ادب

کسے کہیں گے، کسے سنیں گے (غزل)…… نعیم سلہری

کسے کہیں گے، کسے سنیں گے، وہی نظر میں ہے انگ ٹھہرا
بس ایک موسم رہا ہے دل میں، بس ایک آنکھوں میں رنگ ٹھہرا
ہزار خدشے ستا رہے ہیں، کہ رات کالی ہے ہو گا کیا
جسے مسیحا سمجھ رہے تھے وہی سفر میں ہے دنگ ٹھہرا
جو پھر مصیبت پڑی شہر پہ، تو لاکھ سارے پکارو گے
جسے نکالا ہے دوش دے کر، کہاں وہ جانے ملنگ ٹھہرا
ہمیں سناؤ نہ تم پڑاؤ کی بات ہم کو ستائے گی
عجیب لمحوں کی دوستی میں سفر ہمارا ہے سنگ ٹھہرا
وہ ایک موسم جسے ترستی رہی نگاہیں نہ پاس آیا
ہزار موسم بدل گئے ہیں وہ ایک موسم ہی تنگ ٹھہرا

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button