Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
سیلف ہیلپ

کِرنوں سے سورج کا سفر…… سید ثمر احمد

سفر شروع کرنا شرط ہے۔ قلب وذہن سے منزل طے کر لینے کے بعد سفر شروع کرنا شرط ہے۔ راستہ نکلتا جاتا ہے۔ وسائل پیدا ہوتے جاتے ہیں۔ صورت نکھرتی جاتی ہے ……یاور رات کے وقت گاڑی کا اِگنیشن آن کرتا ہے، ہیڈ لائٹس جل جاتی ہیں۔ ان برقی روشنیوں کی عمومی حد زیادہ سے زیادہ 200 میٹر ہو سکتی ہے۔ اب اُسے لاہور سے اسلام آباد تک جانا ہے۔ جب کہ 200 میٹر سے آگے تو اندھیرا ہے، گھور اندھیرا۔ اُسے نظر آرہا ہے کہ گاڑی کی روشنی تو اسلام آباد تک نہیں جا رہی۔ لہذا وہیں کھڑے کھڑے یہ زیادہ بہتر نظر آتا ہے کہ سفر ترک کر دیا جائے اور انتظار کیا جائے کہ کب وہ طلسمی روشنیاں دستیاب ہوں جو لاہور سے شہرِ اقتدار تک راستے کو روشن کر دیں۔ کہیں یہ نہ ہو کہ ہم چلیں اور جگہ جگہ ایکسیڈنٹس منتظر ہوں اور جان پہ بن جائے……دوسری صورت یہ ہے کہ چلا جائے اور دیکھا جائے کہ مختصر روشنیاں کیا گُل کھلاتی ہیں۔ کیا ہم آگے سے آگے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ کوئی تو وجہ ہو گی کہ رات کے وقت بھی کمپنی نے ان محدود فاصلہ کی روشنیوں پہ بھروسہ کیا ہے…… ہم فرض کرتے ہیں وہ پہلی صورت کو چنتا ہے تو ایسی صورت میں وہ چاہے کتنی ہی گاڑی کو ریس دیے رکھے لیکن وہیں کا وہیں رہے گا، ذرا نہ بڑھے گا۔ اور اسے صبح تک انتظار کرنا پڑے گا…… اب ہم فرض کرتے ہیں کہ وہ دوسری صورت کو چنتا ہے اور پہلا گئیر لگا کہ ہلکی سی ریس دیتا ہے۔ ارے یہ کیا؟…… چمتکار ہو گیا۔ جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہا ہے روشنیاں اس سے آگے کا رستہ صاف کرتی جا رہی ہیں۔ یہ تو واقعی معجزہ ہو گیا اور یاور حیران ہوتا ہوا ڈرتا ڈرتا ہولے ہولے بڑھتا رہا یہاں تک کہ اس میں بھرپور اعتماد پیدا ہو گیا اور وہ تیز رفتار لیے ہوئے رات ہی رات میں اپنی منزل تک پہنچ گیا…… اس مثال نے ہماری عقل کو اس لیے حیران نہیں کیا کہ یہ ہمارے لیے روزمرہ کا واقعہ ہے۔ ہم لاکھوں ہی گاڑیوں کو ہر رات ملک بھر میں محوِ سفر دیکھتے ہیں۔ جن کی راہ نما روشنیاں بکھرتی اور نکھرتی جاتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مسافر شب گزرنے کا انتظار نہیں کیا کرتے۔ وہ اپنی بصیرت سے جان لیتے ہیں کہ ”چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر ……آہستہ آہستہ“۔ بالکل اسی طرح:
کوششیں ہی نتیجہ خیز ہوتی ہیں ……
آج کا جدید انسان جان چکا ہے کہ کوئی بولا یا لکھا گیا لفظ اثر چھوڑے بغیر نہیں رہتا۔ سخت پتھر پہ پڑنے والی پہلی ضرب ہی کمزوری کا آغاز بن جاتی ہے۔ جان لو کہ فائدے پھیلے ہوں تو فائدے ملیں گے۔ نقصان پھیلے ہوں تو نقصان ملیں گے۔ کیچڑ ہر طرف ہو تو چھینٹوں سے کیسے بچو گے؟ اور خوشبوئیں ہر طرف ہوں تو مہک سے کیسے بچو گے؟۔ اس لیے برائی اور بھلائی شش طرف پھیلتی ہیں۔ دونوں میں سے جس کے کارکن زیادہ تیز ہو جائیں وہی غالب آیا کرتی ہے۔ اب سمجھ لو کہ خیر کے کارکن خیر کے سفر کا آغاز کریں۔ یہ ہرگز آئیڈیل حالات کے دھوکے میں نہ رہیں ورنہ یہ سفر کبھی شروع نہ ہو سکے گا۔ اور چل پڑیں تو حضورِ اعلی ؐ نے راز بتایا ہے: ”جو معلوم پر عمل کرتا ہے اس کو نامعلوم کا علم عطا کر دیا جاتا ہے“۔ مرشد اقبال ؒنے بجا فرمایا:
تو اے مسافرِ شب خود چراغ بن اپنا
کر اپنے داغِ جگر سے فضا کو نورانی
غلط فہمیوں کے جال……
٭کچھ لوگ چکا چوند سے متاثر ہو کے کہتے ہیں کہ وسائل جتنے زیادہ ہوں گے، خیر کو اتنی ہی طاقت سے پھیلایا جاسکے گا…… ہمارے ایک معزز دوست بھی یہی دلیل پیش کرتے جب وہ اپنی پروفیشنل لائف کے کنارے کھڑے تھے۔ آج دیکھتا ہوں وہ اپنے جذبہ، جوش، ہوش سمیت غائب ہیں۔ مادی دنیا کے جنجال میں کھو گئے ہیں۔ ان کے دعوے زندگی کا عیش حاصل کرنے کے بعد ہوا ہو گئے ہیں۔
٭کچھ معیار کو نہیں مقدار کو اصل مانتے ہیں۔ دماغ نہیں سروں کو چاہتے ہیں۔ بڑا جتھا تیار ہو تب ہم ہلیں۔ گویا جتھا آسمان سے ٹپکے گا۔ لیکن تاریخ نے ان کم عقلوں کو بھی چاروں شانے چِت کر دیا ہے۔ اب گنتی کے لیے سر ڈھیروں ہیں لیکن جس اچھائی کے پھیلاؤ کی یہ بات کیا کرتے تھے وہ معاشرے میں دیوار سے لگی کھڑی ہے۔
٭کچھ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہو فوراََ اس کے دِکھنے کا انتظام کرو۔ گلیمر پیدا کرو۔ ورنہ دنیا کیسے محسوس کرے گی کہ اچھائی بھی پنپ رہی ہے…… ہمیں اس بناؤ سنگھار کی اہمیت کا احساس ہے لیکن”ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات“ ہوں تو ہی آگے کو چل کر ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کر پائیں گے۔ نیز اس انتظار میں کیا بیٹھ رہیں اور تماشا دیکھتے جائیں …… نہیں سفر شروع کرو، روشنیاں مدد کو تب آئیں گی۔ خدا نے بھی یہی کہا کہ ان (نئے ایمان والے قبائل میں سے) چند لوگ سیکھنے کو آجائیں اور پھر واپس جا کے سکھائیں۔ اب ہم تاریخ کی تین مثالوں سے اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہیں:
استادِ زماں ……سقراط……
بقول جوسٹین گارڈر سقراط کی حیثیت تاریخ میں پہیلی کی طرح ہے۔ کوئی بھی تحریر دنیا میں موجود نہیں ہے لیکن اس نے مغربی دنیا کے اذہان پہ انمٹ نقش چھوڑے…… وہ ایتھنز میں پیدا ہوا اور زندگی کا بیشتر حصہ چوراہوں اور بازاروں میں اپنے افکار پھیلاتے ہوئے گزار دیا۔ اس کے ماننے والے ان ہی جگہوں پہ آکر ملا کرتے اور اس کی باتیں سنتے۔ وہ اکثر اپنے خیالوں میں کھو جاتا اور گھنٹوں دنیا ومافیہا سے بے خبر رہا کرتا۔ اپنی تمام زندگی وہ لوگوں کو لیے معمہ بنا رہا۔ لیکن آخر کار اسے استاد تسلیم کر لیا گیا۔ اس کی گنجلگ شخصیت نے اسے اس قدر مقبول بنا دیا کہ ہر مکتبہءِ فکر والوں نے دعویٰ کر دیا کہ وہ ہمارا آدمی ہے۔ اس کی موت نے اسے افسانوی حیثیت دے دی جب اپنے خیالات کی سچائی کے لیے اس نے زہر کا پیالہ پینا قبول کیا۔ شکل و صورت کے لحاظ سے وہ انتہائی بھدا آدمی تھا۔ پستہ قد، فربہ اندام، آنکھیں بڑی بڑی اور میلی، موٹی ناک لیکن انتہائی خوش اخلاق، بذلہ سنج اور ہمدرد۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ تم اس سے کم تر کو پا سکتے ہو۔ برتر کو بھی پا سکتے ہو مگر اس کے برابر کوئی نہیں ملے گا۔
سقراط کے بارے میں اس کے مشہور شاگرد افلاطون کی تحریروں سے پتا چلتا ہے۔ اس نے مکالموں کی صورت میں کئی کتابیں لکھیں اور ڈرامے تشکیل دیے۔ اس کی تمام تحریروں میں سقراط کا ذکر بڑی عقیدت سے ملتا ہے۔ ڈراموں میں اس نے سقراط کو ہی مرکزی کردار دکھا کر تمام کچھ اسی کے منہ سے کہلوایا ہے…… سقراط کی فطرت اور خصوصیت یہ نظر آتی ہے کہ وہ لوگوں کو باقاعدہ سبق دینے کا عادی نہیں تھا بلکہ لوگ خود اس کی باتوں سے اپنا مطلب اخذ کیا کرتے اور سیکھتے۔ اس کا وتیرہ یہ تھا کہ شاگردوں کے سامنے بس ایک سوال رکھ دیتا تاکہ کچھ گپ شپ ہو جائے اور خود کو بالکل ایسا ظاہر کرتا گویا وہ نرا جاہل ہے۔ جب بات چیت آگے بڑھتی تو وہ اندازہ لگا لیتا کہ کس لڑکے میں کتنی صلاحیت موجود ہے، اور تب وہ ان کو علیحدگی میں یہی بات سمجھاتا کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح۔ اس طرح سقراط یہ تعاون پہنچا کے ہونہار شاگرد پیدا کرتا۔ وقت جیسے جیسے گزرتا گیا لوگ اس سے مستفید ہوتے چلے گئے۔ وہ کہتا کہ ایتھنز ایک کاہل اور سست گھوڑا ہے لیکن میں تیز طرار ہوائی مکھی ہوں اور دوسروں کی زندگی میں جان ڈال سکتا ہوں …… آپ نے دیکھا کیسے ایک گم نام مست ملنگ محض اپنی لگن، خلوص اور مستقل مزاجی سے اَمَر ہو گیا۔ حالاں کہ اس کی کوشش شعوری طور پہ اس کے لیے نہیں تھی۔ اور لوگ رہتی دنیا تک اس سے حکمت کشید کرتے رہیں گے۔
امامِ اعظم ابوحنیفہ……
مسلمانوں کے بزرگوں نے اپنے ادوار میں عام لوگوں کے لیے دین پر عمل کو آسان بنانے کے لیے جس فن کی خوب آبیاری کی اسے فقہ کہتے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں میں قریباََ 6 فقہیں موجود ہیں، جو شروع میں 300 سے زائد تھیں۔ بلاشبہ جس فقہ کو ساری دنیائے اسلام میں تعداد کے لحاظ سے غلبہ حاصل ہے اسے فقہِ حنفی کہتے ہیں (گو اب کاسموپولیٹن فقہ کا دور شروع ہو چکا، جو مشترکہ استفادہ ہے)۔ اس کے بانی ابوحنیفہ نعمان بن ثابت ہیں۔ معاملات کو سمجھنے اور فیصلہ دینے میں جو گہرائی اور لچک یہاں پائی جاتی ہے اس نے زمانہءِ قدیم سے اس کی اہمیت کو بہت بڑھا دیا۔
ابوحنیفہ کا طریقہ کوئی عام وعظ و نصیحت کی وجہ سے اثر پذیر نہ ہوا۔ بلکہ تاریخ نہایت سائنسی وضاحت پیش کرتی ہے۔ امام کی ایک خاص مجلس ہوا کرتی۔ جس میں چنیدہ شاگرد موجود ہوتے۔ جن کی تعداد 80کے آگے پیچھے ہوتی۔ اس مجلس میں مسائل یہاں تک کہ فرضی مسائل بھی پیش کیے جاتے اور ان پہ بحث ہوتی۔ بعض دفعہ یہ بحث کئی کئی دن تک چلتی۔ بالآخر کسی حل پہ اتفاق ہو جاتا۔ ہر ایک اپنا مؤقف پیش کرنے کی کھلی آزادی ہوتی۔ یہاں تک کہ شاگرد اپنے جلیل القدر استاد سے بھی اختلاف کرتے لیکن کوئی اس کا برا نہ مانتا۔ اگر آخر پہ کسی مشترکہ نتیجہ پہ سب مان جاتے تو ٹھیک ورنہ سب کچھ لکھنے کے ساتھ کسی خاص فرد کا اختلافی نوٹ بھی لکھا جاتا اور یوں بحث نبٹا دی جاتی…… یہ شاگرد نہایت لائق اور ہر لحاظ سے منتخب لوگ ہوتے۔ ان ہی میں سے عباسی سلطنت کے دو چیف جسٹس نکلے یعنی امام ابویوسف اور امام محمد، جو ابوحنیفہ کے اہم شاگردوں میں شامل ہوتے ہیں اور حنفی فقہ کی تدوین و ترویج کے سب سے اہم لوگ مانے جاتے ہیں …… آپ نے دیکھا کہ کیسے امام ساری زندگی تنقید سے بے پروا ہو کے جسے درست جانا اس پہ لگے رہے اور ناقدین کی ذرا پروا نہ کی۔
مسیحائے عصر ڈاکٹر امجد ثاقب……
یہ 2001ء کی بات ہے۔ لاہور، ساندہ میں ایک عورت بیوہ ہو گئی۔ کچھ دردمندوں نے اس کی مدد کرنا چاہی تو اس نے انکار کر دیا اور کہا، کہ قرض دو میں کام کرنا چاہتی ہوں۔ ان لوگوں نے 10,000روپے بطور قرض مہیا کر دیے۔ اُس نے ایک سلائی مشین خریدی۔ کپڑے سینے شروع کیے۔ قرض بھی سال کے اندر اتار دیا اور بچیوں کی شادیاں بھی کیں۔ یوں اس پروگرام کا آغاز ہوا جو آج جہان بھر میں پاکستان کی پہچان بن گیا یعنی بلاسود چھوٹے قرضوں کا دنیا بھر میں سب بڑا اور مؤثر ادارہ ”اخوت“……یہ لوگ بغیر ’ہٹو بچو‘ اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے چونچلوں سے بچ کر چلتے رہے یہاں تک کہ بہاروں نے چمن کی طرف سب کو رخ کرنے پہ مجبور کر دیا۔ اب ہاورڈ اور کیمبرج میں جیسے ادارے ڈاکٹر صاحب کو بلاتے ہیں اور حیرت سے سنتے ہیں۔ اُن کے طلبا اپنی اسائنمٹس سمیت لاہور کے علاقہ ٹاؤن شپ آتے اور شاد کام ہوتے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ اخوت کا یہ سفر بھی بس شروع کر دیا گیا تھا۔ شوق، خلوص اور لگن کے ساتھ…… اب آخر پہ جان لیجئے کہ خیر و شر کی اس جنگ میں اپنا وزن کیسے خیر کے پلڑے میں ڈالنا ہے:
٭خوب غور و خوض سے، اپنی صلاحیتوں کو جانو۔ جان نہیں سکتے تو پروفیشنلز مخلصین سے مدد لو اور جُت جاؤ۔ یہ پروفیشنلز نہیں ملتے تو ہم رابطہ کروا دیں گے۔
٭غلطیوں سے نہ ڈرو۔ غلطیاں اسی سے ہوتی ہیں جو نماز پڑھتا ہے، کچھ کرتا ہے۔
٭ابتدا کرو۔ زیادہ وسائل کے انتظار میں نہ بیٹھے رہو۔ موجود ذرائع سے فائدہ اٹھاؤ۔ اور توکل کرو۔ خدا نے تم سے کوشش کی پوچھ کرنی ہے، نتیجہ کی نہیں۔
٭اپنی حد تک ضرور مؤثر وسائل حاصل کرنے اور پھیلانے کی کوشش کرو۔
٭جدید دور اور نئی نسل کے چیلنج کا گہرا ادراک کرو اور پھر آسان، جامع، مختصر اور خوب صورت حل پیش کرو۔
٭لوگوں کی بے جاتنقید کی پروا نہ کرو۔ تنقید اسی پہ ہوتی ہے جو کچھ کر رہا ہوتا ہے۔ شیطان اسی کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے جو مسجد کو چل پڑتا ہے۔
٭بڑے لوگوں کی زندگیاں پڑھو۔ یہ تمہیں نہ ہونے سے ہونے کا جذبہ اور راستہ دکھائیں گی۔
نوٹ: اپنے روحانی، جذباتی، نفسیاتی، معاشرتی، انفرادی، اجتماعی مسائل میں مشاورت کے لیے ای میل کریں۔ syyed.writer@gmail.com

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!