کالم

ڈاکٹر اجمل نیازی: اک شخص جزیرہ رازوں کا…… نعیم سلہری

ہر طرف انصاف صحت کارڈ کے چرچے لیکن غریب عوام بیماریوں کے نرغے میں، ہر سُو ریاست مدینہ کی باتیں لیکن مہنگائی کا دیو منہ کھولے ہڑپ جانے کو تیار، ہر لمحہ اکنامک ریوائیول کے شوشے لیکن جلانے کو گیس اور پکانے کو آٹا ندارد۔ ایسے میں اگر عمر بھر سچ کا ڈوھول پیٹنے، خون جگر کو سیاہی کرنے، سر پر کسی قبیلے کے سردار جیسی پگڑی باندھے؛ ہاتھ میں قلم دبائے یا کیمرے کے سامنے بیٹھ کر خواب غفلت کے مزے لیتے حکمرانوں کو جگانے کی تگ ودو میں مصروف اجمل نیازی بستر علالت پر ہے تو کیا ہوا؟ اس کا کسی صاحبِ اختیار نے حال تک نہ ہوچھا تو کیا حیرانی، اس کی قلمی و ادبی خدمات، اس کے نعرہ مستانہ کو طاق نسیاں کر دیا تو کیا غم۔ آخر وہ ان صاحبانِ زر اور مالکانِ سیاہ وسپید کا لگتا ہی کیا ہے؟ اس کا رشتہ تو قلم وقرطاس، سچ اور لفظ کی حرمت ہے، جو ایسا سرمایہ نایاب وگراں ہے کہ جس سے تخت نشینوں اور ان کے حواریوں کا دور دور تک کوئی تعلق، کوئی واسطہ نہیں۔ کیونکہ……
ڈاکٹر اجمل نیازی نے اس معاشرے میں جنم لیا جہاں وہ کسان بھی بھوکا مرتا ہے جو زمین کا سینہ چاک کر کے دوسروں کے لئے رزق پیدا کرتا ہے…… وہ مزدرو راتوں کو فٹ پاتھ پر زمین بچھا کر، آسمان اوڑھ کر سوتا ہے جو دن بھر ہاتھ چھلنی کر کے دوسروں کیلئے سر چھپانے، گرمی سردی اور دھوپ بارش سے بچنے کا سامان کرتا ہے۔ اجمل نیازی نے اس معاشرے کو سدھارنے کا بیڑہ اٹھایا جہاں دوسروں کے لئے سوت کاتنے والی بڑھیا کی اپنی بیٹھی کا سر ننگا رہتا ہے…… ایسے میں ڈاکٹر اجمل نیازی کسان بنے، مزدور بنے یا سوت کاتنے والی بڑھیا، انجام ایک جیسا اور بے حسی کے نشتر مقدر۔
زندگی کتنی ہے، کس نے کیسے جینا اور کیسے مرنا ہے یہ تو انسان کے اختیار میں نہیں، لیکن وہ جن کو اللہ نے اختیار دیا ہے، کیا ان کے اختیار میں بھی کچھ نہیں؟ اوئے خدا کے بندو! آپ کسی کو زندگی نہیں دے سکتے، دو بول ہمدردی کے تو بول سکتے ہو۔ ادیب، فنکار اور اہلیان قلم وقرطاس معاشرے کی نبض ہیں، آپ نبض روک سکتے ہو نہ چلا سکتے ہو لیکن اس پر ہاتھ رکھ کر اسے محسوس تو کر سکتے ہو۔ ایسا کرنے کے لئے تو کسی پالیسی، کسی فنڈ، کسی منظوری کی ضرورت نہیں۔ اس کے لئے تو بس انسانیت اور احساس کی ضرورت ہے…… کیا آپ اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہو؟
ادب کیا ہے؟ ادیب کون ہے؟ یہ ہمارے لئے کیوں ناگزیر ہے؟ اس حوالے سے قلمکار رانا عمر بڑی پتے کی بات کرتے ہیں۔”ادیب کی حیثیت کسی بھی معاشرے کے لیے ارتھ ورم (کیچوئے) کی سی ہے جو ایک کسان دوست کیڑا ہے اور زمین کی زرخیزی میں کئی طرح سے اضافہ کرتا ہے۔ یہ گلے سڑے نامیاتی و نباتاتی معدوں کو خوراک کے طور پر استعمال کر کے ایکو سسٹم کو مینٹین رکھتا ہے۔ نامیاتی مادوں کی ترکیب میں مثبت تبدیلیاں لا کر ان کو مٹی میں مکس کر دیتا ہے۔ یہ عمل زمین کی زرخیزی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اس کیڑے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ عمل تنفس اپنی جلد سے کرتا ہے۔ اسے بائیولوجیکل پسٹنز کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ چالس ڈارون کے بقول دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کسی اور جانور نے ایکولوجیکلی اتنا فائدہ پہنچایا ہو جتنا کہ اس خوب صورت تخلیق نے۔ یوریائی کھادیں زمیں کی تیزابیت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں جس سے اس ماحول دوست تخلیق کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ یوں مصنوعی طریقوں سے زرخیزی بڑھانے کے چکر میں قدرتی خداد صلاحیتوں کو تلف کر دیا جاتا ہے۔ جس طرح کسی بھی زمین کی زندگی اور شادابی اس کے زرخیز ہونے سے مشروط ہے اسی طرح ایک معاشرہ ادب سے تمدن و تہذیب کا گہوارہ بنتا ہے۔ ادب کے بغیر معاشرے مردہ ہوتے ہیں۔ تہذیب و تمدن ادب کی اولاد ہیں۔ ادب نہی تو معاشرہ اس بنجر زمین جیسا ہوتا ہے جہاں خود رو جھاڑیاں ہی اگتی ہیں۔ ادب معاشرے کو اسی طرح آکسیجن مہیا کر کے زندہ کرتا ہے جیسے کیچوا زمین کو قوت و مضبوطی۔ ادب ہی ہے جو حسین تخیلات کو کہیں الفاظ کا جامع پہنا کر تو کہیں رنگوں کے کینوس پر سجاکر دل نشیں و مرمریں وجود فراہم کر کے زندگی کو جینے اور محظوظ ہونے کا جواز مہیا کرتا ہے“۔
جب زندگی کا جواز فراہم کرنے والا خود زندگی کے لئے موت سے لڑ رہا ہو تو ایسے میں ان کا کیا فرض بنتا ہے جن کے لئے وہ زندہ رہا اور رہنا چاہتا ہے۔ جن کے حق کے لئے اس نے قلم چلایا، آواز اٹھائی…… وہ اتنے بے حس کیسے ہو سکتے ہیں جن کے لئے بقول شاعر وہ یہی سوچتا رہا:
اس سے پہلے کہ چراغوں کو ہوا لے جائے
روشنی جس کو ملے جتنی اٹھا لے جائے
رات اس خوف سے آنکھوں میں گزر جاتی ہے
کوئی اس شہر کے جگنو نہ چرا لے جائے
معذرت کے ساتھ ہم عجیب قوم ہیں اور ہماری سائیکی عجب کہ ہم زندوں کی قدر نہیں کرتے اور مرجانے والوں کی پوجا شروع کر دیتے ہیں۔ آج ہم ہر سال ساگر میلا سجاتے ہیں، اور جب ساگر زندہ تھا تو جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ ایک بڑے سرکاری ادارے کے پاس بھی اتنے فنڈ نہیں تھے کہ اس کے دوا دارو کا بندوبست کیا جا سکتا۔ ہم تو بس اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی کب مرے اور کب ہم اس کے لیے قل خوانی، چہلم، تعزیتی ریفرنس، سیمینارز اور یاداشتوں سے بھری تقریبات کا اہتمام کریں اور اپنے so called ضمیر کو پنے تئیں مطمئن کرنے کی کوشش میں مصروف ہو جائیں۔ ہماری آنکھیں اس وقت کیوں نہیں کھلتیں جب کوئی روحی بانو موت وحیات کی کشمکش میں ہوتی ہے، ہمارے ضمیر اس وقت کروٹ کیوں نہیں لیتے جب کوئی شوکت علی یہ کہہ کر ٹرپ اٹھتا ہے کہ ”مجھے پھولوں کی نہیں امداد کی ضرورت ہے“۔ ہماری روح اس وقت کیوں نہیں تڑپتی جب کسی اجمل نیازی کی چیخ سنائی دیتی ہے۔ آخر ہم آخری ہچکی کے منتظر کیوں رہتے ہیں؟ وہ تو بھلا ہو میڈیا کا کہ اس نے شور مچایا، پروگرام کئے اور اب شنید ہے کہ ڈاکٹر اجمل نیازی پر سرکار کو رحم آیا اور پانچ لاکھ کا چیک عنایت کیا گیا۔ اب دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ابھی تو بس ڈاکٹر اجمل نیازی ہی کی ایک غزل رہ رہ کہ یاد آ رہی ہے:
اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اک گھر ہے تنہا یادوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اک موسم ہرے پرندوں کا وہ سرد ہوا کا رزق ہوا
اک گلشن خالی پیڑوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اک آنکھ ہے دریا آنکھوں کا ہر منظر اس میں ڈوب گیا
اک چہرہ صحرا چہروں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اک خواب خزانہ نیندوں کا وہ ہم سب نے برباد کیا
اک نیند خرابہ خوابوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اک لمحہ لاکھ زمانوں کا وہ مسکن ہے ویرانوں کا
اک عہد بکھرتے لمحوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اک رستہ اس کے شہروں کا ہم اس کی دھول میں دھول ہوئے
اک شہر اس کی امیدوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button