تجزیہسیاسیات

ڈاکٹر عمران فاروق قتل میں ملوث ملزم گرفتارٴ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردیا گیا

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث شخص معظم علی کو ریجنرز نے منگل کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا۔

رینجرز حکام نے انسداد دہشت کی عدالت کے جج آنند رام کو آگاہ کیا کہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شبہ میں معظم علی کو نوے روز کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے۔

رینجرز کے بیان کے مطابق معظم علی کو ایم کیو ایم کے صدر دفتر نائن زیرو کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ معظم علی کی گرفتاری کا انکشاف گزشتہ روز وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اسلام آباد میں اخبار نویسوں سے بات چیت میں کیا تھا۔

عدالت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت معظم علی کی نوے روز کے لیے حراست میں رکھنے کی منظوری دے دی۔

اس سے پہلے معظم علی کو پولیس اور رینجرز کے کڑے پہرے میں چہرہ پر کپڑا ڈہانپ کر عدالت میں پیش کیا گیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق معظم علی کی گرفتاری کے انکشاف کے بعد منگل کو برطانوی ہائی کمشنر نے اسلام آباد میں وزیر داخلہ سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں اطلاعات کے مطابق معظم علی کی گرفتاری کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ برطانیہ میں لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اسے دو ملزماں مطلوب ہیں جو اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں زیرِ حراست ہیں۔

درین اثناء سندھ ہائی کورٹ میں متحدہ قومی موومنٹ کے لاپتہ کارکنوں کے بارے میں ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران رینجرز حکام نے کہا ہے کہ سنگین مقدمات میں ملوث 59 افراد ان کی زیرِ حراست ہیں جنھوں نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔

رینجرز حکام کے بیان کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت پھلپوٹو اور جسٹس نذر اکبر کی عدالت نے ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنوں کے لواحقین اور لیگل ایڈ کمیٹی کی آئینی درخواست نمٹا دی ہے۔

ایم کیو ایم کے زیر حراست کارکنوں کے بارے میں رینجرز نے تحریری جواب میں بتایا ہے کہ ان کے زیرِ حراست 59 ملزمان کو 90 روز کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، جنہوں نے دوران تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔

رینجرز نے عدالت کو یہ بھی بتایا ہے کہ 26 ملزمان پولیس کے پاس ریمانڈ پر ہیں اور یہ تمام ملزمان جیل میں موجود ہیں۔

ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا کہ جیل مینوئل کے تحت سہولیات فراہم کی جائیں اور لواحقین کی ملاقات کا انتظام کیا جائے جس کے بعد درخواست کو نمٹا دیا گیا۔

یاد رہے کہ اس آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ رینجرز نے نائن زیرو پر چھاپے کے وقت 110 افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں سے 24 کو تاحال عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ درخواست میں گرفتار افراد کے رشتے داروں سے ملاقات اور طبی معائنہ کی بھی استدعا کی گئی تھی۔

Leave a Reply

Back to top button