Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
کالم

ڈاکٹر طاہر القادری ۔۔۔ راہ انقلاب پر

ڈاکٹر طاہر القادری سے میری طرح بیشتر لوگوں کا تعارف ٹی وی پروگرام فہم القرآن سے ہوا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جنرل ضیاء الحق برسراقتدار تھے۔ وہ ماڈل ٹاؤن کی اتفاق مسجد میں خطیب کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ ٹی وی پروگرام میں بھی شرکت کر رہے تھے۔ ساتھ ساتھ ادارہ منہاج القرآن اور تعلیمی پروگرام کو بھی پروان چڑھا رہے تھے۔ ٹی وی پروگرام سے ملنے والی شہرت اور پذیرائی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے انتخابی سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ سیاسی تنظیم ’’پاکستان عوامی تحریک‘‘ کی بنیاد رکھی اور انتخابات میں حصہ لیا۔ ان سے پہلی بار سامنا موچی گیٹ کے انتخابی جلسے میں ہوا جہاں انہوں نے جوش خطابت میں تین سال میں برسراقتدار آنے کا عندیہ دیا تھا مگر انتخابی شکست کے بعد وہ گم ہو گئے۔ ان کے بہت سے ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔
عوامی تحریک پس منظر میں چلی گئی اور ایک طویل خاموشی چھا گئی۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے قریبی حلقوں کا کہنا تھا کہ انتخابی سیاست میں حصہ لینا ان کے لیے مناسب نہیں تھا۔ اس کی بجائے اگر وہ اپنے تعلیمی منصوبوں پر ہی کام کرتے رہیں تو پندرہ بیس سال بعد وہ ایک انقلابی طاقت بن سکتے ہیں۔ یہ بات ڈاکٹر صاحب کو اچھی لگی اور وہ سیاسی سرگرمیوں سے ذرا فاصلے پر رہ کر منہاج القرآن کی دینی اور تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔ ساتھ ساتھ انہوں نے منہاج القرآن کے نیٹ ورک کو جدید سائنسی انداز میں ترتیب دینا شروع کر دیا۔ منہاج القرآن کی حدود میں ہی سماجی فلاحی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری سے میری دوسری ملاقات ان کے تعلیمی منصوبوں کے متعلق ایک انٹرویو کی صورت میں تھی۔۔۔
ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے تیسری ملاقات سیاسی حوالے سے تھی اور خود ان کی فرمائش پر تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ تعلیمی حوالے سے کامیابیوں کے بعد دوبارہ سیاسی پیش قدمی کے لیے بھی تیار ہو رہے ہیں۔ یہ ملاقات منہاج القرآن کے سول سیکرٹریٹ میں ہوئی۔ وسیع وعریض ہال میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ان کے بڑے صاحبزادے ۔۔۔حسن محی الدین بھی تشریف فرما تھے۔ سامنے کی نشستوں پر منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے مختلف شعبوں فنانس، اطلاعات، تعلیم اور دوسرے شعبوں کے سربراہان بھی تشریف فرما تھے۔ سب کے لیے شیشے کے برتنوں میں مشروب پیش کیا گیا مگر ڈاکٹر صاحب کچی مٹی کے پیالے میں سادہ پانی نوش فرما رہے تھے۔ اس انٹرویو کے دوران ڈاکٹر صاحب نے پاکستان عوامی تحریک کی بنیاد رکھنے اور انتخابات میں حصہ لینے کی کہانی بیان کی۔ یہ بھی فرمایا کہ انہیں دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں حصہ لینا غلطی نہیں تھی، ہم نے حجت اتمام کے لیے انتخابات میں حصہ لیا۔ کل کوئی یہ نہ کہے کہ آپ نے انتخابی جمہوریت کا راستہ اختیار کیوں نہیں کیا۔
ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے میری چوتھی ملاقات ان کے فیملی انٹرویو کے حوالے سے تھی۔ اس انٹرویو کے دوران ان کی اہلیہ، بیٹی اور دونوں صاحبزادے بھی شامل تھے۔
اس کے بعد ڈاکٹر صاحب سے میری بہت سی ملاقاتیں رہیں۔ کچھ ملاقاتیں منہاج القرآن کے کارکنوں کی موجودگی میں تھیں اور کچھ ون ٹو ون تھیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران ایک دو باتیں جو میں نے محسوس کیں کہ ڈاکٹر صاحب، صاحب علم ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے منتظم بھی ہیں۔ یہ ان کی اچھی مینجمنٹ کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اتنا بڑا ادارہ قائم کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک خامی نظر آئی، وہ یہ ہے کہ ان میں خودستائشی کا عنصر نمایاں ہے، وہ تنقید برداشت نہیں کرسکتے۔ اگر آپ دورانِ گفتگو ان سے اتفاق نہیں کرتے ہیں تو ان کی گفتگو میں تلخ ردّعمل رونما ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے اسی سبب بہت سے لوگ ان کا ساتھ بھی چھوڑ گئے۔
بات ہو رہی تھی ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی۔ خوبیاں اور خامیاں ہر انسان میں ہوتی ہیں۔ ان کی خوبیاں ان کی خامیوں پر حاوی ہیں، انہوں نے طویل جدوجہد کی ہے۔ سیاست میں اپنے لیے انقلاب کی راہ اختیار کی ہے۔ ایک سال پہلے بھی وہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف دھرنے کے لیے نکلے تھے۔
اس وقت انہوں نے اس کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کا پراسیس طے نہیں کیا تھا۔ بس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اعلان کیا اور پاکستان آگئے۔ ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جائے تو وہ اس حوالے سے کامیاب نظر آئے کہ لوگوں کی کثیر تعداد نے سخت سردی کے باوجود نہ صرف شرکت کی بلکہ تین دن تک وہاں موجود رہے۔ ایک معاہدے کے نتیجے میں وہ دھرنا ختم کرنا پڑا اور وہ دھرنا نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکا مگر پاکستان عوامی تحریک کی مضبوط سٹریٹ پاور ضرور سامنے آگئی۔ اس وقت بھی ڈاکٹر طاہر القادری نے تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ تحریک انصاف ان کے ساتھ ضرور آکھڑی ہو گی مگر ایسا نہ ہوا۔ بعدازاں مسلم لیگ (ق) کے راہنماؤں چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی نے لندن جا کر ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کی۔
دس نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کے بعد اتحاد کا اعلان کیا۔ 23جون کو ڈاکٹر طاہر القادری کی واپسی کی تاریخ طے ہوئی۔ شیخ رشید اور مسلم لیگ (ق) نے ڈاکٹر طاہر القادری کو اپنے ہزاروں کارکنوں کے ساتھ انقلابی دھرنے میں شرکت کی یقین دہانی کرائی۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد میں چند دن باقی تھے کہ سانحہ لاہور ہو گیا۔ 9افراد شہید ہو گئے، جس سے پورے ملک کی فضا سوگوار ہو گئی۔ عوامی اور سیاسی حلقوں نے اس واقعے کی نہ صرف مذمت کی بلکہ پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔ حکومت کی طرف سے دانستہ یا نادانستہ ایسی غلطی ہوئی۔ حکومت مخالف بھڑکنے والی آگ کو مزید ہوا دینے کا کام کیا۔ تحریک انصاف جو کہ پاکستان عوامی تحریک سے فاصلے پر چل رہی تھی، وہ بھی پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ آکھڑی ہوئی ہے۔
آج ڈاکٹر طاہر القادری اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچنے والے ہیں۔ ان کے استقبال کے لیے کتنے لوگ ہوں گے، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ان کی حکمت عملی کیا ہو گی، اس کا اعلان نہیں ہوا۔ صرف اتنی اطلاع ہے کہ انہیں جلوس کی شکل میں لاہور لایا جائے گا۔ ایک یہ بھی افواہ ہے کہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ساتھیوں سے مشورے کے بعد وہ اسلام آباد میں ہی دھرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ بہرحال مسلم لیگ (ن) کے لیے صورت حال 90ء سے مختلف ہے۔ پہلے وہ دو مرتبہ اقتدار میں آئے تو انہیں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی مگر اب یہ حمایت حاصل نہیں ہے۔ اب انہیں سیاسی حالات کا مقابلہ سیاسی انداز میں ہی کرنا ہو گا۔
موجودہ حکومت مخالف تحریک کے نتائج کے بارے ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ایک بات ضرور ہے جب سونامی (سمندری طوفان) سمندر کے کناروں سے ٹکراتا ہے اور کچھ ہو نہ ہو طوفانی بارش ضرور برستی ہے، جس میں نشیبی بستیوں کے کمزور چھتوں والے گھر ضرور متاثر ہوتے ہیں۔ یہ تحریک بھی کسی نہ کسی فریق کو متاثر ضرور کر سکتی ہے، تھوڑا یا زیادہ ۔۔۔؟؟؟

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!