فن اور فنکار

گلوکارہ بیونسے بھی جنسی ہراسگی کا شکار ہوئیں: والد کا انکشاف

ویب ڈیسک: خواتین کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کے خلاف اکتوبر 2017 میں ’’می ٹو مہم‘‘ سامنے آئی جس کا سہارا لے کر دنیا بھر سے کئی خواتین نے اس بات کا اظہار کیا کہ انہیں جنسی طور ہرہراساں کیا گیا، اظہار کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے.
اسی حوالےسے معروف امریکہ کی معروف گلوکارہ بیونسے کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو بھی 16 سال کی عمر میں راک بینڈ کے دو ممبرز کی جانب سے جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
بیونسے کے والد میتھیو کنولز نے یہ انکشاف ایک ویڈیو انٹرویو کے دوران کیا، ان کا کہنا تھا کہ سال 2000 کے آغاز میں بیونسے کا بینڈ ’’ڈیسٹنی چائلڈ‘‘ ایک اور ’’بینڈ جیگڈ ایج‘‘ کے ہمراہ ایک دورے پر تھا کہ دوران سفر میری بیٹی بیونسے کا فون آیا اس نے مجھے جنسی ہراسگی سے متعلق بتایا۔
میتھیو کنولز نے کہا کہ اس وقت گلوکارہ بیونسے کی عمر 16 برس تھی جبکہ ’’بینڈ جیگڈ ایج‘‘ کے ان دو نوجوانوں کی عمر 21 سے 22 سال کے درمیان تھی جو بیونسے کو ہراساں کر رہے تھے۔
گلوکارہ بیونسے کے والد نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ان دونوں نوجوانوں نے بیونسے کے ساتھ ساتھ ان کے بینڈ کی ایک اور گلوکارہ کیلی رولینڈ کو بھی جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔
واضح رہے کہ بیونسے کے والد ان کے منیجر بھی رہ چکے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے میتھیو نے بتایا کہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ بیونسے اور کیلی نے مجھے فون کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’بینڈ جیگڈ ایج‘‘ کے دو نوجوان ہمیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں جس کے بعد میں نے فوری اس بینڈ کو سفر کے بیچ میں ہی بس سے اتار دیا تھا۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی دونوں بینڈز کے ایک ساتھ سفر کرنے کے اپنے فیصلے پر شرمندہ ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button