ادب

کویت کی سر زمین پر تاریخی اُردو ادب سیمینار

کویت کی سر زمین پر تاریخی اُردو ادب سیمینار اور عالمی مشاعرہ 2016 ؁ء
اردو ادب کی تاریخ پر غور کریں تو کافی وقت درکار ہے مگر اردو جیسی شیرینی اور لطافت کسی بھی زبان میں ملنا محال ہے، اردو ادب کا پیغامِ محبت آنے والی نسلوں کو دینے کے لئے انجمن فروغِ اردو ادب کویت کے بانی وصدر عبداللہ عباسی نے مختلف ممالک سے ذات، نسل وقومیت کی قید سے آزاد صرف اور صرف اردو ادب کے لئے مختلف مماکل سے شاعر وادیب یکجا کر کے کویت کے ایک معروف عالیشان ہوٹل میں ایک خوبصورت محفل سجائی، اس خواہش کے ساتھ کہ
زمین کی سانس میں روشن ہے نغمہء اردو
چمک رہا ہے فلک پر ستارہء اردو
کسے ہے تاب کہ آنکھیں ملا کے بات کرے
لگا کے آیا ہوں آنکھوں میں سُرمہء اردو
وہاں وہاں سے محبت کو نور پھوٹے گا
جہاں جہاں سے سنو گے فسانہء اردو
خوبصورت تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم اور ترجمہ سے ہوا جس کی سعادت عبدالرحمن عباسی نے حاصل کی، حمد ونعت کا شرف قیصر علی خان اور روبیلہ عادل نے حاصل کیا، تقریب کے پہلے حصہ میں اردو سیمینار رکھا گیا جس کی نظامت محمد انعام نے بحسن وخوبی نبھائی اور لطافت سے بھرپور قصوں سے مسلسل محفل کو سجائے رکھا ، رانا اعجاز حسین سہیل نے پہلے مقرر ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور سیمینار کے موضوع پر اپنی گرانقدر تحقیق اور مقالے کا مختصر تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اقصائے عالم میں اردو کا مستقبل نہ صرف روشن بلکہ روشن تر ہے اور فروغِ اردو ادب کے وابستگان کی محبت شاقہ کی بدولت ایسے امکانات موجود ہیں کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی بولی جانے والی زبان کا درجہ حاصل کر سکتی ہے۔
نوجوان جوشیلے شاعر و ادیب سید صداقت علی ترمذی کی رائے کہ موجودہ دور میں اردو سیمینارز، کانفرنسیں، اور مشاعروں کا انعقاد زیادہ ہونا چاہئے جس کے لئے قلمکاروں کو برابر مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی رہنمائی بھی کرنی چاہئے۔
عبدالرحمن عباسی نے فروغِ اردو ادب کے لئے تمام احبابِ سخن سے ملک کر کوششوں کی درخواست کی اور اردو کے مستقبل کو روشن قرار دیا، مولانا حفیظ الرحمن نے مختصر اور جامع تقریر میں اردو کو عام فہم زبان بنانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور کویت میں جمعہ کا خطبہ اردو میں کرنے کی حکومتِ کویت کی اجازت کو خوش آئند قرار دیا، منظر عالم نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھلا ہو ان لوگوں کا اور قابلِ قدرواحترام ہیں وہ لوگ جو اس پُر آشوب دور میں بھی تن من دھن سے اردو زبان کے فروغ میں مصروف ہیں۔
کویت کی معروف شاعرہ وادیبہ مسرت جبیں زیبا کا کہنا تھا کہ اردو کی عالمگیریت اور ہر دلعزیز ادبی ورثہ اقوامِ عالم میں ایک معزز مقام رکھتا ہے، یہ زبان 196 ملکوں میں بولی جانے والی 8500 زبانوں میں چوتھے نمبر پر ہے۔
معروف عالمی شاعر وادیب برطانیہ سے خصوصی شرکت کے لئے آنے والی قد آور شخصیت کے حامل جناب باصر سلطان کاظمی نے برطانیہ میں اردو کا مستقبل بہت حوصلہ افزاء قرار دیا انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے مختلف اسکولز اور کالجز سے وابستہ رہنے کے بعد میں ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں کہ وہاں میں نے کئی طلبا وطالبات کو اردو بولتے سنا، اکثر گھروں میں بھی ہندی وپاکستانی ڈرامے دیکھے جاتے ہیں، اردو کبھی بھی دنیا کے کسی حصے سے ختم نہیں ہو سکتی۔
ہندوستان سے تشریف لائے ہوئے مشتاق احمد نوری نے کہا کہ پریشاں ہے مجعدد مسائل کا شکار اردو کا مستقبل جن امکانات سے وابستگی کا سنجیدہ احساس دلاتا ہے وہ دائمی اور ٹھوس ہیں، معروف داستان گو، ڈرامہ نگار، شاعر وادیب لندن سے تشریف لائے جاوید دانش اردو کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں، یہ ایک زندہ اور عوامی زبان ہے۔ بہت سخت جان ہے اور آج دنیا کے بیشتر ممالک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
قطر ریڈیو سے وابستہ عبید طاہر کا کہنا تھا کہ اردو کو عوامی سطح پر زوال کا کوئی خطرہ نہیں ہے، البتہ سرکاری سطح پر اس کو یقیناًوہ پذیرائی حاصل نہیں ہو رہی جو اس کا حق ہے، جس کے لئے اردو کی تقریبات کا اہتمام کرتے رہنا اور خاموشی کے ساتھ اپنے حصے کی شمع روشن رکھنے کی ضرورت ہے۔
شاعر وادیب تسلیم عارف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے تمام مسائل کی بنیاد میں تعلیم کو رکھنے کی ضرورت ہے، اگر ہم نے اردو خواندگی اور تعلیم کو ملکی سطح پر آزمانے میں کامیابی حاصل کر لی تو اردو زبان سیکھنے کا ایک خوشگوار ماحول قائم ہوگ۔ ڈاکٹر واحد نظیر نے اردو کو نازک صورتحال کا شکار قرار دیا مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انسانی تاریخ شاہد ہے کہ افراد کی کربناکی سے جنم لینے والی طربناکی کی آلامِ روزگار پر ہمیشہ فاتح رہی ہے۔
ہندوستان کے شہر دہلی سے تشریف لائیں مترنم شاعرہ علینا عترت نے مجلہ میں اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کیا کہ آج انٹرنیٹ کا زمانہ ہے ہر گھر میں کمپیوٹر ہے مگر پھر بھی اردو ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اردو کے الفاظ تشکیل و ترجمان ہو رہے ہیں۔ صفدر امام صفدر نے مفصل پیرائے میں انجمن کے سالانہ مجلے میں اپنے خیالات تحریر کروائے اور تحقیقی کالم لکھا، اردو کے فروغ کے لئے کی جانے والی کوششوں کو تیز اور موثر انداز میں کرنے کی تاکید کی۔
اردو ادب کی اس تقریب کے دوسرے حصے میں مشاعرے سے پہلے صدر انجمن فروغِ اردو ادب کویت عبداللہ عباسی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اردو کو محبت کی زبان قرار دیا اور تہذیب کی شناخت سے مشابہت دی اور مختلف ممالک سے آنے والے گرانقدر مہمانوں کی اردو ادب کے لئے کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ فروغِ اردو ادب ہماری، آپ کی اور تمام احبابِ سخن کی ذمہ داری ہے۔
معروف شاعر باصر کاظمی کو خصوصی اردو ادب عالمی ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ داستان گو جاوید دانش کو سال 2016 ؁ء کا اعترافِ خدمات اردو ڈرامہ اور فنِ داستان گوئی کا ایوارڈ دیا گیا۔ عزیز نبیل کو ایک بار پھر فروغِ اردو قطر کا اعزاز ملا، اس کے علاوہ تمام شعراء کو فروغِ اردو ادب کویت کی طرف سے اسنادِ تہنیت پیش کی گئیں، جبکہ کویت میں مقیم نوجوان شاعر وادیب سید صداقت علی ترمذی کو سال 2016 ؁ء کا بہترین شاعر اور جناب ڈاکٹر عمیر بیگ کو 2016 ؁ء کا بہترین ادیب کے اعزاز سے نوازا گیا۔
انجمن فروغِ اردو ادب کویت کے بانی وصدر عبداللہ عباسی نے مشاعرہ کی نظامت کے لئے قطر سے آئے ہر دلعزیز شاعر عزیز نبیل کو دعوت دی، جنہوں نے اپنے اشعار اور ادبی باتوں سے محفل کو گل گلزار بنا دیا، تمام شعراء نے اپنے کلام سے بے حد داد وتحسین سمیٹی، آخر میں تشکر کے الفاظ کہنے کے لئے عبداللہ عباسی آئے جنہوں نے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا، کویت میں موجود ووپ میڈیا شاہد، طارق، اور شہزاد۔ پاک میڈیا خالد جاوید نور، عابد ملک، عاطف صدیقی، اور عامر حمید کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے فیس بک پر براہِ راست مشاعرہ نشر کیا، صحافی حاجی عبدالشکور کا بھی شکریہ ادا کیا اور خاص طور پر سائیں نواز اور فیاض وردگ کی مشاعرہ کے سلسلہ میں خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ آخر میں عبداللہ عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب کا مقصد اردو سمینار کی کویت میں بنیاد رکھنا تھا، ہم خوش نصیب ہیں کہ متعدد ممالک سے آنے والے گرانقدر ادباء نے اس سیمینار کوکویت کی تاریخ میں ایک عظیم شام جو کہ صرف اردو ادب کے لئے رکھی گئی تھی، کامیاب کیا۔
احبابِ سخن صالح بروڈ، حافظ محمد شبیر، کریم عرفان، محمد عارف بٹ، ہوشدار خان، پیر امجد حسین، محمد جمیل، وارث خان، اعجاز احمد، ڈاکٹر ریاض خان، اور محمد شریف نے مختصر خطاب میں عبداللہ عباسی کی کاوشوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ محفلیں اسی شان وشوکت سے منعقد ہوتی رہیں گی۔ اردو زندہ باد
آخر میں مہمانوں کی پُر تکلف عشائیہ سے تواضع کی گئی، اور رات گئے یہ تاریخی تقریب اپنی بہت ساری یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

Leave a Reply

Back to top button