سپورٹس

کرکٹ کے ناقابلِ تسخیرعالمی ریکارڈز…… محمد صفدر ٹھٹوی

کھیلوں کی دُنیا میں ریکارڈ کا بننا اور ٹوٹنا اہم بات نہیں۔ کھیلوں کے عالمی ریکارڈز ہر ٹورنامنٹ میں ٹوٹتے نظر آتے ہیں۔ دُنیا کے ہر کھیل میں کچھ ریکارڈز ایسے بن جاتے ہیں جن کا ٹوٹنا ممکن نظر نہیں آتا۔ خاص طور پر کرکٹ کی دُنیا میں ریکارڈز کی بھرمار لگی رہتی ہے۔ کرکٹ دُنیا کا وہ اہم کھیل ہے جس میں عالمی ریکارڈ کی تعداد دیگر کھیلوں سے کہیں زیادہ ہے۔ کرکٹ میں بھی کئی نئے نئے ریکارڈز قائم ہوئے اور ان کی جگہ نئے ریکارڈز نے لے لی۔ مگر کرکٹ میں بہت سے ایسے ریکارڈ بھی ہیں جن کا ٹوٹنا بظاہر ممکن نہیں۔ ایسے ہی کچھ ناقابلِ تسخیر ریکارڈز کا مختصر جائزہ یہاں پیش ہے۔
ویسٹ انڈیز کے عالمی شہرت یافتہ بیٹسمین برائن لارا نے اپنے کرکٹ کریئر میں کئی اہم ریکارڈز قائم کیے۔ برائن لارا نے ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے بڑی اننگز 400 رنز ناقابلِ شکست 2004 میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلی۔ برائن لارا نے ہی فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں سب سے بڑی اننگز 501 رنز کھیلی۔ یہ ریکارڈ تیز رفتار کرکٹ میں ناقابلِ تسخیر لگتے ہیں۔

فرسٹ کلاس کرکٹ کا ناقابلِ تسخیر اہم ریکارڈ سرجیک ہوبس نے فرسٹ کلاس میں سب سے زیادہ رنز 61760 اور سب سے زیادہ 199 سنچریاں سکور کر کے قائم کیا۔ جیک ہوبس نے 61 ٹیسٹ میچوں میں 15 سنچریاں بھی سکور کیں۔
انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے سپنر جم لیکر نے ٹیسٹ میچ میں 19وکٹیں حاصل کرنے کا عالمی ریکارڈ 1956ء میں آسٹریلیا کے خلاف قائم کیا۔ جیم لیکر نے پہلی اننگز میں آسٹریلیا کے خلاف 9 وکٹیں اور دوسری اننگز میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔

جم لیکر
جم لیکر نے 90 رنز کے عوض 19 وکٹیں لیں۔
آسٹریلیا کے مایہ ناز بیٹسمین ڈان بریڈمین کی ٹیسٹ کرکٹ میں رنز بنانے کی اوسط 99.9 رنز رہی۔ یہ ایسا ریکارڈ ہے جس کا ماڈرن کرکٹ میں ٹوٹنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
ڈان بریڈ مین
ڈان بریڈ مین اپنے ٹیسٹ کریئر میں رنز بنانے کی اوسط 100 بھی کرسکتے تھے اگر وہ اپنے آخری میچ میں صرف چار رنز سکور کر لیتے لیکن بد قسمتی سے وہ اپنے آخری میچ میں گولڈن ڈک پر آﺅٹ ہو گئے۔
بھارت سے تعلق رکھنے والے مایہ ناز بیٹسمین سچن ٹنڈولکر بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ سچن ٹنڈولکر کے پاس 200 ٹیسٹ میچوں میں شرکت کرنے کا منفرد عالمی ریکارڈ ہے۔
سچن ٹینڈولکر
اس دور میں تو 100 ٹیسٹ میچوں کے سنگ میل تک جانا بہت اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ اب کسی کرکٹر کے لیے 200 ٹیسٹ میچوں میں ملک کی نمائندگی ایک خواب کی مانند ہے۔
انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق مایہ ناز بلے باز گراہم کوچ کا شمار اپنے دور کے بہترین بیٹس مینوں میں ہوتا ہے۔ گراہم کوچ کے پاس ایک ٹیسٹ میچ میں مجموعی طور پر 456 رنز بنانے کا ریکارڈ ہے۔
گراہم گوچ
گراہم کوچ نے میچ کی پہلی اننگز میں 333 رنز کی انفرادی اننگز کھیلی اور اس میچ کی دوسری اننگز میں انہوں نے 123 رنز سکور کیے۔ اس طرح مجموعی طور پر ایک ٹیسٹ میچ میں انہوں نے 456 رنز سکور کر کے یہ اعزاز حاصل کیا۔
سری لنکا کی ٹیم نے بھی اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو کر کئی عالمی ریکارڈز قائم کیے ہیں۔ سری لنکا کی ٹیم نے ٹیسٹ کرکٹ کی ایک اننگز میں 6 وکٹوں پر 952 رنز بنا کر دُنیائے کرکٹ کو حیرت زدہ کر دیا۔ سری لنکن ٹیم کا یہ ریکارڈ توڑنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
آج کی ماڈرن کرکٹ میں اَن فٹ ہو جانے کے باعث کھلاڑی مسلسل کرکٹ کھیلتے کم دکھائی دیتے ہیں مگر آسٹریلیا کے کامیاب بلے باز ایلن بارڈر ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے مسلسل 153 ٹیسٹ میچ کھیل کر ایسا ریکارڈ قائم کیا ہے جس کے قریب فی الحال کوئی بھی کرکٹر پہنچنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
ایلن بارڈر
اس دور کی کرکٹ میں کریئر مختصر ہو کر رہ گیا ہے اور ہر میچ میں ملک کی نمائندگی کرنا بھی بڑا مسئلہ ہے تاہم سری لنکا کے جادوگر سپنر مرلی دھرن نے اپنے طویل کرکٹ کریئر میں 800 وکٹیں حاصل کر کے ناقابلِ تسخیر ریکارڈ قائم کیا ہے۔
جنوبی افریقہ کی کرکٹ تاریخ کے کامیاب ترین کپتان گریم سمتھ نے 101 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کے فرائض سرانجام دے کر دیگر کھلاڑیوں کو امتحان میں ڈال دیا۔ گریم سمتھ کا یہ ریکارڈ توڑنا کسی کے بس میں نہ ہو گا۔
ٹیسٹ کرکٹ میچ میں سکور کرنے کے لیے شراکت کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے سری لنکن ٹیم کے مایہ ناز بیٹسمین جے وردھنے اور کمارسنگاکارا نے 2006 میں کولمبو کے مقام پر شراکت کرتے ہوئے 642 رنز سکور کر ڈالے۔
جے وردھنے اور کمار سنگاکارا
پاکستانی بیٹسمین محمد یوسف نے شاندار بلے بازی سے ٹیسٹ کرکٹ کے ایک کلینڈر ایئر میں سب سے زیادہ 1788 رنز بنا کر تاریخ ساز کارنامہ سال 2006 میں سرانجام دیا۔ محمد یوسف نے ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیاب کرکٹر ووین رچرڈز کا 1976 میں قائم کردہ 1710 رنز کا ریکارڈ 30 سال بعد اپنے نام کیا۔
محمد یوسف
محمد یوسف نے اسی سال ٹیسٹ کرکٹ میں ایک سال میں سب سے زیادہ 9 سنچریوں کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا۔ اس سال محمد یوسف نے 202 رنز کی بڑی اننگز بھی کھیلی۔
پاکستانی آل راﺅنڈر وسیم اکرم نے ٹیسٹ کرکٹ میں آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 257 رنز سکور کیے۔
وسیم اکرم
وسیم اکرم نے یہ کارنامہ 1996 میں انجام دیا۔ وسیم اکرم دُنیا کے واحد بولر ہیں جنہوں نے دو مسلسل ٹیسٹ میچوں میں ہیٹ ٹرک کرنے کا منفرد کارنامہ سر انجام دیا۔
پاکستان کے لٹل ماسٹر ورلڈ کلاس بلے باز حنیف محمد نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ وقت 970 منٹ وکٹ پر ٹھہر کر 1958 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف یہ منفرد کارنامہ سرانجام دیا۔
حنیف محمد
آج تک کوئی بھی بلے باز 900 منٹ تک کریز پر نہ ٹھہر سکا۔ حنیف محمد کا یہ منفرد ریکارڈ بھی آج تک بیٹسمینوں کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button