Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
تازہ ترینخبریںصحت

کورونا کے ایک ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ، شرح 2 فیصد سے بڑھ گئی

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 46 ہزار 585 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے ایک ہزار 85 کے نتائج مثبت آئے۔

ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 2.32 فیصد رہی اور مزید ایک ہزار 85 کیسز سامنے آئے۔

پاکستان میں کورونا کیسز میں حالیہ اضافہ وائرس کی نئی قسم ’اومیکرون‘ کے تیزی سے سامنے آنے والے کیسز کے باعث دیکھا جارہا ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 46 ہزار 585 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے ایک ہزار 85 کے نتائج مثبت آئے۔

اس کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 افراد کورونا کے سبب زندگی کی بازی ہار گئے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں رپورٹ ہونے والے کورونا وائرس کیسز اور اموات کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

سندھ: 578 کیسز، ایک موت

پنجاب: 360 کیسز

خیبر پختونخوا: 36 کیسز، 3 اموات

بلوچستان: ایک کیس، ایک موت

گلگت بلتستان: کوئی کیس نہیں

آزاد کشمیر: 6 کیسز

اسلام آباد: 104 کیسز

این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں ویکسینز کی 7 لاکھ 50 ہزار 392 خوراکیں لگائی گئیں جبکہ مجموعی طور پر 16 کروڑ 6 لاکھ 51 ہزار 5 خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز این سی او سی کے سربراہ اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ حالیہ لہر کے دوران وبا کا سب سے زیادہ اثر کراچی پر آنا شروع ہوا، گزشتہ 2 ہفتوں میں سندھ میں کورونا کیسز میں صرف 166 فیصد کا اضافہ ہوا لیکن اسی عرصے میں کراچی میں 940 فیصد کا اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ کہا جارہا ہے اومیکرون پھیلتا تو بہت تیزی سے ہے لیکن اتنا مہلک نہیں، اس کے باوجود یاد رکھیں کہ اس سے فرق پڑتا ہے کیوں کہ جنوبی افریقہ میں ہسپتالوں تک پہنچنے والے افراد کی تعداد 700 فیصد بڑھی ہے۔

اسد عمر نے مزید بتایا کہ امریکا میں کورونا وائرس کیسز کے سبب اسپتالوں میں داخل ہونے کی شرح 92 فیصد بڑھی ہے جبکہ برطانیہ میں 134 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار کے حساب سے جو واضح فرق سامنے آیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں لوگوں نے جنوبی افریقہ کے مقابلے میں بڑی تعداد میں ویکسی نیشن کروائی ہوئی ہے۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس 12 سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں میں کورونا وائرس سے بیمار ہونے اور کچھ کیسز میں شدید بیماری کے شواہد بھی آئے ہیں، اس لیے انہیں بھی ضرور ٹیکہ لگایا جائے۔

اسد عمر نے کہا تھا کہ گزشتہ 7 روز کی اوسط دیکھی جائے تو پورے ملک کے 60 فیصد کیسز صرف کراچی اور لاہور میں سامنے آئے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ اس وقت موجود ویکسین اومیکرون کے خلاف بہت مؤثر ہیں، اس لیے جنہوں نے ایک خوراک لگائی ہے وہ دوسری ویکسین لگائیں اور جنہیں 6 ماہ ہوگئے ہیں اور ان کی عمر 30 سال سے زائد ہے وہ بوسٹر ڈوز لگوائیں۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!