Uncategorized

کویت میں نئی نسل کے اردو قلمکار

افروز عالم۔۔۔
آج کے اس دور میں جدید میں جب کہ عالمی ذرائع ابلاغ برقی توانائیوں کے سہارے بام عروج کو چھو رہے ہیں انسان کی نظر سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ایسی ہی ایک نظر جب سرحدوں کو عبور کرتی ہوئی کویت کی نئی نسل پر پڑی تو مدیر\” مژگاں\” جناب نوشاد مومن نے خاکسار کو حکم صادر کیا کی نئی نسل کی خبر لی جائے اور ضبط تحریر ادارہ مژگاں کو جلد از جلد جمع کی جائے
ہر نیا پل مستقبل کی طرف بڑھتے ہوئے ماضی میں گم ہو جاتا ہے یہی تغیر وقت کا موجد ہے وقت اپنے تمام تر مد و جزر کے ساتھ ہر لمحہ ایک نئی تاریخ رچتا رہتا ہے کسی بھی شعبہ حیات میں جھانکے تو کبھی طرش اور کبھی شیریں یادوں کے ساتھ تاریخ ہمارا استقبال کرتی ہے اردو ادب کی سات سو سالہ ادبی تاریخ کو غور و فکر کے ساتھ مطالعہ کریں اور نتائج نچوڑیں تو کئی ادوار وجود میں آتے ہیں یہ ادوار کبھی میر ، کبھی غالب ، کبھی حالی ۔ کبھی اقبال تو کبھی فیض جیسی شخصیات کے کہلائے۔
یہ بات اب جگ ظاہر ہو چکی ہے کہ پاک و ہند سے باہر اردو کی کئی نئی بستیاں آباد ہو چکی ہیں اور یہ بستیاں اتنی قدیم ہو چکی ہیں کہ اب ان بستیوں کی الگ الگ تاریخ مرتب کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے کویت میں یہ کام محترم سعید روشن کے مبارک ہاتھوں سے اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے
کویت میں موجود محققین کے مطابق کویت میں ۱۹۵۳ء سے ارد و ادب کے آثار ملتے ہیں اور ایک محترمہ محققہ نے ۱۹۲۲ء میں کویت میں اردو بتا رہی ہیں ۔
کویت میں اب تک کم و بیش دوسو سے زیادہ ادیب و شاعر تلاش رزق میں پردیس جھیل چکے ہیں جبکہ قریب پچاس سے ساٹھ ادیب و شاعر جن میں افسانہ نگار ، مضمون نگار مضمون نگار ، خاکہ نگار محقق ۔۔۔سبھی شامل ہیں جو بہ سلسلہ روزگار ابھی بھی کویت میں موجود ہیں وقت کے ریلے میں کئی نئے کردار آئے اور اپنا رول ادا کر کے اپنے وطن کو واپس چلے گئے، کچھ اللہ کو پیارے بھی ہو چکے ہیں ۔
دوستو اس تحریر کا مقصد کویت میں موجود نئی نسل کے ان ادباء کا تعارف کروانا ہے جن کے دم سے کویت میں اردو ادب کا چراغ مستقبل میں روشن رہنے کی امید ہے اللہ اس سلسلے کو قائم ودائم رکھے تاکہ دنیا کا کوئی بھی خطہ غیر اردو خطہ نہ کہلائے۔ابھی تک کویت میں کوئی ایسا لکھاری نظر نہیں آیا جو کہ کویت میں پیدا ہوا ہو اور پلا بڑھا ہو۔ جیسا کہ مذکورہ بالا سطور میں عرض کیا گیا ہے کہ کویت ایک جائے روزگار ہے اور تلاش رزق میں اہل قلم یہاں پہنچتے ہیں اور کویت کے ادبی دھارے میں شامل ہوتے جاتے ہیں ۔ اس لئے یہاں نئی نسل کا مطلب تیس سال سے کم عمر والے لکھاری نہیں بلکہ وہ لکھاری ہیں جو ابھی جوان ہیں کویت کی محفلوں کو اپنے فن سے رنگ و نور بھر رہے ہیں ،قارئین و سامعین کو اپنے کلام کے سحر میں باندھ رکھا ہے ۔
یوں تو ہرادیب خداداد صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے لیکن یہ چشمہ حالات سے تصادم کے نتیجے میں ابل پڑتا ہے اور لکھاری رفتہ رفتہ تواتر سے لکھنے لگتا ہے، اس لکھنے کے آغاز اور درمیان میں قلمکار کے ماحول اور ذاتی ذہنی رکھ رکھاو کا بڑا ہی عمل دخل ہوتا ہے ۔
پیش نظر فہرست کو مرتب کرنے میں اس نقطے کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ تاریخ پیدائش ۱۹۶۰ء سے پہلے کی نہ ہو اسی بنیاد پر راقم الحروف کی نگاہ مندرجہ ذیل قلمکاروں پر ٹھہرتی ہے محترم سعید نظر کڑپوی کے علاوہ تقریباََ سبھی قلمکاروں نے کویت میں ہی باقائدگی سے لکھنے کا آغاز کیا۔
سعید نظر کڑپوی:خوبصورت چہرہ ، خوبصورت مصرع ، گرم لہجہ، اخوت کا پیکر ، جناب سعید نظر کڑپوی غزل کے رسیا اور ادب کے شیدائی ہیں علامہ شارق جمال ناگپوری کے شاگرد ،محترم داؤد نشاط کے صاحبزادے اور صاحب طرز ادیب و شاعر جناب محمود شاہد کے چھوٹے بھائی ہیں ۔ سعید نظر کا ادب ان کے وراثہ اور ماحول کی مرہون منت ہے جو گھریلو فضا میں نرم نرم پیدا ہوتاہے اور سیاسی تنظیموں سے میل جول میں کاٹ دار لہجہ اختیار کر تا ہے آپ غزل کے علاوہ نعت ، نظم و قطعات بھی لکھتے ہیں آپ کا شعری مجموعہ غم سورج ۲۰۰۱ء میں شائع ہو چکا ہے کبھی کبھار آپ نثر بھی تحریر فرماتے ہیں ۔ جو ماضی میں ادبی رسالوں اور کویت ٹائمز کی زینت بنتے رہے ہیں ۔ یکم جولائی ۱۹۶۱ ء میں آپ آندھرا پردیش کے شہر کڑپہ میں پیدا ہوئے ۔ بی اے کی تعلیم لینے کے بعد پہلے سعودی عرب اور بعد میں کویت کا رخ کیا۔
آپ کے دو نمائندہ اشعار پیش ہیں
عجب آج منظر دکھائی دیا
وہ انساں تھا خنجر دکھائی دیا
صورت گل میں کوئی سنگ تھا مہماں اپنا
اپنا تو کانچ کا گھر تھا جو اچانک ٹوٹا
عیسی بلوچ: اشتراکیوں کی روحوں کا مجموعہ عیسی نسلاََ بلوچ ہیں کال مارکس ، سجاد ظہیر ، فیض احمد فیض جیسے روحانی فلسفیوں سے روحانی فیض حاصل کرتے کرتے ، نجم عکاشی سے مشورہ سخن کرتے رہے ہیں اور سبھی تعلیمات کو اپنے وجود اور ذہن کے اندر جذب کر لینے کے بعد کویت میں نثری نظموں کا نمائندہ شاعر تصور کئے جاتے ہیں ۔
آپ کی نظموں میں خوبصورت اور باکمال لفظیات کا استعمال محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ مشاعروں میں بہت دھیمے انداز میں آپ اپنی نظم سامعین تک پہچاتے ہیں۔ آپ کی تخلیقات ہند د وپاک کے علاوہ بیرونی ملک کے رسالوں میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں ۔
کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کرنے کے بعد کچھ عرصہ صحافت سے بھی جڑے رہیں ، کرکٹ بھی کھیلا ۱۹۹۱ء میں تلاش رزق نے کویت پہنچادیا ، آپ کی نظموں کا مجموعہ \” لفظوں کی پھوار\” منظر عام پر آچکی ہے۔
۲ فروری ۱۹۶۲ء کو آپ کی پیدائش کراچی کے علاقے لیاری میں ہوئی۔
حشمت اللہ شاہین: وضع قطع سے مولانا، گفتار میں نرمی ، باتوں میں شیریں ، جناب حشمت اللہ شاہین کی پیدائش ۲۷مارچ ۱۹۶۴ء کو موضع پنا متصل قیصر گنج ضلع بہرائچ (یوپی) میں ہوئیں۔ لیکن آپ نے لکھنؤ کو اپنا وطن ثانی بنا لیا۔ جہاں آپ چھٹیوں کے ایام گذارتے ہیں۔ڈاکٹر نیاز سلطان پوری نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ شاہین رنگ و نسل کے بتوں کو توڑنے اور بنی نوع انسان کو ایک لڑی میں پرونے کی پر زور وکالت کرتے ہیں۔ کویت سے شائع ہونے والی کتابوں (انتخاب شعر و غزل وغیرہ) میں آپ کا کلام ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔ آپغزل کے علاوہ حمد ، نعت، قطعات بھی لکھتے ہیں۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے دو اشعار پیش کئے دیتا ہوں۔
جسد خاکی بنا نہ تھا جب تک
روح کرتی رہی سفر تنہا
منظر بھی دیکھنا پس منظر بھی دیکھنا
پھولوں کے بیچ جھانکتے خنجر بھی دیکھنا
قمرالدین قمر: مودب ، خوش گلو، جناب قمر الدین قمر بسلسلہ تجارت کویت میں مقیم ہیں۔ ۶ جون ۱۹۷۰ ء کو نمبا ہیڑھ راجستھان میں پیدا ہوئے جناب قمر ادبی اور دینی محفلوں میں اپنے الفاظ کو بہترین آواز کے پیرہن پہناتے ہیں اور خوب خوب داد حاصل کرتے ہیں ۔ راقم الحروف کی مرتب کردہ کتاب فصل تازہ میں آپ کی دس غزلیں شامل کی گئی تھیں ، آپ کے اشعار میں مترنم بحروں اور پردیس کی گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ پر سوز ترنم پر یہ مصرعے مزید تازہ معلوم ہوتے ہیں۔ آپ کے دو شعر یہاں درج ہیں
مہکی ہوئی فضا کا میں آزاد پھول تھا
کس واسطے گلدان میں سجا دیا گیا
مرے خیال کی دنیا میں ہر نئی شب کو
تمہارے حسن کا نور و جمال ہوتا ہے
مقصود احمد مقصود: راقم الحروف کی مرتب کردہ کتاب فصل تازہ پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب شاہد محمود نے لکھا ہے کہ \”مقصود احمد مقصود کی اٹھان اچھی ہے ۔ چھوٹی چھوٹی بحروں میں ان کے شعر متاثر کرتے ہیں انکے یہاں موضوعات کو نئے انداز میں برتنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ جہاں تک اشعار کے معیار اور مزاج کی بات ہے جتنا ان کی زندگی کا تجربہ ہے اتنا ان کے شعر کا قد ہے۔ \”
۷ جنوری ۱۹۷۱ء کو بانسواڑہ راجستھان میں پیدا ہوئے جناب مقصود احمدمقصود بی ائے کی تعلیم رکھتے ہیں ، اور بسلسلہ تجارت کویت میں مقیم ہیں ۔ آپ اردو ادب کی سرپرستی میں بھی دلچسپی لیتے ہیں اور فرماتے ہیں ۔
روک پائیں گے نہ ہر گز اجنبی جنگل اسے
لوٹ کر آئے گا پرندہ پھر شجر پہچان کر
صابر عمر گالسولکر: نہایت ہی خوبصورت الفاظ کا مرکب جناب صابر عمر کی غزلوں میں موضوعات اپنے ارد گرد کے مسائل پہ دل سے اٹھی ہوئی آواز ہے ، ان میں کچھ صدائیں رومانی بھی ہیں ۔ سیدھے سادے مصرعے ، خوبصورت الفاظ کی آمیزش سے مزید نکھر آتے ہیں ، ساحرؔ اور مجاز ؔ آپ کے پسندیدہ شاعر ہیں ۔ آپ کی فکر میں جہاں غم دوراں اور غم جاناں کا وصل ہے وہیں مصرعوں کی تازہ کاری بھی پختہ مزاج قاری کو داد دینے پر مجبور کرتی ہے۔
آپ کے بارے میں جناب شاہد محمود فرماتے ہیں، کہ \”صابر عمر کی غزلوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں شعر کہنے کی صلاحیت ہے۔ اور وہ شعری تقاضوں کو بھی سمجھتے ہیں \”
۴ اگست ۱۹۷۳ء کو دہیولی کوکن میں پیدا ہوئے جناب صابر عمر ک شاعری کا شوق بچپن سے رہا ہے کویت کے سنئیر شاعروں کی حوصلہ افزائی سے موصوف میں مزید حوصلہ پیدا ہوا اور آپ نے غزل کے علاوہ موضوعاتی نظمیں بھی تخلیق کیں۔ کویت میں ادب کے حوالے سے آپ سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں ۔
آج کل آپ \”نشاط کویت\” کے نام سے ایک رسالہ بھی شروع کیا ہے جو بذریعہ ای میل قارئین کو پہنچایا جاتا ہے
نمونۂ شعر درج ذیل ہیں :۔
کچھ گردشوں میں میرا مقدر الجھ گیا
ورنہ مجھے یقین تھا لیل و نہار پر
لوگ پتھر کو پھول کہتے ہیں
شہر کتنا عجیب ہے ساقی
صفدر علی صفدر: بہ شکل محنت کش، دل سے معصوم، فقرہ بازی میں چست ،قہقہون کے معاملے میں حاتم طائی کے نقیب ، تاہم سطحیت سے پاک ، جناب صفدر علی صفدر کویت کی ادبی محفلوں کی جان و ضرورت تصور کئے جاتے ہیں ۔ آپ کا شعری مجموعہ ابھی کچھ کہہ نہیں پایا ۲۰۰۷ء میں منظر عام پر آچکا ہے،
۳ مارچ ۱۹۷۴ء کو شیخوپورہ پنجاب پاکستان میں پیدا ہوئے موصوف غزل کے علاوہ نظمیں بھی بھر پور کہتے ہیں پنجابی زبان میں بھی شاعری کرتے ہیں ، اور محفلوں میں خوب داد وصول کرتے ہیں ۔ آپ کی شاعری کے حوالے سے کویت کی سنئیر شاعرہ ، ادیبہ و محققہ محترمہ مسرت جبیں زیبا نے ایک جگہ لکھا ہے کہ اچھا کہنے لگا ہے اور اکثر اچھا کہہ جاتا ہے کنوارے پن کے ایام میں مبتلا موصوف فرماتے ہیں
کہیں رک جا مری آوارگی، اب تھک گیا ہوں میں
ذرا تھم گردش دورا کہ سکھ کا سانس تو لے لوں
مری چاہت پہ بھی میرے صنم افلاس غالب ہے
غم دنیا سے فرصت ہوں تو تری زلف سے کھیلوں
مسعود حساس: جناب مسعود حساس کویت کی ادبی حلقوں میں مولانا مسعود کے نام سے جانے جاتے ہیں کویت میں نئی نسل کے واحد مزاح گو ، غزل ، نظم اور قطعات کی شکل میں طنز و مزاح فرماتے ہیں۔ موصوف اس کے علاوہ نعت ، غزل و نظم پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں لیکن آپ کی پہچان طنز و مزاح سے ہے۔ درمیانِ شعر عربی عبارتوں کو چسپاں کر کے مزاح نگاری میں اپنی مثال آپ ہیں ، اردو بحر میں عربی عبارت کا ان کا ایک مصرع اب تو کچھ حضرات فقرہ بازی کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں ۔
۲ فروری ۱۹۷۵ء کو یوپی کے ضلع بستی کے دیہی علاقے میں پیدا ہوئے جناب مسعود احمد ، حساس تخلص کرتے ہیں ۔ اور اسلامیات کی اعلی تعلیم رکھتے ہیں۔ کویت کی ادبی فضا میں سانس لینے سے پہلے آپ بسلسہ روزگار دبئی اور عمان میں بھی ایام گزارچکے ہیں لیکن باقائدگی سے لکھنے کا آغاز کویت میں ہوا۔دو شعر پیش خدمت ہے
ہوگئے احباب ہیں اب اسقدر دیدہ دلیر
لفظ کے معنی کو اپنا پیرہن دینے لگے
خاتمی نے جب کہا داشتہ آید بکار
بل کلنٹن اس گھڑی سے داشتہ رکھنے لگے
بدر سیماب: ۲ فروری ۱۹۷۸ء کو کمالیہ پنجاب پاکستان میں پیدا ہوئے جناب بدر سلطان کلئر کا ادبی نام بدر سیماب ہے موصوف بدر تخلص کرتے ہیں لاہور سے بی کام کی تعلیم پوری کرکے کویت کا رخ کیا آپ کا آبائی وطن چچہ وطنی ضلع ساہیوال ہے ۔ نعت ، غزل کے علاوہ نثری نظم بھی کہتے ہیں ۔ کویت کی فعال ادبی تنظیم ارباب فکر وفن کے ذمہ دار عہدے پر فائز ہیں۔ ادبی اور دینی محفلوں میں کثرت سے شرکت کرتے ہیں ۔ جب غزل کی بات ہو تو محبوب کو پاس بٹھا کر غزل لکھتے ہیں ۔سادہ لفظوں میں واردات قلب کو ڈھالنے کے فن سے آشنا ، مافی الضمیر کی ادائیگی میں طاق ۔
چلا آتا ہے بن پوچھے ان آنکھوں کے دریچوں میں
تمہارا چاند سا چہرہ ہمیں سونے نہیں دیتا
ردائے درد اوڑھے جب فصیل یاد پر آکر
کوئی موسم کبھی ٹھہرا تمہیں سوچا تمہیں چاہا
ظفر ناظمی: خوبصورت ترنم اور ہلکے پھلکے جسم کے مالک جناب ظفر ناظمی کے مصرعے بھی لطیف ہوتے ہیں اور خیالات بھی نازک، رم آہوں (شعری مجموعہ) کے خالق جناب ناظم سعیدی کے گھر ۱۲ فروری ۱۹۷۹ء کو پیدا ئش ہوئی ،شاعری وراثت میں ملی ہے (ناظم سعیدی صاحب اسلامی طرز فکر کے شاعر تھے) ظفرؔ پر اپنے ماحول کا اثر خوب ہوا ہے آپ کا تعلق راجستھان سے ہے۔ آپ کے تخلیقی جوہر کے نمونے پیش ہیں
ساتھ میرے آنے والے سوچ لیں ذرا
راستے میں ٹیڑھے میڑھے پتھروں کے شہر میں
ایک تلخ حقیقت ہے جہاں والوں
بلندیوں پر ٹھہرنا محال ہوتا ہے
ان صاحبان کے علاوہ جناب ساجد علی ساجد ، جناب کاشف علی کاشف ، جناب عماد بخاری کے بعد اور کئی نام گاہے بہ گاہے نظر آتے رہتے ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ فہرست مزید طویل اور پرکشش ہوجائے، خاکسار کا شمار بھی اسی فہرست میں کہیں ہوتا ہے
میں بارگاہ خداوندی میں دعاگو ہوں کہ ہمارے ہمعصر مزید فعال ہوں اور شہرہ آفاق لکھاری میں شمار کئے جائیں
تمام تر نیک تمناؤں کے ساتھ
کوئی دعا ہے خداسے تو یہی عالم
کمی کبھی نہ کوی میرے فکر و فن میں رہے
(عالمؔ )

Leave a Reply

Back to top button