HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » سپورٹس » ڈومیسٹک کرکٹ کو بچانا ضروری ہے!

ڈومیسٹک کرکٹ کو بچانا ضروری ہے!

پڑھنے کا وقت: 6 منٹ

کرکٹ بورڈ کے پیٹرن فرسٹ کلاس کرکٹ کو علاقائی سطح پر دیکھنا چاہتے ہیں

زین العابدین ……….
عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد اس سوچ میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے کیونکہ وہ اپنے کیریئر کے دنوں سے ہی ڈیپارٹمینٹل کرکٹ کے خلاف رہے ہیں اور اب چونکہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن بھی ہیں لہٰذا وہ پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ کو مکمل طور پر علاقائی سطح پر دیکھنا چاہتے ہیں۔اگرچہ پی سی بی اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ ڈیپارٹمینٹل کرکٹ کو ختم نہیں کیا جارہا لیکن مختلف اداروں کی جانب سے اپنی ٹیموں کو ختم کیا جانا بالکل مختلف صورتحال پیش کررہا ہے۔

کچھ عرصہ قبل ہی یو بی ایل نے بھی اپنی کرکٹ ٹیم ختم کردی تھی۔حبیب بینک کی کرکٹ ٹیم ختم کئے جانے کے ساتھ ہی ادارے کا اسپورٹس ڈویڑن بھی عملاً ختم ہوگیا ہے کیونکہ بینک نے فٹبال، ٹیبل ٹینس، والی بال، ہاکی اور دیگر کھیلوں کی ٹیمیں پہلے ہی ختم کردی تھیں۔ ماضی میں پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کو ڈےپارٹمنٹس کی زبردست معاونت حاصل تھی۔ پاکستان ہاکی کے نامور کھلاڑیوں حسن سردار، اصلاح الدین اور دیگر کھلاڑی پاکستان کسٹمز سے منسلک ہونے کی وجہ سے ہاکی کی قومی ذمہ داریوں سے فراغت کے دنوں میں کراچی کے بین الا قوامی ہوائی اڈے پر اپنے ادارے کےلئے ذمہ داریاں نبھاتے تھے۔ہاکی کے کھلاڑیوں کی بڑی تعداد پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز، نیشنل بینک اور دیگر اداروں سے منسلک ہوتی تھی اور یوں وہ کھلاڑی فکر معاش سے آزاد ہو کر کھیل کے میدان میں اپنے جوہر دکھایا کرتے تھے۔

جیسے جیسے ہاکی کے کھیل سے اداروں نے ہاتھ کھینچنا شروع کیا ویسے ہی یہ کھیل پستی کی جانب جاتا رہا اور آج پاکستان ہاکی ٹیم بین الاقوامی ہاکی میں نچلے نمبروں پر موجود ہے۔پاکستان کے زمینی حقائق دنیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں بہت مختلف ہیں۔ یہاں کے نوجوان اور ابھرتے ہوئے زیادہ تر کھلاڑیوں کا تعلق ان خاندانوں سے ہوتا ہے جو مالی طور پر غیر مستحکم ہوتے ہیں۔ ان نوجوان کھلاڑیوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ یہ کھیل میں اپنا مقام بنائیں اور قومی ٹیم کے لئے کھیلیں۔اندازے کے مطابق ملک بھر میں ایک سے 2 کروڑ نوجوان سکول، کلب، علاقائی ٹیموں اور ڈیپارٹمنٹس کی ٹیموں کے لئے کرکٹ کھیل رہے ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں کھیلنے والوں میں سے صرف 15 یا 16 وہ خوش نصیب کھلاڑی ہوتے ہیں جو قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کر پاتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل ہی یو بی ایل نے بھی اپنی کرکٹ ٹیم ختم کردی تھی۔حبیب بینک کی کرکٹ ٹیم ختم کئے جانے کے ساتھ ہی ادارے کا اسپورٹس ڈویڑن بھی عملاً ختم ہوگیا ہے کیونکہ بینک نے فٹبال، ٹیبل ٹینس، والی بال، ہاکی اور دیگر کھیلوں کی ٹیمیں پہلے ہی ختم کردی تھیں۔ ماضی میں پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کو ڈےپارٹمنٹس کی زبردست معاونت حاصل تھی۔

لہٰذا والدین کو یہ خدشہ ہر وقت لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ کھیل ان کی اولاد کے مستقبل کے لئے نقصان دہ ثابت نہ ہوجائے، پھر وہ اپنے بچوں کو اس کھیل سے دور رہنے اور تعلیم پر توجہ دینے کے لئے دن رات سمجھاتے رہ جاتے ہیں، لیکن نوجوان چونکہ کھیل سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتے ہیں اس لئے وہ بات کم ہی مانتے ہیں۔پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چوتھے ایڈیشن میں سامنے آنے والے کھلاڑی حارث رو¿ف بھی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایسے ہی کھلاڑی ہیں۔ حارث کے والدین ان کو تعلیم مکمل کرکے نوکری تلاش کرنے کا مشورہ دیتے تھے جبکہ حارث دن رات اپنے شوق کی تکمیل میں لگے رہتے تھے۔ وہ اپنی اسی محنت سے لاہور قلندرز کی ٹیم میں شامل ہوئے اور دنیائے کرکٹ کو اپنی صلاحیتیں دکھانے میں کامیاب رہے۔

حارث اب قومی کرکٹ کے دھارے میں شامل ہوگئے ہیں لیکن اپنے کھیل میں نکھار لانے کے لئے ان کو مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ حارث یہ محنت صرف اسی صورت کرسکتے ہیں جب کوئی ان کو فکرِ معاش سے آزادی دلوا دے اور ان کو یہ آزادی صرف اسی صورت مل سکتی ہے جب ان کو کوئی ڈےپارٹمنٹ نوکری پر رکھ لے۔حارث ہی کی طرح پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن میں کراچی کنگز کے لئے کھیلتے ہوئے عمر خان نے بھی اپنی عمدہ باولنگ سے سب کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اس کھلاڑی کا انتخاب کراچی کنگز نے ان کے ڈےپارٹمنٹ سوئی سدرن گیس کمپنی کے لئے عمدہ کارکردگی پیش کرنے کی وجہ سے کیا تھا۔ انہوں نے اپنے اولین فرسٹ کلاس میچ میں 7 وکٹیں حاصل کرکے قومی ریکارڈ قائم کیا تھا۔

بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اپنے میدان موجود نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ شہروں کی کرکٹ چلانے والے لوگ بھی کھیل کے لئے خاطرخواہ خدمات پیش نہیں کرسکے ہیں۔ دوسری جانب ڈےپارٹمنٹس کے اب اپنے کھیل کے میدان ہیں ،ان کے پاس مختلف کوچز بھی موجود ہوتے ہیں جو کھلاڑیوں کی کمزوریوں کو د±ور کرنے کے لئے مسلسل محنت کررہے ہوتے ہیں۔دنیا کے دیگر ممالک میں نوجوان کم عمری میں ہی روزگار کا کوئی نا کوئی ذریعہ ڈھونڈ لیتے ہیں کیونکہ وہاں کا خاندانی نظام پاکستان سے مختلف ہے۔ 2007ءکا ورلڈ کپ اب بھی یاد ہے جب عالمی کپ میں شرکت کے لئے آنے والی آئرلینڈ کرکٹ ٹیم کے بہت سے کھلاڑی اس لئے مشکل کا شکار ہوگئے تھے کیونکہ وہ اپنی اپنی نوکریوں سے چھٹیاں لے کر ورلڈ کپ کھیلنے آئے تھے اور غیر معمولی طور پر ان کی ٹیم اگلے راﺅنڈ میں پہنچ گئی تھی جس کے سبب ان کی چھٹیاں ختم ہورہی تھیں ،اگلا راﺅنڈ کھیلنے کے لئے انہیں مزید چھٹیاں لینی پڑیں۔

یہ ساری تمہید باندھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ پاکستان کے موجودہ وزیرِاعظم اور سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپنی ماضی کی خواہش کو دہرایا۔ دہرایا ہی نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہدایت بھی کردی ہے کہ وہ پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ کے سٹرکچر کو آسٹریلین طرز کے مطابق ڈھال لیں اور اس کے لئے کام شروع بھی ہوچکا ہے۔معاملہ کچھ یہ ہے کہ عمران خان کا تعلق معاشی طور پر مضبوط خاندان سے رہا ہے ۔انہوں نے پاکستان میں کم ہی عرصے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی ہے، لیکن ان کا شروع سے یہی مﺅقف رہا ہے کہ پاکستان میں آسٹریلیا کی طرز پر علاقائی ٹیمیں تشکیل دی جانی چاہئےں۔لیکن ان کے برعکس پاکستان کے ایک اور مایہ ناز کھلاڑی جاوید میانداد ہیں جنہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کے ساتھ ساتھ طویل عرصے تک ڈومیسٹک کرکٹ بھی کھیلی ہے۔

جواب دیجئے