کالم

کاش یہ نہ ہوتا

مخدوم جاوید ہاشمی بالآخر اُس ”جمہوریت“ کو پیارے ہوگئے جو عوام کو کچھ نہیں دے سکی‘ بلکہ خود جاوید ہاشمی سے بھی سب کچھ چھین کر لے گئی ہے۔ اِس سے پہلے بھی کئی بار الیکشن وہ ہار چکے ہیں‘ کئی بار جیت بھی چکے ہیں مگر اُن کا حالیہ الیکشن خصوصی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ گزشتہ دِنوں پی ٹی آئی اور عمران خان پر کچھ ایسے الزامات اُنہوں نے لگائے تھے جس کے بعد اور تو کسی کو یقین ہوا ہو یا نہ ہوا ہو خود اُنہیں پور ایقین ہوگیا تھا۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کی سیاست اُنہوں نے ختم کر دی ہے۔ حیرت کا مقام ہے اُن کی اپنی سیاست اب ختم ہونے کی طرف جا رہی ہے اور اُن کی پیاری جماعت مسلم لیگ نون سمیت کوئی اِس پوزیشن میں نہیں رہا‘ اُن کی ختم ہوتی ہوئی سیاست کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی کر سکے۔ سیاست سے ریٹائر مگر ”گولڈن ہینڈشیک “ لینے کے بعد وہ بھی نہیں ہوں گے۔ کیونکہ سیاست کا چسکا بہت ہی برا ہوتا ہے۔ خصوصاً اُس سیاست کا چسکا تو بہت ہی برا ہوتا ہے جو مالی فوائد کا باعث بھی ہو۔ ایک زمانے میں سیاست سے مالی فوائد حاصل کرنے کا کوئی الزام جاوید ہاشمی پر لگتا تو الزام لگانے والے کے ہم گلے پڑ جاتے تھے‘ اب کوئی ایسا الزام اُن پر لگے تو ہم چپ سادھ لیتے ہیں کہ اِس کے سوا اور کوئی چارہ ہی ہمارے پاس نہیں ہوتا۔ کوئی لاکھ ثبوت پیش کرے اُس شخص کے خلاف لکھتے ہوئے بڑا عجیب لگتا ہے جسے کئی بار ہم ”فرشتہ“ قرار دے چکے ہوں۔ پی ٹی آئی میں اُن کی شمولیت پر مجھے بڑی حیرانی ہوئی تھی۔ کیونکہ ملتان میں اُن کے سب سے بڑے سیاسی حریف شاہ محمود قریشی اُن سے پہلے پی ٹی آئی میں وائس چیئرمین کی حیثیت سے موجود تھے اور چیئرمین عمران خان کے بعد پارٹی میں اُن کی دوسری پوزیشن تھی۔ جاوید ہاشمی کو عمران خان نے صدر بنا دیا۔ اور مجھے پورا یقین تھا اُن کی پارٹی اقتدار میں آئی تو اُنہیں پاکستان کا صدر بھی وہ بنا دیتے۔ جاوید ہاشمی نے مگر ”گھاٹے کا سودا“ قبول کر لیا۔ شاہ محمود قریشی کا راستہ فی الحال صاف ہوگیا ہے۔ پہلے پارٹی میں ہوا اور اب سیاست میں بھی ہوگیا ہے۔ وہ جاوید ہاشمی سے زیادہ چالاک آدمی نکلا۔ پی ٹی آئی میں دونوں ایک دوسرے کو نیچا دِکھانے کی کوشش کرتے تھے۔ اِس ”مقابلے“ میں جاوید ہاشمی شکست کھا گئے۔ اور بھی بہت کچھ کھا گئے ہوں گے مگر شکست سے بری چیز کوئی نہیں ہوتی۔ ملتان میں شاہ محمود قریشی کے لئے سب سے بڑا خطرہ اُنہی کی صورت میں موجود تھا جو بہت عرصے کے لئے اب ٹل گیا ہے‘ جس کے لئے شاہ محمود قریشی کو جاوید ہاشمی کا خصوصی طور پر شکر گزار ہونا چاہئے۔ جاوید ہاشمی پر الزام لگتا ہے عمران خان اور پی ٹی آئی کو گندا کرنے کے لئے مسلم لیگ نون سے اُنہوں نے پیسے پکڑے تھے۔ اِس الزام میں تو پتہ نہیں کوئی صداقت ہے یا نہیں البتہ شاہ محمود قریشی کا سیاسی راستہ صاف کرنے کی کوئی نہ کوئی ”ڈیل“ لگتا ہے ضرور ہوئی تھی۔ اپنے پاﺅں پر کلہاڑا مارنے والی بات تو ہم نے سنی تھی جاوید ہاشمی نے تو کلہاڑا اپنی گردن پر مار لیا ہے۔ عمران خان کی خوش قسمتی یہ ہے ”درداں مارے عوام“ کے پاس سوائے اُس کے کوئی آپشن ہی اب نہیں رہا۔ اور جاوید ہاشمی کی بدقسمتی یہ ہے سوائے اس کے کوئی آپشن اُن کے پاس بھی نہیں رہا سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اب وہ خیر باد کہہ دیں۔ ویسے تو یہ کام اُنہیں بہت پہلے کر لینا چاہئے تھا۔ مسلم لیگ نون کو خیر باد کہتے ہوئے کرتے تو اچھا تھا اور پی ٹی آئی کو خیرباد کہتے ہوئے کرتے تو اور بھی اچھا تھا۔ تھوڑی بہت عزت اُن کی بچ جاتی۔ اب تو مجبوراً اُنہیں ریٹائر ہونا پڑے گا….جو سیاسی کردار گزشتہ دِنوں اُنہوں نے ادا کیا اُس پر جو کچھ الیکشن میں اُن کے ساتھ ہوا اُن کا حق بنتا تھا مگر سچی بات ہے مجھے ذاتی طور پر اُن کی شکست کا بہت دُکھ ہوا ہے۔ اُن کی سیاسی جدوجہد سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر اُنہیں یہ بات سمجھ لینی چاہئے تھی کہ لوگوں کی آنکھیں ہی نہیں زبانیں بھی میڈیا نے اب کھول دی ہیں۔ لوگوں کو اِس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوگیا ہے جس ”جمہوریت“ کے لئے جاوید ہاشمی قربانیاں دیتے رہے ہیں‘ یا جس ”جمہوریت“ کو حال ہی میں وہ بچانے کے لئے نکلے تھے عوام کو سوائے دُکھوں اور تکلیفوں کے کچھ نہیں دے سکی۔ جاوید ہاشمی کو تو اِن قربانیوں کاصلہ اسمبلی کی رُکنیت کی صورت میں ملتا رہا ہے‘ نہ صرف اُنہیں اُن کے ”عزیز و اقارب“ کو بھی ملتا رہا ہے‘ عوام کو مگر کیا ملا؟…. سیاسی لحاظ سے کچھ درست فیصلے بھی اپنی زندگی میں اُنہوں نے کئے ہوں گے مگر عمران خان اور پی ٹی آئی پر الزامات لگانے کا فیصلہ انتہائی غلط تھا جس کے نتائج کا پہلے شاید اُنہیں اندازہ نہیں تھا‘ اب مگر ضرور ہوگیا ہوگا۔ میں نے تو پہلے بھی عرض کیا تھا فوج کی حمایت عمران خان کو حاصل ہوتی تو دھرنے سے پہلے جو دس لاکھ لوگوں کو لاہور سے لے کر نکلنے کا اعلان‘ دعویٰ یا نعرہ اُس نے لگایا تھا کسی نہ کسی حد تک ضرور پورا ہو جاتا۔ وہ تو چند ہزار افراد بھی اکٹھے نہیں کر سکا تھا اور اِس حوالے سے اپنی پارٹی کے کچھ راہنماﺅں کو وہ کوستا بھی رہا ہے۔ جاوید ہاشمی کی موجودگی میں بھی کوستا رہا ہے۔اِس کے باوجود بار بار اِس بات پر اصرار کرکے کہ فوج کی درپردہ حمایت اُسے حاصل ہے جاوید ہاشمی جس کے ایجنڈے کی تکمیل کر رہے تھے الیکشن میں اُسی نے شاید اُنہیں ہروا دیا ہے۔ بلکہ مجھے تو لگتا ہے بشمول پی ٹی آئی اُنہیں ہروانا ساری سیاسی جماعتوں کا ”مشترکہ ایجنڈا“ تھا کہ جاوید ہاشمی کسی کے نہیں بن سکے۔ کوئی سیاسی جماعت آج تک اُنہیں پسند نہیں آئی جس کے ساتھ عمر بھر نباہ وہ کر س
کتے۔ میں نے تو عرض کیا تھا وہ اپنی پارٹی اگر بنائیں تو اُس کے ساتھ بھی زیادہ عرصے تک شاید نہ چل سکیں۔ اب ”سیاسی کمزوری“ کے اُس مقام پر وہ آگئے ہیں کہ اُن کے نزدیک جو ملک کی دو بڑی پارٹیاں ہیں یعنی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون دونوں نے اُن کے مقابلے میں اپنے اُمیدوار کھڑے نہیں کئے اِس کے باوجود وہ سینکڑوں ووٹوں سے نہیں ہزاروں ووٹوں سے الیکشن ہار گئے۔ یہ الیکشن اصل میں اُنہیں لڑنا ہی نہیں چاہئے تھا۔ مگر ”لڑنے“ کے لئے اب سوائے ”الیکشن“ کے اُن کے پاس چونکہ کچھ رہ ہی نہیں گیا تو وہ بے چارے کرتے بھی کیا؟ اگر واقعی اُصول پسند تھے تو کہتے ملک کی دو بڑی جماعتیں میرے ”حق“ میں میرے ”خلاف“ چونکہ اپنا کوئی اُمیدوار کھڑا نہیں کر رہیں‘ اور پی ٹی آئی بھی باقاعدہ اپنے اُمیدوار کا اعلان نہیں کر رہی تو اِس عمل کو میں جمہوری اور انتخابی اُصولوں کے منافی سمجھتا ہوں۔ ہمیں افسوس اِس بات پر ہے ایک ایسے اُمیدوار سے وہ شکست کھا گئے جس کے کردار پر اُٹھنے والی اُنگلیاں جاوید ہاشمی کے کردار پر اُٹھنے والی اُنگلیوں سے بہرحال زیادہ ہیں۔ اب کچھ لوگ اُن کا دِل بڑا کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں کہ ”الیکشن وہ ہار گئے مگر ”جمہوریت“ کو بچا کر جو ”کارنامہ“ اُنہوں نے انجام دیا الیکشن میں جیت ہار اُس کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی“….میرا سوال یہ ہے الیکشن میں جیت ہار اُس کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی تو ”مخدوم صاحب “ نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہی کیوں تھا؟ شاید اِس لئے کیا ہو کہ ملک کی دو ”بڑی سیاسی جماعتوں“ کو وہ یہ ”پیغام“ دینا چاہتے ہوں کہ آپ کی حمایت کے باوجود میں الیکشن ہار سکتا ہوں….کاش ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں کوئی سبق اِس ”پیغام“ سے ہی سیکھ لیں!

Leave a Reply

Back to top button