کالم

کچھ لوگ اردو بول سکتے ہیں…… میم سین بٹ

لاہور کے ادبی وصحافتی حلقوں کی ”دفتری“ زبان اردو ہے، پنجاب کے مختلف شہروں، قصبوں اوردیہات سے روزگارکیلئے لاہور آنے والے بیشترافراد عموماََ انگریزی لباس پہنتے اورآپس میں بالخصوص لاہوریوں کے ساتھ اردو بولتے ہیں،پاک ٹی ہاؤس اورپریس کلب میں ہمیں اردوکے مختلف رنگ برنگے لہجے سننے کو ملتے ہیں مگر ہم ادیبوں، شاعروں اورصحافیوں کے اپنے قریبی حلقے میں عموماََ مادری زبان پنجابی میں گفتگوکرتے ہیں کیونکہ پاک ٹی ہاؤس اورپریس کلب کے ہمارے قریبی حلقے میں شہزاد فراموش،سرفراز صفی اور طارق کامران جیسے شاعر شامل ہیں البتہ ہم لکھنے پڑھنے کیلئے اردوزبان استعمال کرتے ہیں، انوارقمر، تاثیرمصطفیٰ جیسے بزرگ دانشوروں اورشاعرات کے ساتھ اردومیں بات کرتے ہیں، ہمارے دوست قمرالزمان بھٹی اردوزبان کے اس قدرعاشق ہیں کہ خواب بھی اردومیں دیکھتے ہوں گے شاعر نے جیسے ان کے بارے میں ہی کہا تھا۔۔۔
وہ بولتا ہے نگاہوں سے اس قدر اردو
خموش رہ کر بھی اہل زباں سا لگتا ہے
تفنن برطرف اردوزبان نے متحدہ ہندوستان میں عربی وفارسی کے بعد مسلمانوں کی نئی زبان کے طورپرجنم لیا تھا اورخطے کے مسلمانوں میں دونوں زبانوں سے زیادہ مقبولیت حاصل کرلی تھی یہ نہ صرف شاہی دربار اور محلات میں بولی جاتی رہی بلکہ عوام نے بھی اسے خوب رواج دیا،مغلوں کے بعد انگریزوں نے بھی متحدہ ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد اردو زبان کو فروغ دینے کیلئے کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج قائم کیا تھا جس کی بدولت متحدہ ہندوستان میں اردو ادبی اور عوامی رابطے کی زبان بن گئی تھی، امیر خسرو،ولی دکنی،میرتقی میر، مرزاغالب، علامہ اقبال اورفیض احمدفیض کی شاعری نے برصغیر پاک و ہند میں اردوکے فروغ میں اہم کردار ادا کیا تھا،مصحفی،داغ دہلوی، اخترشاہجہاں پوری، اختر شیرانی، ریئس امروہوی، علی سردارجعفری، ماجد الباقری، منظر بھوپالی، ولی رازی،کیف صدیقی، بشیر بدر،انور مسعود سمیت درجنوں شعراء نے اردو زبان بارے قصیدے لکھے ہیں،استاد داغ دہلوی نے اردوزبان پر یوں فخرکا اظہارکیا۔۔۔
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستان میں دھوم ہماری زبان کی ہے
آغازمیں اردوشاعری بالخصوص اردوغزل کو ریختہ بھی کہا گیاریختہ کی ابتدا امیر خسرو نے کی تھی جنہیں شاہد احمد دہلوی اردو زبان کا باوا آدم قرار دیتے ہیں،امیرخسروکی پدری زبان ترکی اورمادری زبان غالباََ ہندی(سنسکرت) تھی، اردومیں عربی وفارسی کے علاوہ ترکی اورپنجابی زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں اس کا نام بھی ترکی زبان سے لیا گیا جس کا مطلب لشکر ہے اب اردو میں عربی وفارسی کے مقابلے میں پنجابی زبان کے الفاظ زیادہ پائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے لوگ اردو سے زیادہ مانوس ہیں اور اپنی مادری زبان پنجابی کو نظر اندازکئے رکھتے ہیں،نامورمحقق حافظ محمود شیرانی کا تو دعویٰ ہے کہ اردو نے پنجاب کی سرزمین پر ہی جنم لیا تھا ویسے بھی تقسیم ہند سے کچھ عرصہ پہلے اورآزادی کے بعداردوزبان کے بیشتر اہم ادیب،شاعروصحافی خطہ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں جن میں علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خاں،حفیظ جالندھری، فیض احمد فیض، احمدندیم قاسمی، احمد راہی،منیر نیازی، عبدالعزیز خالد، ابن انشاء،عطاء الحق قاسمی،میرخلیل الرحمان، حمید نظامی،شورش کاشمیری، الطاف حسن قریشی اورضیا شاہدکے نام خاص طورپر قابل ذکر ہیں، چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہدآبائی وطن جالندھر(مشرقی پنجاب) کے لحاظ سے پنجابی، اپنی جائے پیدائش (ضلع شکارپور)کے حوالے سے سندھی اورڈومیسائل (ضلع بہاولنگر) کے لحاظ سے ریاستی یا سرائیکی بھی ہیں،ادب وصحافت میں حفیظ جالندھری کا ایک شعر بہت مشہورہے۔۔۔
حفیظ اہل زباں کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
تقسیم ہندکے وقت یو پی،سی پی کے اردوداں خاندانوں کی بہت بڑی تعداد نئے وطن میں ہجرت کر آئی تھی،زیادہ تر اردوداں مہاجرین کراچی میں مقیم ہوگئے تھے اور ایم کیوایم کے قیام نے عام مہاجروں کو ادب سے دورکردیا تھا ان کی زبان میں بھی لکھنوی اوردہلوی شائستگی بہت کم باقی رہ گئی، جون ایلیا، جمیل الدین عالی، مشتاق احمد یوسفی جیسی آخری شمعیں بھی اب بجھ چکی ہیں، ہندوستان میں بھی اب اردوکی حالت بہت خراب ہے،ہندوؤں نے ہندی کے غلبے سے اردوکو ہندوستان سے دیس نکالا دینے کی مہم شروع کررکھی ہے،ہندوستان کے مسلمان اپنے اسلاف کی زبان کو مرنے سے بچانے کیلئے بڑی جدوجہد کررہے ہیں سوشل میڈیا پردہلی اورلکھنو وغیرہ کے مسلمانوں کی ادبی تقریبات بالخصوص مشاعروں میں شاعرات کو سن کر خوشی ہوتی ہے بقول شاعر۔۔۔
شستہ زباں،شگفتہ بیاں، ہونٹ گلفشاں
ساری ہیں تجھ میں خوبیاں اردوزبان کی
کراچی کے مہاجر خاندان تو اہل زباں ہیں،سندھی،پنجابی، بلوچی اور پٹھان بھی آپس میں رابطے کیلئے اردو بولتے ہیں بلکہ پنجابیوں نے تو اردوکو مادری زبان کے طور پر اپنا رکھا ہے،پنجاب کے شہروں میں مائیں اپنے بچوں کے ساتھ گھروں میں بھی پنجابی کے بجائے اردوبولتی ہیں،اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تو اردوکے ساتھ انگریزی بولی جاتی ہے،ذرائع ابلاغ کے اداروں میں اردو، انگریزی پرمشتمل ملی جلی زبان بولی جاتی ہے جبکہ سول وخاکی افسر شاہی اور اعلیٰ سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد آپس میں قومی زبان کے بجائے بین الاقوامی زبان بولتے ہیں،پروفیسرانور مسعود نے غالباََ ان لوگوں کے بارے میں ہی اپنے مخصوص انداز میں کہا تھا۔۔۔
اردوسے ہوکیوں بیزار، انگلش سے کیوں اتنا پیار
چھوڑو بھی یہ رٹا یار، ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل سٹار
پاکستانیوں کو قوم بننے کیلئے قومی لباس پہننے اور قومی زبان بولنے ہی نہیں اردومیں لکھنے پڑھنے کی بھی ضرورت ہے اس حوالے سے ہم ڈاکٹرصدف اخترعلی اورحامد انوارکے حامی ہیں، دراصل ہر زبان اپنی ثقافت ساتھ لاتی ہے، انگریزی زبان کی وجہ سے ہی ہمارے معاشرے میں مغربی بودوباش کا پھیلاؤ جاری ہے، ہمارے بیشتر پرائیویٹ تعلیمی ادارے مغربی ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں،نئی نسل کا پاکستانیت اور اسلامیت سے رابطہ کمزور ہوتا جا رہا ہے،ابن صفی نے جاسوسی دنیا اورعمران سیریزکے ناولوں کے ذریعے خالص اردو زبان کو فروغ دیا تھا لیکن ان کی وفات کے بعد مظہر کلیم نے عمران سیریزکے ناولوں کے ذریعے اردو زبان میں انگریزی الفاظ کا تڑکا لگانا شروع کردیا تھا بلکہ مظہرکلیم نے اپنے بیشترناولوں کے نام ہی انگریزی زبان میں رکھے تھے، اب تو انگریزی نئی نسل کی لکھنے پڑھنے کی زبان بنتی جارہی ہیں اور وہ قومی زبان اردو میں لکھنے پڑھنے سے محروم ہوتے جارہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستانی والدین کو اپنی اولادکی زبان کے بارے میں تشویش لاحق ہے بقول شاعر۔۔۔
میرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہیں میری
تو پھر ان بدنصیبوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی؟
حلقہ ارباب ذوق کی زبان اردو ہے اس کے ہفتہ وار جلسوں میں زیادہ ترخالص اردو زبان میں تخلیقات پیش کی جاتی ہیں اور ان پر بحث بھی اردو میں ہوتی ہے،حلقے کی کارروائی بھی اردومیں نوٹ کی جاتی ہے اور اگلے اتوارکو اجلاس شروع ہونے سے پہلے اردو میں ہی کارروائی پڑھ کر سنائی جاتی ہے،حلقہ ارباب ذوق کے متعدد سابق سیکرٹری اردو ادب کے پروفیسر رہے ہیں موجودہ سیکرٹری عامرفراز بینکار ہیں تاہم حلقہ چلاتے ہوئے یہ بھی ادب کے پروفیسر ہی لگتے ہیں بہرحال حلقے میں جانے سے ہم اردوکے مستقبل بارے مطمئن ہوجاتے ہیں بقول شاعر۔۔۔
سلیقے سے ہواؤں میں جوخوشبوگھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button