سپیشل

کراچی میں ٹرام ماضی کا قصہ کیسے بنی؟

مقبول خان

کراچی میں چلنے والی ٹرام اب قصہ پارینہ بن چکی ہے، اسے بند ہوئے 43 سال ہو چکے ہیں، شہر قائدکے 70 فیصد شہریوں نے شہر کی سڑکوں پر ٹرام میں سفر نہیں کیا ہوگا۔ گزشتہ صدی 70ءکی دھائی میں یا اس کے بعد پیدا ہونے والی نسل نے کراچی کی سڑکوں پر ٹراموں کو تصویر یا ویڈیو فلموں میں ہی چلتے دیکھا ہوگا۔ یہ بسوں کے مقابلے میں ایک آرام دہ سواری تھی، کراچی میں ٹرامیں اس وقت بھی چلتی تھیں، شہر کی سڑکوں پر بسیں تک نہیں چلا کرتی تھیں، سواری کے لئے عام طور پر سائیکل رکشا، اور گھوڑے گاڑی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اس وقت اندرون شہر ٹرام سفر کا ایک مقبول ذریعہ تھی۔ ایک ٹرام کار میں 46 مسافر بیٹھ سکتے تھے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 18میل (25)کلو میٹر فی گھنٹہ تھی، یہ عام طور پر 12سے 15میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلا کرتی تھی، لکڑی سے بنی ہوئی نشستیں بیک ٹو بیک نصب کی گئی تھیں اور ایک نشست پر 6 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہو تی تھی۔

اگر آپ کراچی کے 50 سال سے زیادہ عمر کے کسی شہری سے ٹرام کے سفر کے حوالے سے گفتگو کریں، تو وہ یقینی طور اس سفر کی خوش گوار یادیں آپ سے شیئر کرے گا۔ کراچی میں ٹرام کا تذکرہ اپنا خاص تاریخی اور سماجی پس منظر رکھتا ہے۔ شہر میں چلنے والی ٹراموں کے آغاز سے انجام تک کا دورانیہ مجموعی طور پر 90 سال (1885ءتا 1975ء( پر محیط ہے۔ رواں سال کے اوائل میں منعقدہ پانچویں سالانہ کراچی کانفرنس میں ٹرام کی بحالی کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں متعدد مقررین نے کراچی میں ٹرام سروس کی بحالی کی نہ صرف تائید کی تھی، بلکہ اسے کراچی کے شہریوں کی دل کی آواز بھی قرار دیا۔لیکن 8 ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، یہ پروجیکٹ ابھی تک فائل میں موجود ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ کی فائل اب تک ابتدائی مراحل بھی طے نہیں کر سکی ہے۔ ٹران بحالی کے منصوبے پر عمل ہوتا ہے یا نہیں، ایک الگ بحث ہے۔ یہاں ہم شہر قائد میں ٹرام کے تاریخی اور فنی ارتقا کا جائزہ لیتے ہیں جو یقیناً آپ کے لئے دلچسپ اور معلوماتی ثابت ہو گا۔

کراچی میں ٹرام چلانے کا نظریہ کراچی میونسپل کمیٹی کے سکریٹری جیمز اسٹریچن نے پیش کیا تھا، پروجیکٹ پر کام شروع ہوا اور 1881ءمیں پروجیکٹ کے لئے ٹینڈر طلب کئے گئے۔ لندن سے تعلق رکھنے والے ایڈورڈ میتھئیوز نے ٹرام سازی کا ٹینڈر پیش کیا۔ 8 فروری1883ءکو اس پروجیکٹ کی تکمیل کے ساتھ ہی کراچی کی سڑکوں پر ٹرام جلانے کے لئے حکومت سے منظوری لی گئی۔ اکتوبر 1884ءمیں اسٹیم پاور سے ٹرام بنانے کا کام شروع ہوا۔ 20 اپریل 1885ءکو وکٹوریہ روڈ موجودہ عبداللہ ہارون روڈکے سامنے سینٹ اینڈریو چرچ کے قریب اس کا افتتاح کیا گیا اور کراچی کی سڑکوں پر ٹرام چلنے لگی۔ لیکن اسٹیم ٹرام میں سب بڑی فنی خامی یہ تھی کہ ہر پندرہ منٹ کے بعد اس میں اسٹیم کے انتظامات کرنا پڑتے تھے جس سے مسافروں اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔ اس مسئلے کے باعث اسٹیم ٹرام جلد ہی ناکام ہوگئی، اس کے بعد گھوڑوں سے چلنے والی ٹرام متعارف کرائی گئی، ہر ٹرام میں دو گھوڑوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ گھوڑوں سے چلنے والی ٹرامیں کئی سال تک چلتی رہیں۔

1910ءمیں پٹرول سے چلنے والی ٹرام متعارف کرائی گئی، 46 نشستوں پر مشتمل یہ ٹرام ایک گیلن پٹرول میں 8 میل یا 12کلومیٹر چلتی تھی۔ اس زمانے میں ایک روپے میں چار گیلن پٹرول فروخت کیا جاتا تھا۔ اس ٹرام کو جان ایبٹ نامی انجینیئر نے ڈیزائن کیا تھا۔اس کے بعد 1945ءمیں شہر میں ڈیزل سے چلنے والی ٹرامیں متعارف کرائی گئیں جو آخر وقت تک چلتی رہیں۔ یہ ٹرامیں ایسٹ انڈیا ٹراموے کمپنی کے تحت چلا کرتی تھیں۔ اس کمپنی کے چیف انجینیئر کا نام جان برنٹن تھا، اسی انجینیئر کی زیر نگرانی کراچی اور کوٹری کے درمیان ریلوے لائن بچھائی گئی تھی۔ کراچی میں تین عشروں سے زائد عرصے تک ایسٹ انڈیا ٹراموے کمپنی کے تحت کراچی کی سڑکوں پر ٹرامیں چلتی رہیں۔

قیام پاکستان کے کم و بیش ڈیڑھ سال بعد ٹراموں کا تمام نظام ایسٹ انڈیا ٹراموے کمپنی نے ایک معاہدے کے تحت محمد علی ٹراموے کمپنی کے حوالے کردیا۔ یہ ٹرام کمپنی کراچی کے ایک شہری شیخ محمد علی نے خرید لی تھی۔ اس کمپنی کے تحت کراچی میں 26 سال تک ٹرامیں چلتی رہیں، آخر کار ایک انتظامی حکم کے تحت اپریل1975ءمیں ٹرامیں چلانے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اس کی بھی کئی وجوہات ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سب سے پہلے ٹرام کا چاکیواڑہ روٹ بند ہوا تھا۔ کراچی میں جس طرح بسوں، رکشاوں اور ٹیکسیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا، ٹرام کے روٹس بتدریج بند ہوتے رہے۔ جس وقت کراچی میں ٹراموں کے چلانے پر پابندی عائد کی گئی تھی اس وقت صرف تین روٹس پر ٹرامیں چلائی جا رہی تھیں، جن میں صدر تا سولجر بازار، صدر تا کینٹ اسٹیشن اور صدر تا بولٹن مارکیٹ شامل ہیں۔ اس طرح کراچی سے پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک بہتر اور تاریخی وسیلہ ختم ہو گیا۔

کراچی میں پہلے ٹرام روٹ کا آغاز 20 اپریل 1985ءکو ہوا، یہ روٹ صدر سے کیماڑی تک بنایا گیا تھا۔ 1891ءمیں صدر سے کیماڑی جانے والے روٹ کو بندر روڈ (موجودہ ایم اے جناح روڈ ) سے لارنس روڈ (موجودہ نشتر روڈ) کی طرف بھی توسیع دے دی گئی تھی۔ ستمبر 1911ءمیں اس روٹ کو فریئر روڈ (موجودہ ڈاکٹر داود پوتا روڈ) تک بڑھا دیا گیا۔ یہ روٹ کراچی کینٹ اسٹیشن تک جاتا تھا۔ فروری 1916ءمیں سولجر بازار تک ایک نیا روٹ متعارف کرایا گیا، جسے مینسفیلڈ اسٹریٹ(موجودہ سیدنا برہان الدین روڈ) سے گزارا گیا ۔22 اکتوبر 1928ء کو چاکیواڑہ کا روٹ متعارف کرایا گیا۔ 1929ءمیں سولجر بازار جانے والی ٹرام کے روٹ میں ترمیم کی گئی اور اس کا نیا روٹ براستہ بندر روڈ مقرر کیا گیا۔ جب کراچی میں ٹرام سروس اپنے عروج پر تھی تو ان تمام روٹس پر چلنے والی ٹراموں کی مجموعی تعداد 94 تھی۔وقت کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کے دیگر ذرائع میسر آنے کی وجہ سے ٹرام روٹس بند ہونا شروع ہوگئے اور آخری وقت 1975ءمیں صرف تین روٹ باقی رہ گئے۔ صدر تا بولٹن مارکیٹ، صدر تا سولجر بازار اور صدر تا کینٹ اسٹیشن، آخرکار ایک انتظامی حکم کے تحت 30 اپریل 1975ءکو کراچی میں ٹرام سروس ہمیشہ کے لئے بند کردی گئی۔

Leave a Reply

Back to top button