ادبانٹرویوز

ڈرامہ نگار اصغر ندیم سیّد اور افسانہ نویس ونقاد ڈاکٹر امجد طفیل سے علمی وادبی مکالمہ…… راجا نیئر

قارئین! آج بھی ہم نے ملک کی سیاسی، سماجی، علمی و ادبی صورت حال پر ملک کے معروف ادیبوں سے ایک خصوصی مکالمہ کیا ہے جس کا مقصد یہ جاننا ہے کہ ایسے دانشور اور اعلیٰ تخلیقی مراحل سے گزرنے والے سنجیدہ تخلیق کار وطن اور اہل وطن کو درپیش مسائل کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ اصغر ندیم سیّد ایک معروف شاعر اور ماہر تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ نظم گو بلند پایہ ڈرامہ نویس کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے ڈراموں میں پیاس، خواہش، چاند گرہن، نجات، ہوائیں جیسی مشہور ترین ڈرامہ سیریلز کے ساتھ ساتھ کئی لانگ پلے شامل ہیں۔ اسی طرح امجد طفیل نے بھی اردو ادب کو ان گنت خوبصورت افسانے دیئے ہیں۔ علاوہ ازیں منٹو کے افسانوں پر ان کے تدوین کیے گئے سات جلدوں پر مشتمل کام کو بہت سراہا جا چکا ہے وہ حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ آئیے! ان دونوں احباب سے کی گئی گفتگو پڑھیں۔
سوال: سوشل میڈیا پر جو ادب کے نام پر”طوفان ِبے ادبی“ برپا ہے اس کے حوالے سے کیا کہیں گے؟
اصغر ندیم سیّد: میں سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتا۔ اس لیے محفوظ ہوں۔ جن شاعروں کو ذرا جلدی ہے وہ اس کا کامیاب استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے اپنے سوشل کلب بنے ہوئے ہیں۔ انہیں آپس میں لڑ جھگڑ لینے دیں، کسی کا کیا لیتے ہیں۔
ڈاکٹر امجد طفیل: ایک بات ادب سے دلچسپی رکھنے والے ہر فرد کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ میڈیا ہو یا سوشل میڈیا یہ اپنے اصل میں تخلیق مخالف اور ادب مخالف ہیں۔ یہ عمومیت کو فروغ دیتے ہیں جبکہ تخلیق، ادب اور فنون لطیفہ اپنے اندر اگر کسی نہ کسی حوالے سے خصوصیت کے حامل نہیں ہیں تو وہ دیرپا نہیں ہو سکتے اور جلد ہی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ ادب جب تخلیق ہو جاتا ہے تو اسے قارئین تک پہنچانے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ جب تک بات لکھے ہوئے لفظ تک محدود تھی تو کتابیں اور رسالے ادب کی ترسیل کا سب سے بڑا ذریعہ تھے۔ اس کے بعد ریڈیو اور ٹیلی ویژن آئے تو بولا ہوا لفظ بھی لوگوں تک پہنچنے لگا۔ مگر آپ دیکھیں کہ گزشتہ پچاس، ساٹھ سال میں ریڈیو یا ٹیلی ویژن نے ادب کو کتنا آگے بڑھایا ہے؟مزاحیہ شاعری کے نام پر پھکڑ بازی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے سوشل میڈیا اپنے لیے غذا حاصل کر رہا ہے لوگ شعر لکھتے بعد میں ہیں فیس بک پر پہلے ڈال دیتے ہیں۔
سوال: نئی صدی کی پہلی دو دہائیوں میں غزل نے نئے امکانات کا کوئی مژدہ سنایا؟
اصغر ندیم سیّد: اس صدی کی پہلی دو دہائیوں میں غزل نے انسانی محرومیوں سے تعلق جوڑا ہوا ہے۔ مختصر بحورکے تجربے کئے گئے ہیں۔ غزل کو بے ساختگی اور سہولت سے کہنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ بیرون ملک بھی شعراء کی خاصی تعداد نے غزل کو اپنا اظہار بنا رکھا ہے جو اچھی روایت ہے۔ مشاعرے نے ان شاعروں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ بیرون ملک غزل کی حمایت میں خاصا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر امجد طفیل: جہاں تک میرے مطالعہ اور ذوق کا تعلق ہے تو مجھے ان دو دہائیوں میں کوئی ایک بھی غزل گو ایسا دکھائی نہیں دیتا جو غزل میں کسی نئے امکان کی جستجو میں ہو۔ غزل کے اچھے شاعروں یا بہت اچھے مشاعروں کی کوئی کمی نہیں اور غزل ایسی صنف ہے کہ جس فرد کو بھی شاعری کا ملکہ ودیعت ہوتا ہے وہ محنت اور ریاضیت سے بہت اچھا شاعر بن سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں اردو غزل میں نئے امکانات کو تلاش کیا جائے تو اس کے لیے تخلیقی توانائی، فنی دسترس اور جدید دنیا اور اس کے علوم و فنون سے گہری واقفیت ضروری ہے اور مجھے تو ایسی شرائط پوری کرتا ایک بھی غزل گو دکھائی نہیں دیتا۔
سوال: فلم کے بعد ٹی وی ڈرامہ بھی زوال کا شکار ہو گیا۔ وجوہات تو جانتے ہوں گے آپ؟
اصغر ندیم سیّد: فلم کے بعد ہی ٹی وی ڈرامے کا زوال شروع ہو گیا تھا۔ جب ایک میڈیم زوال پذیر ہو تو اس کے اثرات دیگر تخلیقی میڈیمز پر بھی پڑتے ہیں۔ تھیئٹر کی تباہی کے بعد فلم اس کی زد میں آئی اور اب ٹی وی ڈرامہ جسےٍ کمرشل اور مارکیٹنگ نے شکنجے میں لے رکھا ہے۔ کم پڑھی لکھی رائٹرز روزی کمانے کے لئے اس میں آ چکی ہیں جس سے ڈرامہ تخلیقی طاقت سے محروم ہو چکا ہے۔
ڈاکٹر امجد طفیل: ہماری فلم تو 1980ء کی دہائی میں زوال پذیر ہو گئی تھی۔ اب کہیں کہیں اس کے احیاء کی کوششیں دکھائی دیتی ہیں۔ ڈرامہ 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں اپنی تابانی دکھاتا رہا ہے اور جہاں تک میری رائے کا تعلق ہے اس وقت بھی ڈرامہ ایک کمرشل صنف کے طور پر زندہ اور اب بھی ہے۔ اگر ہمارے ہاں تخلیقی ڈرامے سامنے آتے تو ٹی وی پر دیکھے جانے کے ساتھ ساتھ وہ پڑھے بھی جاتے مگر جتنے بھی ٹی۔وی ڈرامے بہت زیادہ مشہور ہوئے وہ اگر چھپے بھی تو بہت محدود لوگوں نے انہیں بطور قاری پڑھا۔ موجودہ ڈراموں کو دیکھ کر البتہ یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ سکرپٹ کا زبان و بیان اور مکالمہ کافی کمزور ہے۔
سوال: راشد، میراجی اور مجید امجد کے بعد نظم کا سرخاب کسی کے ساتھ آیا…… یا؟
اصغر ندیم سیّد: راشد، میرا جی اور مجید امجد کے بعد جن نظم نگاروں نے اپنے نقوش پیدا کیے ان میں انیس ناگی، آفتاب اقبال شمیم، عبدالرشید، ساقی فاروقی، سرمد صہبائی، افضال احمد سید، اختر حسین جعفری، جیلانی کامران، فہمیدہ ریاض اور اس خاکسار کا نام لیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر امجد طفیل: راشد، میراجی اور مجید احمد کے ساتھ ساتھ آپ فیض احمد فیض اور اختر الایمان کا نام بھی لے لیں۔ اسے ہم مابعد اقبال بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس میں مختار صدیقی، قیوم نظر، حفیظ جالندھری، عزیز حامد مدنی، اور بہت سے لوگ نظم لکھ رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایک عہد سے چند نظم لکھنے والے ہی سامنے آتے ہیں۔ تخلیق کا سب سے مشکل امتحان وقت لیتا ہے۔ وقت گندم کے دانوں اور بھوسے کو الگ کرتا چلا جاتا ہے اور اس عمل میں صرف چند لوگ رہ جاتے ہیں۔ میرے خیال میں بیسویں صدی میں تو مندرجہ بالا جن نظم نگاروں کی طرف آپ نے اشارہ کیا ان کے مقابلے کے لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے۔ جہاں تک اکیسویں صدی کا تعلق ہے تو ان ابتدائی دو دہائیوں میں مجھے اردو نظم ایک نئی کروٹ لیتی محسوس ہوتی ہے۔
سوال: عوام کو سیاسی و مذہبی بلیک میلنگ کے ساتھ ساتھ شہادت کے سرٹیفکیٹ جاری کئے جا رہے ہیں۔ ایسی صورت حال کو کس طرح سے دیکھتے ہیں؟
اصغر ندیم سیّد: اس سوال کی وضاحت ضروری ہے۔ یہ میں سمجھ نہیں سکا۔ سیاسی سطح پر ہم ہمیشہ ہی بلیک میل ہوتے رہے ہیں۔ اس پر ذرا وضاحت سے بات تب ہو گی جب سوال کی بنیاد واضح ہو گی۔
ڈاکٹر امجد طفیل: تہذیبی اور معاشرتی سطح پر ہم ہمہ گیر زوال کا شکار ہیں اور بعض حوالے سے یہ زوال زیادہ وسیع اور گہرا ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ مقتدر طبقے عوام کو مختلف حوالوں سے تقسیم کر رہے ہیں تاکہ انہیں چھوٹے چھوٹے تنازعات میں اُلجھا دیا جائے۔ ہمارے معاشرے اور ملک کو ایک بڑی معیاری تبدیلی کی ضرورت ہے جس کے بظاہر زیادہ امکان دکھائی نہیں دیتے۔ ایسے میں تخلیق کار ایک نئی دنیا کے خواب کے ساتھ ایک نئے طرز احساس کے لیے لوگوں کے ذہنوں میں جگہ بنا سکتاہے۔سیاسی و مذہبی بلیک میلنگ نے ہمارے معاشرے ڈھانچے کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ ہمیں نئے سرے سے تعمیر کی کوشش کرنا ہو گی۔
سوال: کیا موجودہ ملکی حالات میں عام آدمی کے درد دل پر کبھی بھی حقیقی خوشی دستک دے سکتی ہے؟
اصغر ندیم سیّد: عام آدمی پاکستان میں نہ تو کسی سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کر سکتا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تحریک ہے جو عوام کو متحد کرتے ہوئے ان کے سیاسی شعور کی تربیت کر سکے۔ اس لیے پاکستان میں عام آدمی کو کبھی بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔ وہ بعض سیاسی جماعتوں کے لیے استعمال ہوتے رہیں گے۔ بڑی سیاسی جماعتوں کے ایجنٹ ان کے ووٹ کا سودا کر کے انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح دھکیل کر ووٹ ڈلواتے رہیں گے۔
ڈاکٹر امجد طفیل: خوشی کا تعلق خارجہ حالات سے زیادہ باطنی معاملات سے ہوتا ہے۔ مادی آسائشیں ایک حد تک تو انسان میں اطمینان پیدا کر سکتی ہیں مگر حقیقی خوشی صرف مادی حالات کے بہتر ہونے سے پیدا نہیں ہوتی۔ یہاں اس بات سے صرفِ نظر نہیں کہ لوگوں کے حالات میں بہتری نہیں آنی چاہیے۔ زندگی کی بنیادی ضروریات تک باعزت طریقے سے رسائی ہر فرد کا حق ہے۔ اس میں تعلیم صحت، اظہار کی آزادی، مذہبی سیاسی تصورات رکھنے کی آزادی سب شامل ہیں۔
سوال: آزادی مارچ، دھرنے، احتجاج جیسے لائیو ڈرامے بین الاقوامی سطح پر وطن عزیز کا کیسا امیج بنا رہے ہیں؟
اصغر ندیم سیّد: آزادی مارچ کے پس پردہ بہت سے محرکات ہیں۔ معصوم لوگوں کو کسی مذہبی نعرے پر اسلام آباد لایا گیا۔ اب انہیں پکنک منانے کے بعد معلوم نہیں ان کا مستقبل کیا ہو گا۔ دھرنے کی سیاست کے پیچھے بھی کچھ خفیہ اشارے ہوا کرتے ہیں۔ ان کو محسوس کرنا چاہیے۔ اس سے پاکستانی امیج کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ پہلے بھی قابلِ رشک نہیں؟
ڈاکٹر امجد طفیل: ایک سطح پر تو یہ جمہوریت کا حصہ ہیں اور ساری دنیا میں ایسے یا ان سے ملتے جلتے واقعات آپ تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد ہر جمہوری ملک میں دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب سیاسی اور جمہوری مقاصد کے حصول سے زیادہ ذاتی مفادات کے لیے کئے جاتے ہیں۔ اس لیے کبھی بھی عام آدمی کی بہتری میں حصہ نہیں ڈالتے۔ میرا خیال ہے اگر عالمی معیارات کو سامنے رکھا جائے تو گزشتہ چند سالوں میں دنیا میں ہمارا امیج بہتر ہوا ہے اور اب بھی اگر کوئی غیر معمولی حادثہ نہ ہوا تو صورت حال زیادہ خرابی کی طرف نہیں جائے گی۔
سوال: اپنی تمام تر کوشش کے باوجود نظم مشاعروں میں جگہ کیوں نہیں بنا سکی…… کیا کہیں گے آپ؟
اصغر ندیم سیّد:
راجا صاحب…… مشاعرے ہر طرح کے ہوتے ہیں۔ مزاج مختلف ہو سکتے ہیں۔ کراچی کے مشاعرے رات رات بھر چلتے ہیں۔ وہاں تخصیص نہیں ہے کہ غزل زیادہ پسند ہو گی کہ نظم۔ وہاں شاعر کا انداز بیاں اور شخصیات کا جادو بولتا ہے۔ وہاں میں نے افتخار عارف کو نظموں پر داد لیتے دیکھا ہے۔ امجد اسلام امجد کو نظمیں پڑھتے سنا ہے۔ بیرون ملک امریکہ، یورپ اور یو اے ای کے مشاعروں میں بھی شاعر ہی کا امیج چلتا ہے۔ اب شاعر نظم بھی سنا دیتے ہیں اور غزل بھی۔ اس لیے یہ نہیں کہہ سکتے کہ نظم کے شاعر عوامی مشاعروں میں نہیں چلتے۔اس لیے مسئلہ نظم اور غزل کی پسندیدگی کا نہیں اچھی شاعری کا ہے۔ جو اچھی شاعری اچھے انداز میں پڑھے گا وہ داد تو لے گا،میں نہیں سمجھتاکہ آج عوام مشاعروں میں آتے ہیں یا بلائے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر امجد طفیل: نظم یا غزل ہمارے ہاں مشاعروں میں سنانے کی چیز رہی ہیں۔ اقبال نے اپنی بہت سے نظمیں انجمن حمایت اسلام کے مشاعروں میں پڑھیں۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ شاعر بھی اپنی نظمیں مشاعروں میں سناتے رہے…… مگر اصل بات یہ ہے کہ کیا مشاعرے کے سامعین خوش ذوق اور باعلم ہیں۔ جیسے ہمارے سامعین ہیں ان کے سامنے تو غزل کا شعر ہی داد پا سکتا ہے۔ اس میں قصور نظم گو شعراء کا نہیں ہے سامعین کی استعداد کار کا ہے۔
سوال: کیا حلقہ ارباب ذوق اسی کشمکش اور تقسیم در تقسیم کا شکار رہ کر نیک نامی کما سکے گا……؟
اصغر ندیم سیّد: ادبی تنظیموں کے زمانے ہوتے ہیں۔ وقت پورا ہونے کے بعد ان کا مردہ کھینچنے کی ضرورت نہیں رہتی میرے نزدیک حلقہ ارباب ذوق نے اپنا زمانہ دیکھ لیا ہے۔ اس کی تاریخ بھی لکھی جا چکی ہے۔ اگرچہ غلط تاریخ لکھی گئی ہے۔ مکمل تاریخ نہیں ہے۔ حلقے کا اب نام رہ گیا ہے۔ اگر کوئی اسے سینے سے لگانا چاہتا ہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ حلقہ اپنی معنویت کھو چکا ہے۔ حلقہ ارباب ذوق نے ادب میں جو تحریک پیدا کرنی تھی وہ بخوبی انجام پائی۔ اچھا زمانہ دیکھا۔ اب میڈیا کا زمانہ ہے۔ اظہار کے راستے کھل گئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں حلقہ کی تاریخی اہمیت ہے اور اس نے جو رول ادا کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔ اب بھی اگر اس کے ٹکڑے ہونے کے بعد کوئی اس نام کے سائے میں مل بیٹھتا ہے تو اسے بیٹھنے دیں۔
ڈاکٹر امجد طفیل: ایک دور میں حلقہ ارباب ذوق سیاسی اور ادبی میں تقسیم ہوا تھا تو تقسیم نظریاتی تھی۔ چند سال پہلے جب حلقہ تقسیم ہوا تو اس کے پیچھے حلقہ کے نظریات اور طریقہ کار کے حوالے سے چند اصولی باتیں تھیں اس لیے جب گفتگو میں بنیادی مسائل پر آئندہ کا لائحہ عمل طے ہو گیا تو بات ختم ہو گئی۔ ایسا جناب حسین مجروح اور میرے درمیان ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں ہوا۔ چند بیمار ذہن کے لوگ جو اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور حلقہ کو اپنے چند مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ہم سے الگ ہو گئے۔ اسے میں حلقہ کی تقسیم نہیں مانتا کہ کوئی بھی قابل ذکر لکھنے والا ان کے ساتھ نہیں، وہ حلقہ کے آئین کے مطابق اسے جمہوری انداز میں نہیں چلا پا رہے۔
میرے بعد اب تک حلقہ کے تین سیکرٹری آ چکے ہیں اور حلقہ کے اجلاس ٹی ہاؤس میں منعقد ہو رہے ہیں۔ ان لوگوں کی اپنی باتوں کے مطابق بھی اب ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کا کوئی جواز باقی نہیں۔ ہاں بات چونکہ صرف میَں،میَں کی ہے اس لیے وہ بے سود کاوش کئے جا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button