سپیشل

کراچی کے ملباری اور ایرانی ہوٹل کہاں گئے؟…… مقبول خان

کراچی میں ملباریوں اور ایرانیوں کے ہوٹل طویل عرصے تک شہرکے سماجی اور معاشرتی منظر نامے کا اہم حصہ رہے ہیں۔ 70ء کے عشرے تک اس شہر کا کوئی رہائشی اور کاروباری علاقہ ایسا نہیں تھا، جہاں ملباریوں کے ہوٹل اور پان سگریٹ کی دکان نہ ہو، جب کہ کئی علاقوں میں ان کے جنرل سٹور بھی تھے۔ دوسری طرف شہرکے کاروباری، ترقی یافتہ اور دیگر اہم علاقوں میں ایرانیوں کے ہوٹل بھی تھے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کراچی میں سندھیوں، بلوچوں سمیت مہاجروں کے بھی ہوٹل تھے، جہاں گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لئے فلمی گانوں کے گرا موفون ریکارڈ بجائے جاتے تھے، لیکن ملباری اور ایرانی ہوٹلوں میں گراموفون نہیں بجاتے تھے، اس کے باوجود ان ہوٹلوں میں صبح سے رات گئے تک کھانے پینے والے لوگوں کا رش لگا رہتا تھا جس کی وجہ ان ہوٹلوں کی چائے کھانے کی اشیاء کا منفرد ذائقہ تھا۔
ایرانی اور ملباری ہوٹلوں کی چائے کا ذائقہ ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہوتا تھا جس شخص کو ایرانی یا ملبار ی ہوٹلوں کے چائے اورکھانے کا چسکا پڑ جاتا تو پھرکسی اور ہوٹل کا رخ نہیں کرتا تھا۔ اسی طرح ملباریوں کی پان شاپ سے پان کھانے والے کسی اور دکان کا پان نہیں کھایا کرتے تھے۔ ملباری اور ایرانی ہوٹلوں میں ایک مشترک قدر بھی تھی کہ ان ہوٹلوں کی دیواروں پر ایک یا دو جگہ یہ ضرور لکھا ہوتا تھا کہ یہاں سیاسی گفتگوکرنا منع ہے لیکن اس کے باوجودگاہک سیاسی گفتگوکیا کرتے تھے۔
ایرانی ہوٹلوں میں فیملی روم بھی ہوتا تھا، جب کہ ملباری ہوٹلوں میں یہ سہولت نہیں ہوا کرتی تھی۔ ملباریوں اور ایرانیوں کے ہوٹلوں کی کہانی قیام پاکستان سے قبل شروع ہوتی ہے۔ اس کہانی سے کراچی میں سماجی زندگی کے کئی پہلو اور ثقافتی جھلک سامنے آتی ہے۔ ان دونوں اقسام کے ہوٹلوں نے اہالیان کراچی کو نہ صرف نئے ذائقہ کا چسکا لگایا بلکہ نئے کھانے بھی متعارف کرائے جن میں انڈاگھٹالا، چلوکباب سیستانی، ماہی کباب، مسکہ بن، سبزی کا سموسہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس زمانے میں پٹھانوں کے چینک ہوٹل برائے نام ہواکرتے تھے۔
ان ہوٹلوں کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کراچی میں ملباریوں کی آمد مرحلہ وار ہوئی۔ یہ لوگ بھارت کی ریاست کیرالہ سے آئے تھے۔ کراچی میں ان کی آمدکا آغاز قیام پاکستان سے 26 سال قبل 1921ء میں ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی کراچی آمدکی بھی کئی وجوہات ہیں جن میں سرفہرست یہ ہے کہ 1921ء میں جب بھارتی ریاست کیرالہ کے ضلع مالاپوم سے تعلق رکھنے والے بے زمین مسلمانوں نے برطانوی راج اور اونچی ذات کے ہندووں کے خلاف مسلح بغاوت شروع کی، جسے انگریزوں کی فوج نے اعلیٰ ذات کے ہندووں کے ساتھ مل کرکچل دیا تھا،کے نتیجے میں بہت سے ملباری مسلمان اپنے آبائی علاقے چھوڑکرکراچی اور بھارت کے شہر ممبئی کے مسلمان علاقوں میں نقل مکانی کرگئے۔کراچی آنے والے ملباری اپنے آبائی علاقے میں چائے کی کاشت کیا کرتے تھے۔ انہیں چائے کی پٹی کے بارے میں وسیع معلومات حاصل تھیں۔ ملباریوں نے انہی معلومات اور تجربے کے سہارے چندکیتلیوں اورسماوار (تانبے کا مخصوص برتن) میں چائے تیارکرکے کراچی کے فٹ پاتھوں اورگھنے درختوں کے سائے میں چائے کے اسٹال لگانا شروع کر دیے۔ انہوں نے محنت سے کام کیا اور بتدریج کراچی میں ان کے ہوٹل قائم ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے شہر بھر میں ملباریوں نے اپنے ہوٹل بنا لئے۔ کراچی کے قدیم علاقے لیاری میں جونا مسجدکے قریب ایک قدیم اور مشہور ملباری کا ہوٹل ہے، جہاں دال فرائی اور پراٹھے کا منفرد ناشتہ دستیاب ہوتا تھا۔ اس ہوٹل کا مالک عبدالقادر بارہ سال کی عمر میں 1948ء میں کیرالہ سے کراچی آیا تھا۔ اس کے کراچی آنے کا مقصدکیرالہ میں اپنے غریب والدین کی معاونت کرنا تھا۔ اس وقت تک کراچی میں ملباریوں کے ہوٹلوں کے کاروبارکی جڑیں پھیل چکی تھیں۔ عبدالقادرنے یہاں اپنے رشتہ داروں کی مدد سے ایک چھوٹا سا ہوٹل قائم کیا، محنت اور لگن کی بدولت اس کا ہوٹل چل پڑا، اور اس ہوٹل کا منفرد ناشتہ دال فرائی اور پراٹھا جلد ہی مشہور ہوگیا۔ یہ منفرد ناشتہ نماز فجرکے ساتھ شروع ہو تا اورگیارہ بجے تک جاری رہتا تھا۔ اس دوران سیکڑوں لوگ ہوٹل میں بیٹھ کر ناشتہ کرتے اور پارسل کرا کر ساتھ بھی لے جاتے تھے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹوکا دور حکومت پاکستان میں سماجی ارتقاء کا ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ ذوالفقارعلی بھٹوکی کامیاب خارجہ پالیسی اور حکمت عملی کے باعث مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پاکستانی ہنرمندوں، محنت کشوں اور تعلیم یافتہ افراد کے لئے ملازمت کے مواقع میسر آنے لگے اور جوق در جوق پاکستانی ملازمت کے حصول کے لئے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں جانے لگے۔ اس موقعہ سے پاکستان میں ہوٹل اور پان سگریٹ کی فروخت کا کاروبارکرنے والے ملباریوں نے بھی فائدہ اٹھایا۔ اور وہ پاکستان سے اپنا یہ کاروبار سمیٹنے لگے، یوں کراچی میں ملباریوں کے ہوٹل اور پان شاپ کی دکانیں بند ہونے لگیں، اور اب یہ صورت حال ہے کہ ڈھائی کروڑ آبادی والے شہر کراچی میں ملباریوں کے گنتی کے ہوٹل اور پان شاپ باقی بچے ہیں۔
ملباری ہوٹلوں کی طرح کراچی میں ایرانی ہوٹل بھی اپنا ایک خاص تاریخی پس منظر رکھتے ہیں۔کراچی میں ایرانی ہوٹلوں کی ابتدا گزشتہ صدی کے اوائل سے ہوتی ہے۔ مذہبی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر لاکھوں پارسیوں اور بہائی مذہب سے تعلق رکھنے والے ایرانی پاکستان اور ہندوستان کے بڑے شہروں بالخصوص بندرگاہی شہروں میں نقل مکانی کرگئے تھے۔کراچی آنے والے پارسیوں اور بہائیوں نے بیکری، چائے کی دکانیں اور ہوٹل بنا کر کاروبار کا آغاز کیا۔ ملباریوں کے برعکس ایرانیوں نے اپنے کاروبارکو کراچی کے اولڈ سٹی ایریا تک محدود رکھا۔ ان کی چائے کی پتی فروخت کرنے کی زیادہ تر دکانیں اور ہوٹل صدر سے لے کرکھارادر تک کے علاقوں میں قائم تھے۔ انہوں نے قیام پاکستان کے بعد آباد ہونے والے لیاقت آباد، ناظم آباد، نارتھ کراچی، حیدری،گلشن اقبال، ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی جیسے علاقوں میں بھی اپنے ہوٹل نہیں بنائے۔ پی ای سی ایچ سوسائٹی کے وسیع وعریض علاقے میں ایرانیوں نے موجودہ طارق روڈ پرکیفے لبرٹی کے نام سے ایک ہوٹل قائم کیا تھا جو اب معدوم ہو چکا ہے۔ اب اس کی جگہ لبرٹی سینٹر قائم ہے۔ ان ہوٹلوں میں سے بیشتر قصہ پارینہ بن چکے ہیں لیکن ان سے وابستہ یادیں آج بھی زندہ ہیں۔
صدر میں کسی زمانے میں چار ایرانی ریسٹورنٹ ہوا کرتے تھے جن میں فریڈرک کیفے ٹیریا جہاں لوگ یاردوستوں کے ساتھ بیٹھ کر منصوبہ بندی کیا کرتے تھے لیکن یہ باتیں نشستند،گفتند اور برخواستندکے سوا کچھ نہیں ہوا کرتی تھیں۔ یہاں پبلک بوتھ بھی لگا ہوا تھا جہاں دس دس پیسے کے دو سکے ڈال کر لوکل کال کی جا سکتی تھی۔ سابق وکٹوریہ روڈ موجودہ عبداللہ ہارون روڈ اور فریئر روڈ موجودہ شاہراہ لیاقت کے انٹرسیکشن پرکیفے جارج مشہور ایرانی ہوٹل تھا۔ اس ہوٹل کے مٹن پیٹس منفرد ذائقہ والی چٹنی کی وجہ سے پورے شہر میں مشہور تھے۔ جس جگہ کیفے جارج قائم تھا، وہاں اب الیکٹرونکس کی مصنوعات فروخت ہو رہی ہیں۔ اس سڑک کے دوسری طرف انڈیا کیفے ہاوس ہوا کرتا تھا۔ تقسیم ہندکے کئی سال بعد تک یہ کیفے اسی نام سے قائم رہا اور بعد ازاں اسے زیلنس کافی ہاوس کا نام دے دیا گیا۔ زیلنس کوکچھ عرصہ بعد ایک ایرانی تاجرنے خرید لیا اوراُسے ایسٹرن کافی ہاوس کا نام دے دیا۔ ایسٹرن کافی ہاؤس جلد ہی شاعروں، ادیبوں، طالب علم رہنماؤں اور ترقی پسند ٹریڈ یونین رہنماوں کے بیٹھنے کا مرکز بن گیا۔ یہاں ممتاز طالب علم رہنما علی مختار رضوی مرحوم اور بلگرامی صاحب شام کے وقت مستقل بیٹھا کرتے تھے۔ یہاں معراج محمد خان، امیر حیدر کاظمی، مسرور حیدر اور این ایس ایف کے رہنماء انقلاب کی باتیں کیا کرتے تھے۔ فریڈرک کیفے ٹیریا اور اور ایسٹرن کافی ہاوس میں چھوٹے چھوٹے فیملی روم بھی بنے ہوئے تھے۔ اس سے آگے الفسٹن اسٹریٹ جو اب زیب النساء اسٹریٹ کہلاتی ہے، میں بھی ایک ایرانی ہوٹل کیفے پرشیئن کے نام سے مشہور تھا۔ اس کے ساتھ پرشیئن بیکری بھی ہوا کرتی تھی۔ اس سے آگے پلیبیان بومن ابادان ایرانی ریسٹورنٹ بھی ہوا کرتا تھا۔ کیفے پرشیئن کے بالمقابل سڑک کی دوسری طرف کیفے گلزار تھا۔ اس کے گاہک مستقل تھے جو علاقے کے کسی اور ہوٹل میں نہیں جاتے تھے۔
کیفے گلزارکے حوالے سے یہ بات مشہور ہے کہ برصغیرکے مایہ نازگلوکار سی ایچ آتما، جن کا تعلق بھی کراچی سے تھا، اس ہوٹل کے مستقل گاہک تھے۔ فلمی صنعت سے وابستہ ہونے پر وہ کراچی سے بمبئی چلے گئے تھے۔ 60ء کی دہائی میں جب وہ کراچی آئے تو وہ جن دومقا مات پر خصوصی طور پرگئے ان میں کلفٹن پر غازی عبداللہ شاہ کا مزار اور صدر میں کیفے گلزار شامل ہیں۔
آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع خیر آبا د ٹی شاپ بھی کراچی کا قدیم ایرانی ہوٹل ہے۔ یہ قیام پاکستان سے 15سال قبل 1932ء میں قائم ہوا تھا۔ خیرآباد جس جگہ واقع ہے وہاں اردو اور انگریزی کے بڑے اخبارات اور نجی چینلزکے دفاتر موجود ہیں۔ اس کے ساتھ یہاں ملٹی نیشنل کمپنیز، بینکوں اور مالیاتی اداروں کے دفاتر بھی ہیں۔ اس پس منظر میں اس ہوٹل کے گاہک عام طور پر متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں صحافی، بینکوں، مالیاتی اداروں، اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ملازمین اور افسران شامل ہیں۔اسی طرح سابقہ وکٹوریہ روڈ پر ہوٹل میٹرپول کے بالمقابل ایرانی ہوٹل کیفے وکٹوریہ کے نام سے مشہور تھا۔ اس ہوٹل کے کھانے بالخصوص ماہی کباب اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے گاہکوں میں مشہور تھے۔ اسی طرح صدرکے علاقے میں لکی اسٹارکے قریب کیفے سبحانی جو عام طور پر چلوکباب سیستانی کے نام سے زیادہ مشہور ہے، بھی کسی وقت مشہور ایرانی ہوٹل ہوا کرتا تھا۔ اب اس کا مالک ایک مقامی شہری ہے۔ ایم اے جناح روڈ اور عبداللہ ہاروں ن روڈ کے انٹر سیکشن پر بھی پہلوی ریسٹورنٹ کے نام سے ایرانی ہوٹل تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور ایرانی ہوٹک کیفے درخشاں کے نام سے ہوا کرتا تھا لیکن یہ تمام ایرانی ہوٹل قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ اتنے بڑے شہر میں اب گنتی کے ایرانی ہوٹل رہ گئے ہیں، باقی کی بس یادیں ہی بچی ہیں۔
کراچی میں ملباریوں کے ہوٹلوں کا خاتمہ اپنے پس منظر میں معاشی وجوہات کا حامل ہے، جبکہ ایرانی ہوٹلوں کے خاتمہ کی وجوہات مذہبی اورامن وامان کی وجوہات ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور اقتدار جب دہشت گردی کے واقعات رونما ہونے لگے تو چونکہ بیشتر ایرانی ہوٹلوں کے مالکان پارسی تھے یا ان کا تعلق بہائی مذہب سے تھا، اس لئے انہوں نے صورت حال کے پیش نظر اپنے کاروبارکو سمیٹنا شروع کر دیا۔ اس طرح بیشتر پارسی اور بہائی پاکستان سے نقل مکانی کر گئے۔

Leave a Reply

Back to top button