کالم

کچھ باتیں بڑی عام، طلباء کے نام…… ڈاکٹرسیّد اے وحید

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد ملک میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ پرائیویٹ اور سرکاری سطح پر کئی یونیورسٹیاں وجود میں آئیں اور طلباء کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا جو حوصلہ افزا ہے۔ اس سے اعلیٰ تعلیم کے کئی در وا ہوئے ہیں اور طلبا میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان بڑھا۔ دیکھا جائے تو کئی یونیورسٹیاں اب ایجوکیشن سٹی کا روپ اختیار کر گئی ہیں اور ڈے لائف کے ساتھ نائٹ لائف بھی پُررونق ہو گئی ہے۔
کسی بھی تعلیمی سطح پر بالخصوص اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کمرہئ جماعت میں طلبہ و طالبات کا باہمی تفاعل اور طلباء کا اساتذہ کرام کے ساتھ طریقہ اظہاروابلاغ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اظہار ابلاغ کے مہذب طریقوں کی اہمیت اس وقت بھی بڑھ جاتی ہے جب بیرون ملک سے پروفیسر، سکالرز، سائنسدان اور محقق جامعات کا تعلیمی و تحقیقی دورہ کرتے، اور ان کا واسطہ طلباء اور اساتذہ سے پڑتا ہے۔ اگرچہ اظہار وابلاغ میں معاشرتی و ثقافتی پس منظر بھی کارفرما ہوتا ہے۔ تاہم کچھ امور ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر اظہاروابلاغ کے قابل قبول امور کو رواج دیا جا سکتاہے۔
ہمارے ہاں وقت کی پابندی کو ملحوظ خاطر رکھنا توقیرِ ذات پر حرف آنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ بیرون ملک سے آنے والے پروفیسرز جب کسی لیکچر یا سیمینار پر جاتے ہیں تو وہ توقع کرتے ہیں کہ حاضرین بروقت موجود ہوں گے۔ تاہم کئی مواقع پر حاضرین اور منتظمین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ غیر ملکی سکالرز شکل وصورت، رنگ ونسل اور لب ولہجہ کے باعث ”مختلف“ نظرآتے ہیں چنانچہ طلبہ و طالبات ان کو معیوب سمجھتے ہیں اور اس طرح باہمی تفاعل میں مزاحمت اور رکاوٹ بھی محسوس کرتے ہیں۔ بعض حالات میں طلبا غیر ملکی سکالرز سے مانوس نہیں ہوتے کیونکہ ان کو اندازہ نہیں ہوتا کہ ان سے کیسے پیش آنا ہے، ان سے کیسے اور کیا بات کرنی ہے۔ طلباء کو یہ بتانا ضروری ہے کہ غیر ملکی سکالرز کو کس نام سے مخاطب کرنا چاہیے۔ عام طور پر انہیں آخری نام سے پکارا جاتا ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان سے قبل از وقت پوچھا جائے کہ طلباء یا اساتذہ آپ کو کس نام سے پکاریں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستانی طلباء پہلی ملاقات میں ہی ذاتی سوالات پوچھتے ہیں جو درست نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر آپ شادی شدہ ہیں؟ آپ کے کتنے بچے ہیں؟ وہ کس جماعت میں ہیں؟آپ کی بیوی کیا کرتی ہے؟ اور اسی طرح حلال اور حرام کی باتیں کرنا۔ بلکہ ایسے سوالات اس وقت کیے جاتے ہیں جب آپ کی دوستی کئی سالوں پر محیط ہو۔ ابتدائی چند ملاقاتوں میں ذاتی معلومات اور سوالات سے احتراز کرنا چاہیے۔
اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کوئی برا یا اچھا کلچر نہیں ہوتا اور ہمیں کسی بھی ثقافتی ومعاشرتی پس منظر میں غیر ملکیوں کی ظاہری شکل وصورت، رنگ ونسل اور لب ولہجہ کا احترام کرنا چاہیے اور انہیں تمسخر کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
اس طرح کچھ باتیں….بڑی عام باتیں، خلاف معمول سمجھی جاتی ہیں۔ جیسے کئی طلباء لیکچر یا سیمینار کے دوران باہر چلے جاتے ہیں یا آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جس سے مقرر کا ارتکازِ توجہ متاثر ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں دیر سے آنے والے طلباء اگلی نشستوں پر بیٹھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں جس سے مقرر کی روانی میں خلل آتا ہے بلکہ اس کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور یہ تاثر بھی جاتا ہے کہ حاضرین وقت کے پابند نہیں ہیں اور دلچسپی کے بجائے کسی بیرونی دباؤ کے نتیجے میں سننے کے لیے آئے ہیں۔ ہمارے ہاں کسی شخص کی تصویر لینا اور اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دینا معمول کی بات ہے۔ تاہم دنیا کے کئی ممالک میں کسی بھی شخص کی تصویر لینے یا ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے یا کسی اور مقصد کے استعمال کے لیے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔
ویانا میں قیام کے دوران اس طرح کے کئی تجربات ہوئے، ایک کنڈرگارٹن میں داخلہ کے وقت مجھے ایک فارم دیا گیا جس میں پوچھا گیا کہ کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ آپ کی بیٹی کی تصویر بنائی جا سکے اور اسے سکول کے میگزین میں استعمال کیا جا سکے۔
بیرون ممالک سے آنے والے پروفیسرز سے بعض طلباء بغیر پوچھے تصویر یا سیلفی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض طلبہ تو بازو پکڑ تصویر یوں بنا ڈالتے ہیں جیسے حضرت مہمانِ گرامی سے بچپن سے آشنا ہیں اور محلے میں اکٹھے گلی ڈنڈا کھیلا کرتے تھے۔ جس سے انہیں گہری تشویش ہوتی ہے۔ چنانچہ سیلفی یا تصویر کی اجازت مل بھی جائے تو ان سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ کیا یہ تصویر یا سیلفی سوشل میڈیا پر اپ لوٹ کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح دوران لیکچر بھی طلباء کو تصویر یا ویڈیو بغیر اجازت لیے نہیں بنانی چاہیے۔ اس طرح کے مسائل کا ایک حل یہ بھی ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے پروفیسر سے ایک سوالنامہ پہلے ہی پر کروایا جائے جس میں پوچھا جائے کہ کیا آپ تصویر یا سیلفی بنانا پسند کریں گے؟ کیا آپ میڈیا کو انٹرویو دینا پسند کریں گے؟ کیا آپ کی فوٹو یا ویڈیو فیس بک پر اپ لوڈ کی جا سکتی ہے؟ اور اس دستخط شدہ سوالنامہ کو طلبہ اور ان کے اساتذہ کو پہلے ہی دکھا دیا جائے تاکہ کوئی پیچیدگی اور تشویش پیدا نہ ہو۔
اسی طرح دوران لیکچر ہنسی مذاق کرنا، ٹھٹھا کرنا اور سرگوشی کرنا بہت ہی معیوب باتیں سمجھی جاتی ہیں۔ ایک طرف تو یہ تہذیب اور شائستگی کے خلاف بات ہے اور دوسری طرف مہمان پروفیسر کی بے قدری اور بے توقیری کے مترادف۔ اسی طرح جب سوال وجواب کے دوران طلباء سوال کرتے ہیں تو ایک ہی وقت میں کئی طلباء سوالات کی بوچھاڑ کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں جو معزز مہمان کے لیے تشویش کا باعث بنتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جب سیمینار روم میں سوال پوچھنے کا کہا جائے تو طلبہ کو ہاتھ کھڑا کرنا چاہیے اور اجازت ملنے پر سوال کرنا چاہیے یا اجازت ملنے پر جواب دینا چاہیے۔ بے ہنگم شور کا مظہر نہیں بننا چاہیے۔ بعض طلباء اپنے آپ کو عقل کل سمجھ بیٹھتے ہیں اور معزز مہمان کو بات پوری کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے بلکہ دورانِ گفتگو ان کو ٹوک کر اپنی وضاحت شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح کے علامہ حضرات دورانِ گفتگو موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ پروفیسر صاحب کو کہیں تھوڑا سا بھی توقف کرنا پڑے تو وہ اپنی علمیت کا رعب جمانے کے لیے بیچ میں کود پڑیں اور پھر اس طرح بھی کہتے ہیں کہ آپ کو میری بات کی سمجھ نہیں آئی۔ گویا مخاطب کوئی ناسمجھ انسان ہے اور میں باشعور، عقل کل اور دانائے عالم۔ عام طور پر بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم پر مقرر ایک پروفیسرکو کوئی تیس سال کا تجربہ ہوتا ہے جس کا ہمیں بالکل اندازہ نہیں ہوتا۔ تو بات یہ ہے کہ اگر ہم کسی بات پر اتفاق نہ بھی کر رہے ہوں تو ہمارا انداز یوں ہونا چاہیے کہ آپ اتفاق نہ بھی کریں اور دوسرے کو برا بھی نہ لگے اور سوالات آخر پر کریں۔ ہمیں چاہیے کہ کسی بھی شخص کی بات پورے تحمل اور صبر سے سنیں اور اسے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کا پورا موقع دیا جائے۔ نہ جانے کوئی طالب علم کوئی بات کرنے کے لیے کس قدر ہمت اور تگ ودو سے کام لیتا ہے اور سننے والا شٹ اپ کال سے اس کا منہ بندکر دیتا ہے۔
اگرچہ بیرونِ ملک کئی یونیورسٹیوں میں طلباء دوران کلاس کھا پی رہے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں یہ مستحسن خیال نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح ایک بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ دوران لیکچر طلباء معزز مہمان کی حرکات وسکنات، آواز، لب ولہجہ اور اس کے اندازِ بیان کی نقل کرتے ہیں جو کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ یہ بات کسی بھی قوم کی تہذیب وتمدن کے دائرہ میں نہیں آتی۔ چنانچہ یہ امر ضروری ہے کہ حاضرینِ مجلس کو لیکچر کے اختتام پر تالیاں بجا کر مقرر کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے۔ جہاں مقرر مسکرا رہا ہو وہاں مسکرا کر جواباً اظہار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کمرہ کو کسی میلے کے منظر میں نہیں بدلنا چاہیے اور اظہاروبیان کے عمل کے دوران جمہوری طرزِ عمل کو اختیار کرنا چاہیے جو گروہی حرکیات کا ایک اہم عنصر ہے۔ بعض اوقات کوئی سینئر طالب علم اپنی علمیت کی دھاک بٹھاتے ہوئے جمہوری اقدار کا خیال نہیں رکھتا اور دوسروں کی آراء کو اہمیت نہیں دیتا۔

Leave a Reply

Back to top button