سیلف ہیلپ

کیا آپ بھی اچھے وقت کے منتظر ہیں؟…… رانا اشتیاق احمد

ہم میں سے اکثر لوگ صرف اس لیے محنت نہیں کرتے کہ وہ اچھے وقت کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، حقیقت میں اچھا وقت ان کا انتظار کر رہا ہوتا ہے کہ یہ اسے کب بلاتے ہیں۔
ناکام لوگوں سے اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ ہم نے بھی کام شرع کرنا ہے، ہمیں گول کا بھی علم ہے، بس ہم ابھی انتظار کر رہے ہیں، جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس کا انتظار کر رہے ہیں؟ کیا آپ اپنی کوئی جائیداد فروخت کر رہے یا آپ نے کوئی کمیٹی ڈال رکھی ہے، یا آپ کا کوئی پرائز بانڈ نکلنے والا ہے تو جواب ملتا ہے کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں، بس ویسے ہی انتظار کر رہے ہیں …… اچھے وقت کا۔ حقیقت میں ایسے لوگوں میں صرف اعتماد کی کمی ہوتی ہے، ان کو اپنے آپ پر بھروسہ نہیں ہوتا اور وہ ایک خوف میں مبتلا ہوتے ہیں …… وہ خوف ہوتا ہے ناکامی کا خوف۔
ایسے لوگوں میں فیصلہ کرنے کی جرأت نہیں ہوتی۔ وہ صرف اس انتظار میں رہتے ہیں کہ وہ کسی صبح اٹھیں، گھر سے باہر نکلیں تو گلی کے کونے پر کوئی شخص ملے جو انہیں انگلی سے پکڑے، کسی کامیاب بزنس کا مالک بنا دے اور وہ کام کرنا شروع کر دیں۔
فرض کریں کہ اگر ایسا ہو بھی جائے،کوئی غیبی مدد آجائے، ایسے انسان کو چلتے ہوئے کاروبار کی سرپرستی سونپ دی جائے تو وہ وقت دور نہیں ہو گا جب وہ اس کامیاب کاروبار کو فلاپ بنا کر پھر انتظار کر ہو گا کہ کوئی صاحب حیثیت، قریبی رشتہ دار یا سخی انسان آئے اور میرے اس کاروبار کو دوبارہ چار چاند لگا دے۔ ایسے بے کار لوگ پھر اپنے قریبی کامیاب اور صاحب حیثیت لوگوں سے نفرت بھی کرتے ہیں کہ یہ خود غرض لوگ ہیں …… بار بار ہماری مدد نہیں کرتے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ تجربے کے طور پر بیس لوگ ایسے لے لیں جو کامیاب بزنس میں ہوں اور بیس ایسے جو ناکام ترین بزنس میں ہوں، سب کی دولت کو اکٹھا کر کے ان چالیس حصوں میں برابر تقسیم کر دیں تو کچھ عرصہ بعد ساری دولت دوبارہ بیس کامیاب افراد کے پاس چلی جائے گی۔ کیونکہ ان کے پاس تجربہ، علم، حوصلہ، جذبہ، مستقل مزاجی اور فیصلہ کرنے کی بہترین صلاحیت ہوتی ہے جو دولت اور کامیابی کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ لہٰذا بہتر ہے کہ اچھے وقت کا انتظار کرنے کے بجائے ہم وہ تمام صلاحتیں حاصل کر لیں، وہ سارے گُر سیکھ لیں جن کی وجہ سے کامیاب لوگ ہر بار کامیاب ہو جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button