تازہ ترینخبریںٹیکنالوجیپاکستان سے

گرین لائن منصوبہ، 40 بسوں کی پہلی کھیپ کراچی پہنچ گئی

اکتوبر تک مزید 40 بسیں کراچی پہنچ جائیں گی اور گرین لائن منصوبہ نومبر کے اختتام تک فعال ہوجائے گا

گرین لائن بس منصوبے کے لیے 40 بسوں کی پہلی کھیپ بذریعہ بحری جہاز کراچی پہنچ گئی۔

اس موقع پر کراچی بندرگاہ پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کہا کہ پہلے مرحلے میں یہ منصوبہ کراچی کے گنجان آباد علاقے سرجانی ٹاؤن تا گرومندر (نمائش) تک کے لیے فعال ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اکتوبر تک مزید 40 بسیں کراچی پہنچ جائیں گی اور گرین لائن منصوبہ نومبر کے اختتام تک فعال ہوجائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے بتایا کہ گرین لائن راہداری 22 کلومیٹر طویل ہے جس کا مقصد آسان نقل و حرکت اور روزانہ ایک لاکھ 35 ہزار مسافروں کو سواری کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ منصوبے کا کنٹرول روم، ٹریک، اسٹیشن تیار ہیں، اب سافٹ ویئر لوڈ ہوگا اور ڈرائیورز کی تربیت اور آزمائشی سفر ہوں گے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں کہا کہ اس کے بعد 2 ماہ میں کراچی میں ٹرانسپورٹ کا یہ جدید منصوبہ کام کرنا شروع کردے گا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ کراچی کے شہریوں کی بہت بڑی تعداد ٹرانسپورٹ کے اس منصوبے سے فائدہ اٹھائیں گے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ گرین لائن منصوبہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کا واحد منصوبہ نہیں بلکہ وفاق کے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں کراچی کے لیے 5 بڑے منصوبے شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ جمعرات کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہے جس میں اس سے بھی بڑے اور جدید منصوبے کراچی سرکلر ریلوے کی منظوری بھی دے دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ منصوبے کی منظوری کے بعد جب وزیراعظم کو وقت ملا وہ یہاں کے سی آر منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے آئیں گے جس کی مالیت ڈھائی سو ارب روپے ہے جبکہ گرین لائن کا منصوبہ 27 ارب روپے کا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ آئندہ چند ہفتوں میں گجر نالہ، محمود آباد اور اورنگی نالے کے ساتھ بڑی سڑکوں کی تعمیر کا بھی سنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب کراچی کو اچھی خبریں ملتی چلی جائیں گی، وہ کراچی جس نے عمران خان کو وزیراعظم بنانے کے لیے بڑی تعداد میں پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا اس کا پاکستان کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہوتے ہوئے وفاق پر خصوصی حق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے شہر کا یہ حق آج سے پہلے آنے والی وفاقی اور نہ صوبائی حکومتوں نے ادا کیا لیکن عمران خان کی ہدایات تھیں جس پر منصوبے بنائے گئے اور ہم نے بھی یہ تنقید برداشت کی کہ آئے اعلان کیا اور چلے گئے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑے منصوبوں میں منصوبہ بندی سے لے کر عملی کام شروع ہونے تک میں وقت لگتا ہے لیکن ہمیں اس بات پر اعتماد تھا اور لوگ محنت کررہے تھے۔

Leave a Reply

Back to top button