Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
تازہ ترینخبریںصحت

کمزور مدافعتی نظام کی نمایاں علامات

کورونا وائرس سے ہٹ کر بھی مضبوط مدافعتی نظام متعدد امراض سے جسم کو لڑنے میں مدد دیتا ہے بلکہ کئی بار تو بیمار ہونے سے بھی بچالیتا ہے۔

ایسا مانا جاتا ہے کہ مضبوط مدافعتی نظام کورونا وائرس کی شدت کو معتدل یا بہت کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

کورونا وائرس سے ہٹ کر بھی مضبوط مدافعتی نظام متعدد امراض سے جسم کو لڑنے میں مدد دیتا ہے بلکہ کئی بار تو بیمار ہونے سے بھی بچالیتا ہے۔

یعنی مدافعتی نظام کو امراض سے لڑنے اور جسم کو جلد صحتیاب ہونے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

مگر یہ نظام کمزور، کم متحرک، بہت زیادہ متحرک یا غلطی سے جسم پر حملہ آور بھی ہوسکتا ہے۔

مدافعتی نظام کے مسائل مختلف علامات، الرجی ری ایکشن یا مسلسل بیماری کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔

مدافعتی نظام کے مسائل کی نشانیاں یا علامات درج ذیل ہیں۔

آنکھیں خشک ہونا
آنکھوں کا بہت زیادہ خشک ہونا مدافعتی نظام کے مسائل کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔

Sjögren’s سینڈروم نامی عارضے میں مدافعتی نظام آنکھوں کی نمی بحال رکھنے والے آنسوؤں کو خش کردیتا ہے، جس سے آنکھیں خشک، سرخ ہوسکتی ہیں اور آنکھوں میں مٹی کی موجودگی کا احساس ہوسکتا ہے۔

اسی طرح بینائی دھندلانے یا قرنیے کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔

ڈپریشن
ڈپریشن بھی مدافعتی نظام کے مسائل کی ایک علامت ہوسکتی ہے، کمزور مدافعتی نظام سائٹوکائین نامی خلیات کو سگنل بھیجتا ہے۔

اس کے نتیجے میں ایسے کیمیکلز میں کمی آتی ہے جو مزاج کو خوشگوار بناتے ہیں، مگر اچھی بات یہ ہے کہ ورزش سے ان کیمیکلز کی سطح بڑھایا جاسکتا ہے، ورم کم ہوتا ہے اور ڈپریشن گھٹ جاتا ہے۔

جلد پر خارش
چنبل کی خارش ایک الرجی ری ایکشن کا نتیجہ ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کا مدافعتی نظام بہت زیادہ متحرک ہوگیا ہے۔

ایسی حالت میں مدافعتی نظام ورم کے ساتھ جلد کے خلیات پر حملہ آور ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں سرخ اور تکلیف دہ دانے ابھرنے لگتے ہیں۔

معدے کے مسائل
معدے اور آنتوں کے مسائل بھی مدافعتی نظام کے مسائل کی علامت ہوسکتی ہے، ہیضہ، پیٹ درد، پیٹ پھولنا اور بلاوجہ جسمانی وزن میں کمی معدے یا آنتوں کے مختلف امراض کی نشانیاں ہوتے ہیں، جو مدافعتی نظام کے بہت زیادہ متحرک ہونے کا نتیجہ ہے۔

ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑنا
کیا آپ کے ہاتھ سرد موس میں سفید یا نیلے ہوجاتے ہیں؟ اس طرح کے مسائل میں ہاتھوں اور پیروں کو سرد موسم کے باعث خون کا بہاؤ سست ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں جلد کو ٹھنڈ ک احساس ہوتا ہے اور رنگ بدل جاتا ہے۔

یہ ایک آٹو امیون عارضہ ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تھائی رائیڈ گلینڈ مدافعتی نظام کے باعث کم متحرک ہوگئے ہیں۔

بال گرنا
آپ کا مدافعتی نظام بالوں کی جڑوں پر حملہ آور ہوکر ان کو نقصان پہنچا سکتا ہے جس کے نتیجے میں بال گرنے لگتے ہیں۔

دیگر مدافعتی نظام جیسے سر کے مساموں میں پلاک کا اجتماع بھی بالوں کے گرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

سورج سے حساسیت
مدافعتی نظام کے مسائل آپ کو سورج کی روشنی کے حوالے سے بہت حساس بنا سکتا ہے۔ اگر آپ Lupus سے متاثر ہوں تو سورج کی روشنی میں کچھ دیر رہنا بھی جلد کو آسانی سے جلا دیتا ہے۔

جوڑوں کی تکلیف
اچانک جوڑوں میں تکلیف، سوجن اور اکڑنا جوڑوں کے امراض کی ایک علامت ہوسکتی ہے، یہ امراض مدافعتی نظام کے مسائل کا نتیجہ ہے جس میں جوڑوں کے ٹشوز ورم کا شکار ہوجاتے ہیں۔

زخم دیر سے بھرنا
اگر آپ کا مدافعتی نظام سست ہوگا تو معمولی زخم بھرنے میں بھی دیر لگے گی۔ صحت مند مدافعتی نظام کسی زخم پر برق رفتاری سے ردعمل ظاہر کرکے جلد بھرتا ہے۔

اگر آپ کے زخم ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ مدافعتی نظام کم متحرک ہے۔

ہر وقت بیماری کا سامنا
اکثر نزلہ زکام یا فلو سے بیمار رہنا بھی کمزور مدافعتی نظام کی علامت ہوسکتا ہے۔

اگر آپ کو ایک سال میں 4 یا اس سے زیادہ بار کانوں کے انفیکشن، نتھنوں کے دائمی امراض یا سال میں 2 بار نمونیا یا سال میں 2 بار یا اس سے زیادہ مرتبہ اینٹی بائیوٹیکس کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ کمزور مدافعتی نظام کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

تھکاوٹ
جسمانی سرگرمیوں کے بعد اکثر تھکاوٹ کا سامنا ہوسکتا ہے مگر ایسا تجربہ اکثر ہو یہاں تک کہ نیند کے بعد بھی، تو یہ سست مدافعتی نظام کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔

کئی بار کمرے میں تھوڑی سی چیل قدمی بھی بری طرح تھکا دے تو یہ بہت زیادہ متحرک مدافعتی نظام کی وجہ سے ہوسکتا ہے جو ورم کو متحرک کرکے شدید تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!