ادبافسانہسعادت حسن منٹو

کبوتروں والا سائیں

افسانہ انسانی عقائد اور توہمات پر مبنی ہے۔ مائی جیواں کے نیم پاگل بیٹے کو صاحب کرامات سمجھنا، سندر جاٹ ڈاکو جس کا وجود تک مشکوک ہے اس سے گاؤں والوں کا خوف زدہ رہنا، نیتی کے غائب ہونے کو سندرجاٹ سے وابستہ کرنا ایسے مفروضے ہیں جن کی تصدیق کے کوئی دلائل نہیں۔

سعادت حسن منٹو

پنجاب کے ایک سرد دیہات کے تکیے میں، مائی جیواں:صبح سویرے ایک غلاف چڑھی قبر کے پاس ،زمین کے اندر کھدے ہوئے گڈھے میں، بڑے بڑے اپلوں سے آگ سلگا رہی ہے۔ صبح کے سرد اور مٹیالے دھندلکے میں، جب وہ اپنی پانی بھری آنکھوں کو سکیڑ کر اور اپنی کمر کو دہرا کرکے، منہ قریب قریب زمین کے ساتھ لگا کر اوپر تلے رکھے ہوئے اپلوں کے اندر پھونک گھسیڑنے کی کوشش کرتی ہے تو زمین پر سے تھوڑی سی راکھ اڑتی ہے اور اس کے آدھے سفید اور آدھے کالے بالوں پر جو کہ گھسے ہوئے کمبل کا نمونہ پیش کرتے ہیں، بیٹھ جاتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بالوں میں تھوڑی سی سفیدی اور آگئی ہے۔

Related Articles

اپلوں کے اندر آگ سلگتی ہے اور یوں جو تھوڑی سی لال لال روشنی پیدا ہوتی ہے، مائی جیواں کے سیاہ چہرے پر جھریوں کو اور نمایاں کردیتی ہے۔

مائی جیواں یہ آگ کئی مرتبہ سلگا چکی ہے۔ یہ تکیہ یا چھوٹی سی خانقاہ جس کے اندر بنی ہوئی قبر کی بابت اس کے پردادا نے لوگوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ وہ ایک بہت بڑے پیر کی آرام گاہ ہے، ایک زمانے سے ان کے قبضہ میں تھی۔ گاما سائیں کے مرنے کے بعد اب اس کی ہوشیار بیوی اس تکیے کی مجاور تھی۔ گاما سائیں سارے گاؤں میں ہر دل عزیز تھا۔ ذات کا وہ کمہار تھا مگر چونکہ اسے تکیے کی دیکھ بھال کرنا ہوتی تھی، اس لیے اس نے برتن بنانے چھوڑ دیے تھے۔ لیکن اس کے ہاتھ کی بنائی ہوئی کونڈیاں اب بھی مشہور ہیں۔ بھنگ گھوٹنے کے لیے وہ سال بھر میں چھ کونڈیاں بنایا کرتا تھا جن کے متعلق بڑے فخر سے وہ یہ کہا کرتا تھا،’’چودھری لوہا ہے لوہا۔۔۔ فولاد کی کونڈی ٹوٹ جائے پر گاما سائیں کی یہ کونڈی، دادا لے تو اس کا پوتا بھی اسی میں بھنگ گھوٹ کرپیے۔‘‘

مرنے سے پہلے گاما سائیں چھ کونڈیاں بنا کررکھ گیا تھا جو اب مائی جیواں بڑی احتیاط سے کام میں لاتی تھی۔

گاؤں کے اکثر بڈھے اور جوان تکیے میں جمع ہوتے تھے اور سردائی پیا کرتے تھے۔ گھوٹنے کے لیے گاما سائیں نہیں تھا پر اس کے بہت سے چیلے چانٹے جو اب سر اور بھویں منڈا کر سائیں بن گئے تھے، اس کے بجائے بھنگ گھوٹا کرتے تھے اور مائی جیواں کی سلگائی ہوئی آگ سُلفہ پینے والوں کے کام آتی تھی۔

صبح اور شام کو تو خیر کافی رونق رہتی تھی، مگر دوپہر کوبھی آٹھ دس آدمی مائی جیواں کے پاس بیری کی چھاؤں میں بیٹھے ہی رہتے تھے۔ اِدھر اُدھر کونے میں لمبی لمبی بیل کے ساتھ ساتھ کئی کابک تھے جن میں گاما سائیں کے ایک بہت پرانے دوست ابو پہلوان نے سفید کبوتر پال رکھے تھے۔ تکیے کی دھوئیں بھری فضا میں ان سفید اور چتکبرے کبوتروں کی پھڑپھڑاہٹ بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔ جس طرح تکیے میں آنے والے لوگ شکل وصورت سے معصومانہ حد تک بے عقل نظر آتے تھے اسی طرح یہ کبوتر جن میں سے اکثر کے پیروں میں مائی جیواں کے بڑے لڑکے نے جھانجھ پہنا رکھے تھے ،بے عقل اور معصوم دکھائی دیتے تھے۔

1 2 3 4 5 6 7اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button