ہوئے ہیں، یہ اس صورت میں تو بہت ضروری ہے جب آپ لینڈ لائن فون استعمال کررہے ہو جس کی ایکسٹیشن گھر کے کسی اور کونے میں بھی موجود ہو۔ ہمیشہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا موبائل فون چارج ہو خاص طور پر رات کو بستر پر لیٹنے سے قبل، اور کبھی اپنے موبائل فون کو سائیلنٹ کرنا نہ بھولیں۔

عقلمندانہ طرز عمل

اگر آپ کے پاس فرار کا کوئی راستہ ہو جو آپ کو بحفاظت کسی نشاندہی کے بغیر باہر نکال سکتا ہو تو وہاں سے نکل جائیں۔ فرار کے لیے خاندان کے دیگر افراد کو اس صورت میں اکھٹا کرنے کی کوشش نہ کریں جب وہ مختلف کمروں میں ہوں، اگر آپ وہاں سے نکل سکیں تو انتظامیہ کی مدد سے اپنے گھر والوں کی مدد بھی کرسکتے ہیں۔ اگر آپ اور خاندان کسی ایک کمرے میں اکھٹے ہوں تو فرار کا آپشن نہ ہونے کی صورت میں اس کمرے کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیں، بھاری فرنیچر کو کمرے کے قریب لاکر اسے جام کردیں۔

باہر دیکھنا

جہاں آپ چھپے ہو تو اس صورت میں دروازہ کھول کر باہر نہ جائیں جب آپ کو کچھ دیر تک کوئی آواز سنائی نہ دے یا آپ کو لگے کہ ڈاکو اس جگہ سے دور چلے گئے ہیں جہاں آپ چھپے ہوئے ہیں۔ دروازے کے شگاف سے باہر دیکھیں (اگر ہو تو) اور کسی کو دیکھنے کی کوشش کریں، اگر کوئی نظر نہ آئیں تو اپنے کانوں کا استعمال کریں۔ یہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے کہ خود کو جتنی دیر ہوسکے چھپا کر رکھا جائے یہاں تک کہ ڈاکوﺅں کے چلے جانے کے ایک گھنٹے بعد بھی، بعد میں افسوس کرنے سے یہ تاخیر زیادہ بہتر ہے۔

چھپ کر انتظار

اگر آپ پولیس کو فون کرچکے ہیں یا الارم کو آن کرچکے ہیں تو پھر انتظامیہ کی آمد کا انظار کریں۔ جہاں چھپے ہوئے ہو وہاں سے اس وقت تک باہر نہ نکلیں جب تک پولیس اہلکار وہاں پہنچ نہ جائیں اور آپ انہیں شناخت نہ کرلیں۔


اگر آپ چھپ نہ سکیں اور ڈاکو آپ کو دریافت کرلیں تو پھر؟


دور رہیں

ڈاکوﺅں کے قریب جانے سے گریز کریں اور کونے میں رہنے کو ترجیح دیں، مگر اپنی کمر ان کی جانب نہ کریں اور کسی قسم کے اختلاف سے گریز کریں۔

تعاون کریں

وہ کریں تو جو ڈاکوﺅں کی جانب سے آپ کو کہا جائے، پرسکون رہیں کیونکہ کسی بھی اچانک حرکت سے ڈاکوﺅں کی جانب سے جان لیوا ردعمل سامنے آسکتا ہے۔ یہ سمجھیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں، اگر وہ آپ کے سامان کے پیچھے ہیں تو انہیں لے جانے دیں، اگر وہ پوچھیں کہ آپ کی تجوری کہاں ہے تو انہیں بتادیں، آپ کبھی بھی خود کو یا اپنے گھروالوں کو اپنے مالی اثاثوں کو بچانے کے لیے نقصان پہنچانا پسند نہیں کریں گے۔

اپنے فون پر کیسے جواب دیں

اگر آپ کے پاس ریموٹ مانیٹرنگ کے ساتھ دخل اندازی کی صورت میں کام کرنے والا سسٹم موجود ہے تو آپ کو ایک فون کال کی توقع ہونی چاہئے، اس کا جواب اس وقت تک نہ دیں جب تک ڈاکو اجازت نہ دے دیں۔ اس موقع پر جو آپ کہیں گے وہ بہت اہمیت رکھتا ہے، پہلے سے تیار کیا گیا کوئی گفتگو کا کوڈ اس موقع پر استعمال کیا جاسکتا ہے جس سے بچت کا ردعمل سامنے آسکا ہے۔

جارحانہ رویہ اختیار نہ کریں

یہ ضروری ہے کہ آپ کمزور نظر نہ آئیں مگر جارحانہ انداز اختیار کرنا بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ آپ کے مرنے کے بعد بہادری کا کوئی میڈل آپ کے پیاروں کو کسی صورت اچھا نہیں لگے گا، مزید یہ کہ ہمیشہ یہ تصور کریں کہ ڈاکوﺅں نے اپنی طاقت پیچھے بھی چھپا کر رکھی ہوسکتی ہے۔


اس وقت کیا کریں جب ڈاکو چلے جائیں؟


واقعے کی رپورٹ کریں

اگر آپ کچھ کر نہیں پاتے تو جب ڈاکو آپ کے گھر سے باہر نکل جائیں پھر کریں۔ پولیس کو رپورٹ کسی بھی قسم کے انشورنس کلیم کے لیے ضروری ہوتی ہے، اپنے انشورنس ایجنٹ کو واقعے سے آگاہ کریں اور اس کے سروے کے موقع پر اپنی دستیابی کو ممکن بنائیں۔

رات باہر گزاریں

ایک بار جب انتظامیہ اپنا کام مکمل کرلے تو آپ اس رات اپنے دوستوں اور خاندان یا کسی ہوٹل میں گزارنے کو ترجیح دیں۔ لوگوں کا ردعمل مختلف ہوتا ہے، ان میں خوف، دہشت یا لٹ جانے کے بعد ایک چھپا ہوا غصہ ہوسکتا ہے۔ اپنے گھر کو بند کرکے وہاں سے نکل جائیں۔

لوٹی ہوئی اشیاءکی فہرست بنائیں

ان تمام اشیاءکی فہرست بنائیں جو ڈاکو لے گئے ہو، نقدی، کریڈٹ کارڈز، موبائل فونز، پاسپورٹس، شناختی کارڈ، ڈیوائسز غرض ہر چیز آپ کو یاد ہونی چاہئے۔ کریڈٹ کارڈز اور موبائلز کو فوری طور پر بینک اور موبائل کمپنی کو فون کرکے بلاک کرادیں۔ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کو لازمی طور پر پولیس رپورٹ میں درج کروائیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان کا غلط استعمال نہ ہوسکے۔

گھر کو چیک کریں

آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ڈاکو کس طرح اندر آئے؟ کیا دروازے کے راستے، کسی کھڑکی یا کسی اور ذریعے سے؟ فوری طور پر اس کمزوری کو دور کریں اور اپنے دروازوں کے تالوں کو تبدیل کروانا نہ بھولیں۔

طبی معائنہ

اگر آپ یا آپ کے گھر کے کسی فرد پر تشدد ہوا ہو تو طبی تجزیہ کروائیں۔ اگر آپ اپنے گھروالوں خاص طور پر بچوں کے رویے یا برتاﺅ میں مختصر یا طویل المدت کی تبدیلی دیکھیں تو کسی پروفیشنل سے مدد طلب کریں۔

Leave a Reply

Back to top button