Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
تازہ ترینخبریںفن اور فنکار

کسی کو حق نہیں کہ وہ میری ’کمر‘ پر ہاتھ رکھ کر سیلفی لے

’ایسا عمل تو کوئی دوست بھی نہیں کرتا جب تک کہ دونوں ’رضامند‘ نہ ہوں اور لوگوں کو مذکورہ مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ماڈل، اداکارہ و میزبان انوشے اشرف نے ساتھ کام کرنے والے شخص کے رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دوست اور کام کرنے والے ساتھی میں فرق ہے۔

اداکارہ نے 29 نومبر کو مختصر ٹوئٹ میں کسی کا نام لیے بغیر ایک ساتھ کام کرنے والے شخص کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا۔

ماڈل و اداکارہ نے واضح نہیں کیا کہ ان کے ساتھ کس نے کون سا غلط عمل کیا، تاہم ان کی ٹوئٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے کسی ’کلیگ‘ نے ان کے ساتھ کسی محفل یا پروگرام میں ان کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سیلفی بنانے کی کوشش کی، جس پر انہوں نے برہمی کا اظہار کیا۔

انوشے اشرف نے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’کسی بھی شخص کے ساتھ کام کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اس شخص کی ’بے بی‘ بن گئیں‘

اداکارہ نے لکھا کہ ساتھ کام کرنے والے افراد کو ’ساتھی‘ اور ’دوست‘ کے فرق کو سمجھنا ہوگا اور انہیں اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ شخصی ’پرائیویسی‘ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

ماڈل و اداکارہ نے لکھا کہ ساتھ کام کرنے والے شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ انہیں اپنا دوست یا ’بے بی‘ سمجھ کر کسی محفل میں ان کی ’کمر‘ پر ہاتھ رکھ کر ان کے ساتھ سیلفی بنائے۔

انوشے اشرف نے واضح نہیں کیا کہ کیا ان کے ساتھ کسی نے ’کمر‘ پر ہاتھ رکھ کر سیلفی بنانے کی کوشش کی یا نہیں؟ اور نہ ہی انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے مذکورہ ٹوئٹ ذاتی تجربے کی بنیاد پر کی یا کسی دوست کے ساتھ ہونے والے واقعے کو بیان کیا۔

اداکارہ کی ٹوئٹ کو متعدد افراد نے ری ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا اور ساتھ ہی ان سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ شخص کا نام بھی لکھیں۔

ان کی ٹوئٹ کو وکیل اور ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی سربراہ نگہت داد نے بھی ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایسا عمل تو کوئی دوست بھی نہیں کرتا جب تک کہ دونوں ’رضامند‘ نہ ہوں اور لوگوں کو مذکورہ مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ان کی طرح دیگر افراد نے بھی ان کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’دوست کو بھی ایسا کرنے کا حق نہیں پہنچتا اور ایسا کرنے کے لیے ’رضامندی‘ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!