تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

ککڑی: طبی فوائد کی بنا پر ماہر نباتات اسے پھل کہتے ہیں

ککڑی میں پانی، کاربوہائیریٹ، کیلشیم، پوٹاشیم، میگینیز،فاسفورس، آئرن، وٹامن اے، وٹامن بی وٹامن سی، وٹامن کے، سلیکون، گندھک، فائبر، کاربس، پروٹین، زنک رائبوفلوین اور دیگر مرکبات ہوتے ہیں جو انسانی صحت اور تندرستی کیلئے نہایت مفید ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:دعا کیجئے،اپنے رب سے کہ وہ نکالے ہمارے لیے جو کچھ اُگتا ہے زمین میں ساگ،ککڑی،گیہوں،مسور اور پیاز میں سے۔(سورۃ البقرہ61)

ککڑی ایک معروف سبزی ہے، لیکن اس کے اتنے زیادہ طبی فوائد ہیں کہ بعض ماہر نباتات اسے پھل کہتے ہیں۔ذائقہ کے لحاظ سے یہ دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک میٹھی،اور دوسری کڑوی۔ یہ اپریل مئی کے موسم میں ملتی ہے اور زیادہ تر گرمیوں میں ہی ہوتی ہے۔اس کے پھول پیلے اور بیل بڑی نرم و نازک ہوتی ہے۔ پتے چوڑے چوڑے ہوتے ہیں جو آس پاس زمین کو ذھک کر اُسے سوکھنے سے بچاتے ہیں اور ککڑی اور بیل کو تر رکھتے ہیں۔ اس کے پھل کھیرے کی بہ نسبت لمبے،پتلے،گولائی لئے ہوئے،کچھ مُڑے ہوئے تقریبا ًایک یا ڈیڑھ ہاتھ تک لمبے ہوتے ہیں اور پھلوں پر لمبائی کے رخ ابھری ہوئی لائنیں ہوتی ہیں۔کہیں کہیں پر لمبی اور کہیں کہیں پر چھوٹی سائز ککڑیاں ملتی ہیں۔ کچی حالت میں یہ ککڑیاں خوب نرم،ہرے رنگ کی اور روئیں دار ہوتی ہیں۔

ککڑی عام طور پر دو قسم کی پائی جاتی ہے۔ ایک قسم وہ ہے جو کچی حالت میں بھی میٹھی ہوتی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جو کچی حالت میں کڑوی،اور پکنے پر میٹھی ہوتی ہے،اسے کڑوی ککڑی یا کاکڑی کہا جاتا ہے۔

ککڑی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
ککڑی میں پانی، کاربوہائیریٹ، کیلشیم، پوٹاشیم، میگینیز،فاسفورس، آئرن، وٹامن اے، وٹامن بی وٹامن سی، وٹامن کے، سلیکون، گندھک، فائبر، کاربس، پروٹین، زنک رائبوفلوین اور دیگر مرکبات ہوتے ہیں جو انسانی صحت اور تندرستی کیلئے نہایت مفید ہیں۔

ککڑی کے طبی فوائد:

بلڈ پریشر:
ککڑی میں پوٹاشیم کے اجزاء کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ جوبلڈ پریشر کو نارمل رکھتا ہے۔اس کا جوس بھی ہائی اور لو بلڈ پریشر میں فائدہ دیتا ہے۔

گرتے بالوں کا علاج:
ککڑی میں سلیکون اور سلفر کی بھی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔جو بالوں کو صحت مند اور انھیں لمبا بناتی ہے۔ ککڑی کے جوس کو بالوں میں لگا کر تھوڑی دیر بعد دھو لیں تو بال گرنا بند ہوجائینگے۔ککڑی کے رس سے بالوں کو دھونے سے بال بڑھ جاتے ہیں۔ککڑی، پالک اور گاجر ان سب کا رس ملا کر پینے سے بھی بال بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں اور اگر بال گرتے بھی ہوں تو وہ بھی رُک جاتے ہیں۔

چہرے کی تازگی:
کچی ککڑی کا رس نکال کر اگر چہرے پر لگا دیا جائے اور چہرے پر ہی اُسے سوکھنے دیا جائے تو چہرے پر عجیب چمک آ جاتی ہے۔اگر آپ کے چہرے کی جلد موٹی اور بہت زیادہ چکنی ہے تو ککڑی یا کھیرے کے ٹکڑے چہرے پررگڑیں پھر پانی سے دھولیں۔ تھوڑے ہی دنوں میں جلد کی چپچپاہٹ دور ہوجائیگی۔

پیشاب میں رکاوٹ:
ککڑی کا رس لینے سے پیشاب زیادہ بنتا ہے اور پیشاب زیادہ آتا ہے۔گرمی سے ہونے والی پیشاب کی تکلیف میں ککڑی کاٹ کر اس کے اوپر لیموں کا رس اور کالا نمک چھڑک کر کھائیں۔

پائیوریا:
ککڑی کا رس پائیوریا کا ایک مکمل علاج ہے۔

کیل،مہاسے،چھائیوں:
کیل،مہاسے اور چھائیوں کے لئے بھی ککڑی کا رس مفید ہے۔

پتھری:
ککڑی کی جڑ کو باسی پانی میں پیس کر تین دن تک استعمال کرانے سے پتھری نکل جاتی ہے۔

پیشاب کی جلن:
ککڑی کے بیج دس گرام پیس کر اس میں 100گرام پانی اور دس گرام مصری ملا کر پلائیں۔ پیشاب کی جلن کے لئے مفید ہے۔

حاملہ کا پیٹ درد:
ککڑی کی جڑ دس گرام کو 250گرام دودھ اور 250گرام پانی میں کتر کر ملا دیں اور پھر دھیمی آگ پر پکائیں۔صرف دودھ باقی رہ جانے پر اسے چھان کر پلائیں، اس سے فائدہ ہو گا۔

ہچکی لگنا:
تازہ ککڑی کو سل ہر پیس کر لگدی کو کپڑے میں رکھ کر نچوڑ لیں جو رس نکلے۔اس میں ملیٹھی کا سفوف،اپامارگ کے بیجوں کا سفوف،مورپنکھی کی بھسم،مدھو (شہد) مکھی کے چھتے کی بھسم برابر برابر 3-3گرام،(ککڑی کا رس 100گرام)اور شہد 25گرام ملا کر پلانے سے جلد فائدہ ہوتا ہے۔

سیلان:
ککڑی کے بیجوں کی گری 10گرام،سفید کمل کے پھول کی پنکھڑیاں 10گرام۔ دونوں کو خوب باریک پیس کر اس میں زیرہ چورن 2گرام اور مصری چورن 6گرام ملا کر استعمال کرنے سے سات دن میں پورا فائدہ ہو گا۔

نکسیر:
نکسیر میں اس کے پھولوں کا رس لے کر اس کی نسوار دیں،اس سے نکسیر میں فائدہ ہو گا۔

ککڑی کے استعمال:
ککڑی کے فوائد کچی کھانے میں ہی ہیں۔آگ پر پکا دینے سے اُس کے بہت سے فائدے ضائع ہو جاتے ہیں۔اس طرح لوگ ککڑی کی ترکاری رائتہ اور اچار بنا کر کھاتے ہیں۔ اس کا اچار بنانے میں اس میں بہت مصالحے نہیں ڈالنے پڑتے۔پکی ہوئی ککڑی کے ٹکڑوں میں تھوڑا سا نمک، رائی اور سرسوں کا تیل ڈال کر دھوپ میں رکھ دینے سے اس کا اچار دو تین دن میں تیار ہو جاتا ہے۔

ککڑی کا سلاد بہت اچھا بنتا ہے۔ بنا چھیلے ہی ککڑی کے پتلے پتلے گول گول ٹکڑے کاٹ کر ایک پلیٹ پر سجا دیجئے اوپر اسی طرح ٹماٹر کے اور اُس کے اوپر اگر آپ پیاز کھاتے ہیں تو پیاز کے قتلے لگا دیجئے اور نمک و کالی مرچ کا سفوف چھڑک دیجئے۔بڑھیا خوش ذائقہ سلاد تیار ہو جائے گا۔

اسی طرح ککڑی و گاجر کا بھی سلاد بنتا ہے۔ککڑی کے رس میں نمک،بھنا ہوا زیرہ ملا دینے سے بہت ہی بڑھیا سیال بنتا ہے۔ککڑی کو گرمی کے موسم میں استعمال ضرور کرنا چاہئے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

ککڑی میں پانی، پروٹین،معمولی مقدار میں چکنائی،کیلشیم، فاسفورس، لوہا، آیوڈین، وٹامن سی اور اے پائے جاتے ہیں۔ ککڑی پیاس کو بجھاتی ہے۔ صفرا کی حرارت اور سوزش کو دور کرتی ہے۔ خون کی حدّت اور سوزش،جگر اور معدے کو تسکین دیتی ہے۔ مثانے اور گردے کی پتھری کو توڑتی اور ریگ کو دور کرتی ہے۔تلخ ککڑی اس امر میں زیادہ نافع ہے۔ ملین شکم ہونے کے ساتھ ساتھ بھوک پیدا کرتی ہے۔بدن کو فربہ کرتی ہے۔دل و دماغ کو فرحت پہنچاتی ہے۔ تپ دق میں اس کا پانی نکال کر پلایاجاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button