Uncategorized

کھیل جو دماغ کے لیے خطرناک ہیں!

ویب ڈیسک: کھیل دراصل صحت کے لیے ایک فائدہ مند مصروفیت ہے۔ لیکن کئی برسوں تک مسلسل اور ضرورت سے زیادہ دباؤ والے کھیل نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر دماغ کے لیے۔ کچھ عرصہ قبل کی گئی تحقیق کے مطابق مندرجہ ذیل کھیل دماغ کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ریسلنگ
ریسلنگ صرف ایک شو ہی نہیں بلکہ اس کھیل میں مسلسل چوٹوں کی وجہ سے متعدد پہلوانوں کے دماغوں کو واقعی نقصان پہنچا ہے۔ کینیڈین پہلوان کرس بینواٹ نے چالیس برس کی عمر میں خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق چالیس برس کی عمر میں ہی ان کا دماغ الزائمر کے پچاسی سالہ مریض کی طرح کا ہو چکا تھا۔
باکسنگ
زیادہ دباؤ والے کھیل کھیلنے سے دماغ کو نقصان پہنچانے والی بیماری کو ڈاکٹر ’باکسر سنڈروم‘ کہتے ہیں۔ اس نام کا مطلب یہ ہے کہ سر کو مستقل جھٹکے دینے سے دماغ متاثر ہوتا ہے۔ نتیجتاً انسان کی یادداشت کمزور، بولنے میں مشکل، خودکشی کے خیالات اور آخرکار ڈیمنشیا جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ بیماری ایک باکسر میں پائی گئی تھی، اسی وجہ سے اس کا یہ نام رکھا گیا۔ امریکن ایسوسی ایشن آف نیوروالاجیکل سرجنز کی 2018ء کی ایک رپورٹ کے مطابق 90 فیصد باکسرز کو دماغ کی چوٹ لگ چکی ہوتی ہے۔
امریکی فٹبال
’باکسر سنڈروم‘ بیماری صرف باکسرز ہی کو نہیں ہوتی، خاص طور پر ’امریکی فٹ بال‘ کے کھلاڑیوں میں بھی یہ بیماری اکثر پائی جاتی ہے۔ تحقیقی جریدے ’سائنس‘ کے مطابق نیشنل فٹبال لیگ کے کھلاڑیوں کے دماغ کو ایک سیزن کے دوران 600 سے زائد جھٹکے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ کھلاڑیوں کے ہیلمٹ بھی دماغ کو مثاثر ہونے سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ نیشنل فٹ بال لیگ پہلے تو کئی برسوں تک اس بات کی تردید کرتی رہی کہ کھلاڑی باکسر سنڈروم سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ لیکن بعد میں چند قوانین تبدیل کیے گئے تاکہ دماغ کو کم سے کم جھٹکے لگیں۔
آئس ہاکی
اگر آپ اپنے دماغ کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ آئس ہاکی کھیلنے سے بھی پرہیز کریں۔ آئس ہاکی کے متعدد کھلاڑیوں میں بھی ’باکسر سنڈروم‘ کی بیماری پائی گئی۔ تصادم جان بوجھ کر ہو یا حادثے کے طور پر، حقیقت یہ ہے کہ مسلسل جھٹکوں سے دماغ میں خطرناک قسم کی پروٹینز کی تعداد اور مقدار میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔
فٹ بال
یہ بات مضحکہ خیز لگتی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ کئی فٹبال کھلاڑی بھی اسی مرض میں مبتلا رہے ہیں، اس کی وجہ مسلسل ہیڈ اسٹروک ہیں۔ فٹبال میں سر کو لگنے والے جھٹکے اتنے زیادہ خطرناک نہیں ہیں، جتنے کہ امریکی فٹبال یا پھر آئس ہاکی میں لگنے والے جھٹکے۔ لیکن بظاہر بے ضرر نظر آنے والے یہ جھٹکے بھی نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button