شخصیات

کیتھرین دی گریٹ…… رانا اشتیاق احمد

سکندر دی گریٹ اور پیٹر دی گریٹ کے نام سے تو آپ واقف ہوں گے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ تاریخ میں ایک خاتون بھی ایسی گزری ہیں جن کے نام کے ساتھ دی گریٹ یعنی اعظم کا لاحقہ آتا ہے۔ یہ خاتون روس کی ملکہ کیتھرین دی گریٹ یعنی کیتھرین اعظم ہیں۔ رضیہ سلطانہ، سیفو، میری کوٹری، ملکہ وکٹوریہ کی طرح کیتھرین اعظم کا شمار بھی ان خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے تاریخ کا رُخ موڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کیتھرین روس پر طویل ترین عرصے تک حکومت کرنے والی خاتون ہیں۔ ان کا دورِاقتدار 1762ء سے لے کر 1796ء ان کی موت تک رہا۔ انہوں نے روس کو حیات نو بخشی اور کسی حد تک معاشرے کو روشن خیال بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
کیتھرین 1729ء کو سٹیچی (Stettin) میں پیدا ہوئی جو اب پولینڈ کہلاتا ہے۔ ان کا اصل نام صوی فریڈرک آگسٹ واں انالٹ رزلٹ تھا۔ 1744ء میں وہ روس آگئیں اور 1745ء میں 16سال کی عمر میں اپنا نام کیتھرین رکھ لیا اور پیٹراعظم کے پوتے ڈیوک پیٹر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں اور روسی تخت کی جانشین ٹھہریں۔
یہ بھی پڑھیں! ہینری فورڈ: انقلاب ساز امریکی بزنس مین….. رانا اشتیاق احمد
شروع شروع میں اپنی آزادخیالی، روسی کلچر سے عدم واقفیت اور غیرملکی ہونے کی بنا پر انہیں روسی دربار میں شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا، تاہم کیتھرین نے خود کو پوری طرح روسی کلچر میں ڈھال لیا اور ساتھ ہی روسی امراء سے تعلقات بنانے میں بھی مہارت حاصل کر لی۔
آہستہ آہستہ کیتھرین کی غیرملکی شناخت مدھم پڑ گئی اور وقت گزرنے کے ساتھ انہیں ان کے خاوند سے بھی زیادہ اہل سمجھا جانے لگا۔ اس کی وجہ ان کے خاوند راز پیٹر سوئم کا کمزور، نااہل اور بچگانہ رویہ تھا۔ کیتھرین اور ان کے خاوند کے درمیان محبت کا رشتہ بھی کوئی مضبوط اور مثالی نہ تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس دوران کیتھرین نے کئی اعلیٰ درباری عہدے داروں کے ساتھ تعلقات بھی استوار کر لیے تھے۔ کیتھرین اور پیٹر سے ایک لڑکا پیدا ہوا، جس کا نام پال تھا۔
شاید راز پیٹر سوئم کے بچگانہ رویے اور کیتھرین کے دربار میں اثرورسوخ ہی کی وجہ سے زار کو تخت نشین ہونے کے کچھ عرصہ بعد ہی معزول کر دیا گیا۔ زار سوئم کا تختہ کیتھرین نے اپنے کچھ باوفا ساتھیوں کے ساتھ مل کر اُلٹا اور اس کی جگہ خود حاصل کر لی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد پیٹر کا قتل کر دیا گیا تاہم اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملتے کہ اس عمل میں کیتھرین کا کوئی ہاتھ تھا، گو کہ قتل کا شک اس پر ضرور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں! جولاہے سے لوہے کے سوداگر تک…… رانا اشتیاق احمد
اقتدار ملنے کے بعد کیتھرین نے خود کو انتہائی معاملہ فہم اور دانش مند رہنما ثابت کیا۔ ان کے زیراقتدار روس کا دائرہ اثر بڑا، اس کی سرحدوں میں وسعت آئی اور ساتھ ساتھ معاشرے میں مغربی طرزِعمل کو بڑھاوا دینے کا عمل بھی جاری رہا، جس کا آغاز پیٹراعظم نے کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اگرچہ کیتھرین کا خاوند ایک کمزور انسان تھا مگر کیتھرین کو اپنی حیثیت اور طاقت پر کبھی بھی شک نہیں رہا تھا۔
ان کے دورِحکومت میں روس کی سرحدیں بیلاروس، لیتھونیا، کریمیا اور پولینڈ تک جا ملیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کیتھرین کے دورِحکومت میں روس یورپ کی نئی سپرپاور کے طور پر سامنے آیا۔ روس کی سرحدوں کو وسیع کرتے میں روسی فوج کے رہنما اور مدبر شہزادہ گریگوری پوٹمکن کا بڑا عمل دخل تھا۔ وہ کیتھرین کا محبوب فوجی افسر تھا، گو کہ ان کے تعلقات ذاتی نوعیت کے تھے مگر فوجی تناظر میں دیکھا جائے تو روس کے نئی سپرپاور بننے، خاص طور پر کریمیا کے لوگوں کے دل جیتنے میں شہزادہ گریگوری کا بڑا ہاتھ تھا۔
زندگی کے ابتدائی سالوں میں کیتھرین واضح طور پر ایک آزاد خیال خاتون تھیں۔ ان کی اس آزاد خیالی کی دلیل ”نکاز کی قانون ساز کمیشن دستاویز“ کی صورت میں سامنے آئی۔ ان دستاویز میں ایک مثالی حکومت کا نمونہ پیش کیا گیا جس کے تحت انفرادی حقوقِ انصاف پر زور دیا گیا تھا، تاہم اس دستاویز کو اس وقت نظرانداز کر دیا گیا جب 1768ء میں روس اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان جنگ بھڑک اُٹھی۔ روس نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف دو جنگیں لڑیں جن کی وجہ سے اس کی سرحدیں بحراسود کے ساحلوں تک جا پہنچیں۔
کیتھرین کی کوششیں اور اندازِحکمرانی سے روس کی سرحدیں تو پھیلتی گئیں لیکن معاشی حالت ابتری اور فوج میں جبری بھرتیوں کی وجہ سے روسی عوام میں ناانصافی کا احساس بڑھتا گیا۔ یہ حالات 1773ء سے 1775ء کے دوران اشرافیہ اور غلامی کے خلاف بغاوتوں کا باعث بن گئے۔ اگرچہ اشرافیہ کی مدد سے کیتھرین نے ان بغاوتوں پر قابو تو پا لیا مگر اس کے روس کو آزاد خیال اور لبرل معاشرہ بنانے کے نظریے کو بڑا دھچکا لگا کیونکہ اشرافیہ کو غلام آبادی پر قابو رکھنے کے لیے بہت زیادہ اختیارات دے دیئے گئے تھے۔
کیتھرین کو تعلیم، آرٹ اور کلچر سے بہت لگاؤ تھا۔ ان کا مطالعہ وسیع تھا۔ انہوں نے خواتین کے لیے قائم کیے جانے والے اوّلین سکولوں میں سے ایک کی بنیاد بھی رکھی۔ اس ادارے کا نام ”سمونلی انسٹی ٹیوٹ“ تھا جو یورپ میں خواتین کے لیے پہلا ایسا تعلیمی ادارہ تھا جس کے اخراجات ریاست نے براشت کیے۔ کیتھرین کی علم دوستی کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت کے والٹیر جیسے عظیم ادیبوں کے ساتھ ان کی خط وکتابت ہوا کرتی تھی۔
کیتھرین کا سماجی و سیاسی فلسفہ
٭”میں خودمختار اور مطلق العنان حکمران بن کر رہوں گی، یہ میرا کام ہے اور اللہ مجھے معاف کر دے گا کیونکہ یہ اس کا کام ہے“۔
٭”میری آپ سے التجا ہے کہ آپ بہادر بنیں، کیونکہ ایک بہادر انسان تباہی کا بھی رُخ موڑ دیتا ہے“۔
٭”انسان جتنا زیادہ جانتا ہے اتنا ہی زیادہ معاف کرتا ہے“۔
٭”قوم کے اعتماد کے بغیر طاقت کوئی معنی نہیں رکھتی“۔
٭”تیز ہوائیں چل رہی ہیں جو آپ کو یا تو تخیل یا پھر دردِسر دے سکتی ہیں“۔
٭”میں ان لوگوں میں سے ہوں جو کیوں سے محبت کرتے ہیں“۔
کیتھرین کا دور روسی سلطنت اور امراء کے لیے سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔ ان کے حکم پر کئی نئے شہر اور قصبے بسائے گئے۔ کیتھرین نے پیٹراعظم کے فلسفہ کو آگے بڑھاتے ہوئے روس کو مغربی خطوط پر جدید بنانے کی کوششیں کیں جس میں وہ اس حد تک کامیاب رہیں کہ آج ان کا شمار دُنیا کی عظیم ترین حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ کیتھرین کے دور میں روس میں کئی طبی ادارے قائم کیے گئے، یہی نہیں بلکہ روس نے طب کے شعبہ میں اتنی ترقی کی کہ اس نے ادویات اور طبی آلات بھی بنانا شروع کر دیے۔
کیتھرین کی موت 1798ء میں 67 سال کی عمر میں ہوئی اور اسے سینٹ پیٹرزبرگ میں دفن کیا گیا۔

Leave a Reply

Back to top button