تازہ ترینخبریںپاکستانپاکستان سے

ڈی ایچ اے کا الاٹ شدہ، سمندر سے حاصل کردہ زمین کی تفصیلات دینے سے انکار

سندھ ہائی کورٹ نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کو تمام الاٹ کردہ زمین اور سمندر سے حاصل کردہ زمین کی دستاویزات اور ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے یہ ہدایات سرکاری طور پر مقرر کردہ فرد کی اس شکایت پر جاری کیں کہ ڈی ایچ اے مطلوبہ اعداد و شمار فراہم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس ذوالفقار احمد خان کی سربراہی میں ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے ڈی ایچ اے، کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن، کنٹونمنٹ بورڈ فیصل، کنٹونمنٹ بورڈ ملیر، کراچی کنٹونمنٹ بورڈ اور دیگر کو 15 دسمبر کے لیے نوٹسز جاری کردیے۔

قبل ازیں ایک حکم میں عدالت کی جانب سے ان علاقوں کو عوام کے لیے مختص مقامات کو کسی تجارتی یا فائدہ مند مقاصد کے لیے استعمال کرنے یا وہاں تھرڈ پارٹی کا مفاد پیدا کرنے سے روکا گیا تھا۔

حالیہ درخواست میں اس عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر ان اتھارٹیز کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

جس پر عدالت نے ڈی ایچ اے کو دیگر منصوبوں کے لیے الاٹ کی گئی زمین کا ریکارڈ بھی شیئر کرنے کی ہدایت کی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پورٹ قاسم اتھارٹی کو بالترتیب کمرشل پراپرٹیز اور حاصل کی گئی زمین کا ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دیا۔

بینچ نے سندھ حکومت کو فوکل پرسن مقرر کرنے کی ہدایت کی تاکہ وہ سرکاری طور پر مقرر کردہ فرد کو حاصل شدہ زمین کی ملکیت اور قبضے کے بارے میں متعلقہ معلومات فراہم کرے۔

عدالت میں 6 افراد نے وہسل بلوور پروٹیکشن اینڈ ویجیلینس کمیشن آرڈیننس کے تک درخواست دائرکی تھی۔

جس کی سماعت میں سرکاری طور پر مقرر کردہ فرد ڈاکٹر چوہدری وسیم اقبال نے سمندر سے حاصل کردہ زمین کے معائنہ اور 22 نجی اداروں کے تجارتی مقامات کی تفصیلات فراہم کرنے کے عدالتی حکم پر عبوری تعمیلی رپورٹ پیش کی۔

Leave a Reply

Back to top button