HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » سیاسیات » کیا واقعی ہمارے ملک میں یہ نظام ناکام ہوگیا؟

کیا واقعی ہمارے ملک میں یہ نظام ناکام ہوگیا؟

پڑھنے کا وقت: 11 منٹ

پارلیمانی نظام بہتر یا صدارتی؟

حافظ طارق عزیز……….
پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں سیاسی جمہوری نظام کا جائزہ انتہائی ضروری ہے تاکہ ملک کو جمود سے نکال کر اسے متحرک بنایا جاسکے۔ قیام پاکستان کے بعد انڈین ایکٹ 1935ء میں ترمیم کر کے اسے عبوری آئین کے طور پر تسلیم کر لیا گیا جو پارلیمانی تھا۔ وزیراعظم اور کابینہ بااختیار تھے۔ قائداعظم چونکہ پاکستان کے بانی اور پہلے گورنرجنرل پاکستان تھے لہٰذا کابینہ نے اپنے اختیارات ان کو تفویض کر دئیے۔ گویا عملی طور پر ریاست کے نظم و نسق کو وزیر اعظم کے بجائے گورنر جنرل نے چلایا۔ قائداعظم نے 10 جولائی 1947ء کو اپنے ہاتھ سے نوٹ تحریر کیا جس میں صدارتی نظام کو پاکستان کیلئے موزوں قرار دیا وہ چونکہ ڈیموکریٹ تھے لہٰذا ان کی خواہش تھی کہ پاکستان کا آئین دستور ساز اسمبلی تیار کرے۔

آج جب پارلیمانی نظام بادی النظر میں ناکام ہوتا نظر آرہا ہے تو بااثر حلقوں کی جانب سے پاکستان کے اندر پارلیمانی کی بجائے صدارتی نظام حکومت کو رائج دینے کی بحث ایک مرتبہ پھر اٹھائی جا رہی ہے۔تو کیا ہمارے ملک کے اندر پارلیمانی نظام حکومت واقعی ناکام ہو گیا ہے۔ اس کا جواب تو عوام ہی دے سکتے ہیں۔ مگر ماہرین سیاسیات نے صدارتی اور پارلیمانی نظام ہائے حکومت کی خوبیوں اور خامیوں پر طویل بحثیں کر رکھی ہیں۔ اعداد و شمار کی رو سے دنیا کے ”75 فیصد“ جمہوری ممالک میں صدارتی طرز حکومت رائج ہے۔

یہ امر واضح کرتا ہے کہ بیشتر ملکوں میں صدارتی نظام کو فوقیت حاصل ہے۔ اس نظام میں صدر حکومت اور مملکت، دونوں کا سربراہ ہوتا ہے۔ پارلیمانی نظام نے برطانیہ میں نشوونما پائی۔ یہی وجہ ہے، برطانیہ کی اکثر نو آبادیاں جب آزاد ہوئیں، تو انہوںنے اپنے سابق انگریز آقاﺅں کے پارلیمانی نظام حکومت کو اپنانا آسان سمجھا اور اس کی خامیوں پر زیادہ غور و فکر نہیں کیا۔ اس نظام حکومت کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ خاص طور پر پاکستان میں آزادی کے فورا بعد انگریز آقاﺅں کے طفیلی بہت سے جاگیردار ، امرا اور بااثر لوگ حکومت کے ایوانوں میں پہنچ گئے۔ وجہ یہ کہ اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں انھیں ہی قوت و اختیار حاصل تھا۔چنانچہ وہ افسر شاہی کے ساتھ مل کر سیاہ وسفید کے مالک بن بیٹھے۔جب فوج نے سیاست سے گند صاف کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی حکومتی ایوانوں میں آ پہنچی گند صاف کرتے کرتے اُسی کا حصہ بھی بن گئی۔

پارلیمانی نظام حکومت اسمبلیوں اور سینٹ کے ارکان کے ذریعے کام کرتا ہے۔ وزیراعظم، وزرا اور مشیر انہی ارکان اسمبلی میں سے چنے جاتے اور پھر حکومت چلاتے ہیں۔پاکستان اور جن ترقی پذیر ممالک میں پارلیمانی نظام حکومت رائج ہے،آج بھی وہاں یہ حال ہے کہ ایک انتخابی حلقے میں جو شخص زیادہ پیسے والا اور اثر و رسوخ کا مالک ہو‘ عموماً وہی ہر قسم کاالیکشن جیتا ہے۔ اس جیت کی خاطر وہ اپنا مال پانی کی طرح بہانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ بعض امیدوار برادری کے ووٹوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے امیدوار جب اسمبلیوں میں پہنچیں،تو وہ ذاتی مفادات مقدم رکھتے ہیں، انہیں قانون سازی کرنے اور حکومت چلانے سے زیادہ غرض نہیں ہوتی۔ جنرل ضیاءالحق کے دور میں ارکان اسمبلی کو ترقیاتی منصوبے انجام دینے کے لیے فنڈز ملنے لگے۔ یوں مال کمانے کا نیا در کھل گیا۔

یہ سوال ہم سب کے ذہنوں میں اُبھرتا رہے گا کہ کیا پارلیمانی نظام ناکام ہوگیا اور آج تک جتنی بار بھی اس نظام میں دخل اندازی کی گئی ہے کیا وہ ہمارے پارلیمانی نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے کی گئی ہے۔ کیا پاکستان میں اس پر بحث نہیں ہونی چاہیے، اور کیا یہ بحث پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے؟ عوام میں ہونی چاہیے یا ریفرنڈم ہونا چاہیے ؟

اب تو ایک ناخواندہ پاکستانی بھی جان چکا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت کی بنیاد کمزور ہے۔ اس نظام میں عام طور پر طاقتور اور دولت مند لوگ ہی اسمبلیوں سے لے کر کونسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ چنانچہ جمہوریت کے مشہور مقولے عوام کی حکومت، عوام کی طرف سے، عوام کے لیے کا تو جنازہ نکل چکا۔ حقیقت یہ ہے کہ روز اول سے مخصوص طاقتور ٹولہ پاکستانی عوام پر حکومت کر رہا ہے۔ وہ پچھلے ستر برس میں محیر العقول طور پر بارسوخ اور امیر ہو چکا۔ جبکہ عوام کی اکثریت غربت و جہالت کے گدھوں کے پنجوں میں پھنسی بلبلا رہی ہے۔برطانیہ، آسٹریلیا ، کینیڈا ‘ ملائیشیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں پارلیمانی نظام حکومت اس لیے کامیاب ہوا کہ وہاں تقریباً 100فیصد آبادی تعلیم یافتہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور ووٹر جانتا ہے کہ اس کی ذات ،محلے اور ملک و قوم کی بہتری کے لیے کون سا امیدوار موزوں رہے گا۔ وہ عموماً کسی لالچ، ترغیب اور خوف کے بغیر آزادی سے اپنا ووٹ استعمال کرتا ہے۔ مگر جن ممالک میں خواندگی کم ہے، وہاں پارلیمانی نظام حکومت کا ناگفتہ حال دیکھ لیجیے اس نظام کے باعث مجرم تک حکمران بن بیٹھتے ہیں۔

یہ تلخ حقیقت ہے کہ جہاں ہم اپنے ہمسایوں میں بہت سے چیزوں میں پیچھے ہیں وہیں ہم پارلیمانی نظام کی بہتری میں بھی پیچھے ہیں اپنے پڑوسی، بھارت کی مثال ہی لیں۔جو پارلیمانی نظام میں ہم سے بہت آگے ہے مگر وہاں بھی کئی سماجی تنظیموں کے مرتب کردہ اعداد و شمار انکشاف کرتے ہیں کہ بھارتی اسمبلیوں میں ایک سے ایک چھٹا ہوا مجرم بیٹھا ہے۔ کئی ارکان اسمبلی پر قتل، فراڈ، زنا اور چوری ڈاکے جیسے سنگین جرائم کے مقدمے چل رہے ہیں۔ جو بظاہر تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں،قوم پسندی کے جراثیم نے انہیں بھی اقلیتوں کا مخالف بنا رکھا ہے۔ حکومت مٹھی بھر بااثر و امیر خاندانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ جبکہ کروڑوں بھارتی غربت کے بوجھ تلے سسک سسک کر زندگی گزار دیتے ہیں۔بھارت اور پاکستان، دونوں ممالک میں خصوصاً دیہی بااثر طبقہ تعلیم کا سخت مخالف ہے۔ وہ اپنے علاقوں میں اسکول کھلنے نہیں دیتا۔ اگر خوش قسمتی سے اسکول کھل بھی جائے تو جلد یا بدیر باڑے، گودام،اصطبل یا نشیوﺅں کی آماج گاہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ علاقے کے بااثر لوگ اسکول کو چلنے ہی نہیں دیتے۔ دراصل انہیں علم ہے کہ پڑھ لکھ کر کمی کمین بھی اپنے حقوق سے واقف ہو جائیں گے۔ وہ پھر ان کی برابری کرنے لگیں گے اور دیہی معاشرے کے حاکم ایسا ہرگز نہیں چاہتے۔

جواب دیجئے