تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

کافور انسانی زندگی اور موت کا خوبصورت ساتھی

کافور کو موثر جراثیم کش ادویہ کے طور پر جانا مانا جاتا ہے،اینٹی سیپٹک اور اینٹی فنگل خصوصیات کے باعث کافور کو موثر جراثیم کش دوائی کے طور پر مانا جاتا ہے۔ اس درخت میں سے ایک اور مرکب سیفرول نامی بھی نکلتا ہے، جو اپنے کولنگ افیکٹ کے باعث جلدی امراض کیلئے انتہائی مفید ہوتا ہے۔ سیفرول کے علاوہ کافور میں سانیول، پائی نین، ٹرپینیول، میتھول، تھائی مول اور دیگر اجزا پائے جاتے ہیں۔

کافور طبی اعتبار سے بہت اہمیت کاحامل ہے۔ اسکا کیمیائی نام Camphor ہے۔کافور ایک طویل قامت، خوبصورت اور سدا بہار درخت ہے، جو 30 میٹر تک بلند ہو جاتا ہے۔یہ شیشم کے درخت کے مشابہ ہوتا ہے۔یہ بہت سایہ دار ہوتا ہے۔ کافور کے درخت کی عمر دو ہزار برس تک ہوتی ہے۔ اس کی بہت سی شاخوں پر چھوٹے چھوٹے سفید پھول کھلتے ہیں جو بعد میں سرخ رنگ کے گودے دار پھل میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک سفید شفاف مواد پیدا کرتا ہے جسے کافور کہا جاتا ہے۔ یعنی خام کافور۔ لیکن یہ کافور وہی درخت پیدا کرتے ہیں جن کی عمر پچاس سال سے زائد ہو۔

اس درخت کے بیجوں، جڑوں اور تنے کی لکڑی سے تیل نکال کر کافور تیار کیا جاتا ہے۔ جبکہ مصنوعی کافور بھی بنایا جاتا ہے۔ جرمنی آج کل اس افراط سے مصنوعی کافور بنانے لگا ہے کہ اصلی کافور کا دستیاب ہونا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ کافور قدرتی کافور سے بہت گھٹیا ہوتا ہے۔

کافور زیادہ تر چین میں پیدا ہوتا ہے۔اُس کے علاوہ جاپان، فارموسا اور بورنیو کے جزائر میں بھی اکثر کاشت کیا جاتا ہے۔ کافور کے درخت کو ہمارے ملک میں ککروندہ کہتے ہیں۔ گو اصلی ککروندہ جس سے کافور نکلتا ہے برصغیر پاکستان و ہند میں پیدا نہیں ہوتا، لیکن اس کے بجائے ایسے پودے پیدا ہوتے ہیں جن سے خاصی مقدار میں کافور برآمد کیا جا سکتا ہے۔برما میں ایک بوٹی اس کثرت سے ہوتی ہے کہ برما نصف دنیا کی کافور کی مانگ کو پورا کر سکتا ہے۔پنجاب اور یوپی میں پیلے پھول والا ککروندہ عام ملتا ہے جس میں کافور جیسی بو ہوتی ہے۔اس کو پنجابی میں ککڑ چھڈی کہتے ہیں اور بواسیر کے نسخوں میں استعمال ہوتا ہے۔

کافور ملے پانی سے میت کو غسل دینے کا شرعی حکم ہے۔ میت کے چہرے خصوصاً ماتھے پر اور جسم پر کافور کا پوؤڈر بھی لگایاجاتا ہے، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ کافور کی وجہ سے میت جلدی خراب نہیں ہوتی، یہ دافع جراثیم، دافع بیکٹریا اور دافع وائرس ہونے کی وجہ سے میت کو جلد خراب نہیں ہونے دیتا۔

لاہور کے لارنس گارڈن میں کافور کا ایک نہایت تناور درخت موجود ہے، اس سے چھوٹی عمر کے دو درخت اور بھی ہیں۔

کافور میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
کافور کو موثر جراثیم کش ادویہ کے طور پر جانا مانا جاتا ہے،اینٹی سیپٹک اور اینٹی فنگل خصوصیات کے باعث کافور کو موثر جراثیم کش دوائی کے طور پر مانا جاتا ہے۔ اس درخت میں سے ایک اور مرکب سیفرول نامی بھی نکلتا ہے، جو اپنے کولنگ افیکٹ کے باعث جلدی امراض کیلئے انتہائی مفید ہوتا ہے۔ سیفرول کے علاوہ کافور میں سانیول، پائی نین، ٹرپینیول، میتھول، تھائی مول اور دیگر اجزا پائے جاتے ہیں۔

کافور کو آپ پانی میں حل کر کے یا پیسٹ کی صورت میں یا پھر اس کے تیل کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔یہ ایک ایسی دوا ہے جسے جسم کے اندرونی اور بیرونی مسائل کے حل کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

کافور کے حیران کن فوائد:

سیلولائیڈ کی صنعت کو فروغ ہونے کی وجہ سے کافور کی مانگ بہت بڑھ گئی ہے۔ دنیا میں جس قدر کافور پیدا ہوتا ہے اس کا ستر فیصد سلولائیڈ بنانے میں صرف ہوتا ہے۔جبکہ پندرہ فیصد جراثیم کش دواؤں کی تیاری میں اور تیرہ فیصد دیگردواؤں کی تیاری ہیں اور دو فیصد دوسرے کاموں میں استعمال ہوتا ہے۔

1 2اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button