مختصر تحریریں

کب؟…… تجمل حسین ہاشمی

وقت گزرتا جا رہا ہے لیکن عوام کے حالات میں کوئی بدلاؤ نہیں آرہا، ان کو محض نعروں، دھرنوں، تقریروں اور جلوسوں سے مطمئن کیا جا رہا ہے۔ ذاتی فوائد سمٹ کر ہر لیڈر واپس چلا جاتا ہے جب کہ حاصل شدہ فوائد سیاسی پارٹیوں اور ان کے رہنماؤں کی ذات تک ہی محدود رہتے ہیں، پھر انتخابات کا مرحلہ آتا ہے اور بارش، دھوپ، سردی میں بیٹھنے والے عوام پھر دوبارہ سیاستدانوں کا شکار بننے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اسی کرپٹ نظام کی طرفداری کرتے ہیں جس نے انہیں اور اُن کی نسل کو مقروض بنا دیا۔ میاں نواز شریف نے لانگ مارچ کیا اور جج بحال ہو گئے لیکن کیا اس کاکوئی فائدہ عدالتی نظام کو بھی ہوا؟
دوسری دفعہ پھر نواز شریف ووٹ کو عزت دو نعرے کے ساتھ اسلام آباد سے لاہور تک عوام کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے، عوام تو ان کے ساتھ تھے لیکن اس سے ووٹ کو کتنی عزت ملی سب کے سامنے ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ٹرین مارچ کامیاب رہا، عوام نے بھرپور ساتھ دیا لیکن اس سے ان کی حالت کہاں تک بدلی، الٹا گزشتہ دس ماہ میں سندھ میں کتوں نے ہزاروں افراد کو کاٹ لیا اور کراچی میں گندگی کے ڈھیر بھی ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ بھی آپ کے سامنے ہے۔ اتحادی جماعتوں نے حکومت سے اپنے کام سیدھے کروا لیے، میاں نواز شریف نے آزادی مارچ کو اپنی آزادی کے طور پر منایا، لیکن پنجاب حکومت میں چوہدری برادران اور بلوچستان میں مولانا صاحب کی شراکت داری کا منظرنامہ ابھی باقی ہے۔
تمام اچھے برے حالات میں ان حکمرانوں، سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا ساتھ دینوالے عوام کو کیا ملا، وہ تو آج بھی تعلیم کے دوہرے نظام، ہسپتالوں میں علاج کم جانورں جیسا سلوک زیادہ، انصاف کے حصول میں دشواری؛ چوہدریوں اور وڈیروں کے ظلم اور مہنگائی سے تنگ ہیں۔ عوام نے 2014ء کا عمران خان کا 126 دن کا دھرنا دیکھا، ”روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی ہے“،”بننے گا نیا پاکستان“ جیسے نعرے سنے اور عوام نے انہیں سیٹ پر بٹھا دیا، لیکن عوام اپنے حالات کی تبدیلی کیلئے پھر آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ملک پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔ کرپشن کا علاج کرنے والے عمران خان اپنی ہی کابینہ کے کمزور ہونے کا شکوہ کر رہے ہیں، اور بے بس عوام آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں جنہوں اب حقیقت میں اللہ کی ذات پر بھروسہ کر لیا ہے، وہ جان چکے ہیں کہ وہی سب کا پالنہار ہے، ان سیاستدانوں نے آج تک عوام کو کیا دیا جو اب دیں گے؟…… اگر اب نہیں تو کب دیں گے؟

Leave a Reply

Back to top button