تازہ ترینخبریںصحتٹیکنالوجی

کورونا وائرس کی موجودگی پر جگمگانے والے فیس ماسک کی تیاری

پی سی آر اور اینٹی جن ٹیسٹنگ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ماہرین کی جانب سے علامات کی نشاندہی کرنے والی ایپس، تھرموگرافک کیمرے، جانوروں اور بائیو سنسرز وغیرہ پر کام کیا جارہا ہے۔

سائنسدانوں کی جانب سے مسلسل ایسے نئے ذرائع پر کام کیا جارہا ہے جن کے ذریعے کورونا وائرس یا تشخیص میں مدد مل سکے۔

پی سی آر اور اینٹی جن ٹیسٹنگ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ماہرین کی جانب سے علامات کی نشاندہی کرنے والی ایپس، تھرموگرافک کیمرے، جانوروں اور بائیو سنسرز وغیرہ پر کام کیا جارہا ہے۔

مگر جاپانی سائنسدانوں نے لوگوں کے ارگرد کورونا وائرس کی موجودگی کو جاننے کے لیے ایک نئے اور منفرد طریقہ کار پر کام شروع کردیا ہے۔

کیوٹو یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے ایسے فیس ماسکس تیار کیے جارہے ہیں جو الٹرا وائلٹ روشنی میں اس وقت جگمگانے لگتے ہیں جب ان پر کورونا وائرس موجود ہو۔

ان ماسکس کی آزمائش ایک تحقیق میں کی گئی اور اب تک نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں۔

اس مقصد کے لیے محققین نے شتر مرغ کے انڈوں سے اینٹی باڈیز کو لے کر انہیں ناکارہ کورونا وائرس میں انجیکٹ کردیا۔

محققین کے مطابق شتر مرغ کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ متعدد اقسام کی اینٹی باڈیز کو تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس کے بعد ایک فلٹر کو تیار کیا گیا جس پر شتر مرغ کے انڈوں سے حاصل کی گئی اینٹی باڈیز کی کوٹنگ ک گئی۔

جب ان ماسکس کو پہنا کر اتارا جائے تو یہ فلٹر کو باہر نکالا جاسکتا ہے اور پھر ایک کیمیکل اسپرے کیا جاتا ہے، اگر ان پر کورونا وائرس موجود ہو تو وہ الٹرا وائلٹ روشنی میں جگمگانے لگتا ہے۔

اس تحقیق میں 32 ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جو تمام کورونا وائرس سے متاثر تھے اور ان سب کے ماسک الٹرا وائلٹ روشنی میں جگمگانے لگے۔

محققین کو توقع ہے کہ وہ جلد 150 افراد پر فیس ماسکس کی آزمائش کرسکیں گے۔

محققین کی خواہش ہے کہ ان کے تیار کردہ ماسک ہر ایک کے لیے دستیاب ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ ہم کم قیمت میں شتر مرغ کے انڈوں سے بڑے پیمانے پر اینٹی باڈیز تیار کرسکتے ہیں، مستقبل میں ہم ان ماسکس کو ہر ایک کے لیے آسانی سے دستیاب ٹیسٹنگ کٹس بنانا چاہتے ہیں۔

اس ماسک کا خیال تحقیقی ٹیم کے سربراہ یاشیرو سوکوماٹو کو کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد آیا تھا۔

انہوں نے بتایا ‘میں اپنے ماسک کی تیاری کے قابل اس لیے ہوا کیونکہ میں خود کووڈ سے متاثر ہوا تھا اور نتائج ہماری توقع سے زیادہ بہتر ہیں’۔

Leave a Reply

Back to top button