HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » زہرا کنول » کراچی میں امن کی بحالی کا سہرا سیکیورٹی فورسز کو جاتا ہے

کراچی میں امن کی بحالی کا سہرا سیکیورٹی فورسز کو جاتا ہے

پڑھنے کا وقت: 4 منٹ

کنول زہرا …….

زیادہ پرانی بات نہیں، جب معاشی حب کراچی میں آگ و خون کی ہولی کھیلی جاتی تھی۔ کراچی کے رہائشی اس بات سے باخوبی واقف ہوگئے، اس شہر مظلوم کس طرح سے برباد کیا گیا. چند ناعاقبت اندیشوں نے اسی شہر کا باسی ہونے کے باوجود، اسی کا سکون تاراج کیا۔ کراچی کو منظم سازش کے تحت دہشت گردی کی آگ میں جھونکا گیا جس کی وجہ سے اس شہر کا جانی، مالی اور سماجی نقصان ہوا۔ پروردگار کے کرم سے اب کراچی کی رونق بحال ہوگی ہے۔ زندگی کی تین دہائیاں دیکھنے والوں کے لئے آج کا کراچی نیا کراچی ہے۔ اب میرے شہر کی فضائوں میں مائوں ،بہنوں،بیوائوں اور یتیموں کے بین نہیں ہوتے. اب یہاں کی صبح فائرنگ سے نہیں بلکہ معمول کے مطابق ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ جو سوہنی دھرتی ہے اس کے پیچھے وردی ہے

کراچی میں امن کی بحالی کا سہرا سیکیورٹی فورسز کو جاتا ہے۔ پولیس، رینجرز اور آرمی کی مشترکہ کاروائیوں کے پیش نظر کراچی میں موت کا رقص بند ہوا ہے۔ پاکستان کی حفاظت پر مامور دھرتی کے بیٹے جانتے ہیں کہ کراچی کا امن سے ہی پاکستان کی ترقی ممکن ہے۔ پاکستان کی معشیت کا پہیہ کراچی سے ہی چلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مینگروزکی افزائش اور پاک بحریہ کا کردار

شہر میں قیام امن کے بعد موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے تاجر برداری نے ملاقات کی. جس میں انہوں اپنی اور اہلیان کراچی کی جانب سے امن کا قیام کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ تاجر برادری نے کہا کہ محفوظ ماحول کی فراہمی کیلئے پاک فوج نے بہت کوششیں کیں، اقتصادی بہتری کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

کراچی میں زندگی کی گہماگہمی "کراچی آپریشن” کی کامیابی کی واضع دلیل ہے۔ چالیس سال پرانے شہریوں کا کہنا ہے کہ آج کے کراچی میں ان کو اپنے پچپن کی جھلک نظر آتی ہے. جب وہ بے فکری سے محلہ کرکٹ انجوائے کرتے تھے جبکہ اسٹیڈیم بھی آباد ہوا کرتے تھے پھر ایک بھیانک وقت نے زندگی کی تین سے زائد دھائیاں تباہ کردی اور شہر میں موت کا راج ہوگیا بہرحال گھٹا ٹوپ اندھیرے کے بعد امن کا سورج طلوع ہوا ہے اور گلی، محلوں، سٹرکوں کیساتھ نیشنل اسٹیڈیم کی رونقیں بھی بحال ہوگی ہیں.یہ بات یقینا خوش آئند ہے۔

رواں سال پاکستان آرمی کی جانب سے یوم پاکستان کی آمد کے سلسلے میں تقربیات کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سلسلہ یکم فروری سے تین فروری تک ملیر کینٹ میں جاری رہا۔ ان تقریبات میں ملک بھر کے نامور گھڑسوارں، نیزہ بازوں اور تمام صوبوں کی ثقافت کی عکاسی کرتے علاقائی رقاصوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ تین روزہ تقریبات میں انفرادی دوڑ کے مقابلے، اونٹ اور گھوڑوں کا رقص، گھڑ سواری اور فاسٹ روپ ریپیلینگ سمیت متعدد مقابلے منعقد کیئے گئے۔

افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی گورنر سندھ عمران اسمعیل اور کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز تھے۔ مہمانِ خصوصی نے مقابلوں میں شامل کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہا اور جیتنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ شہر قائد میں اس قسم کی سرگرمیاں پرامن کراچی کا عکاس ہیں۔ یومِ پاکستان کے مناسبت سے خصوصی میلے کے آخری روز ملک بھر سے 250 شہہ سوار اور 50 ٹیموں نے شرکت کی۔ نامور گھڑسواروںاور نیزہ بازوںنے اپنے فن کا مظاہرہ پیش کیا۔ علاقائی گھوڑوں اوراونٹوں کے رقص نے سماں باندھ دیا۔ جس سے شرکا بہت لطف اندوز ہوئے۔ یوم پاکستان کی مناسبت سے منعقد کردہ تقریبات کے آخری روز آسمان پراس وقت رنگ وکی بہار آگئی جب پاک بحریہ کے ایس ایس جی کمانڈوز نے Diving Sky and Free Fall کا مظاہرہ پیش کیا۔

مہمان خصوصی سید مراد علی شاہ اور گیریڑن کمانڈر ملیر میجر جنرل زاہد محمود نے تقریب میں شامل کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہا اور کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔ تین روزہ تقریبات میں اہلیان کراچی کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جن میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بالخصوص طالب علم شامل تھے۔ تین روزہ میلوں سے ہر عمر کا حامل شخص لطف اندوز ہوا خاص طور پر نوجوان نے اس سلسلے کو بہت سراہا اور مستقبل میں جاری رکھنے کی خواہش کا
بھی اظہار کیا۔ نوجوان شہریوں کا کہنا تھا کہ اس قسم کے ایونٹ صحت مند اور بہترین سرگرمی ہیں انہیں جاری رہنا چاہئے۔ شہریوں کا جوش و خراش دیکھ کر پاکستان ارمی نے ان کی خواہش کا خیر مقدم کرتے ہوئے، اس قسم کی سرگرمی کو آئندہ کرانے کا عندیہ دیا جس پر شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا۔

جواب دیجئے