تازہ ترینخبریںفن اور فنکار

گلوکارہ ریانا ’بارباڈوس‘ کی ’قومی ہیرو بن گئیں

ریانا جزیرہ نما بارباڈوس کی 150 سالہ تاریخی کی دوسری خاتون بن گئیں، جنہیں حکومت نے ’قومی ہیرو‘ کا درجہ دیا ہے، اس سے قبل 1866 میں ’سارا این گل‘ نامی مذہبی اسکالر خاتون کو ’قومی ہیرو‘ قرار دیا گیا تھا۔

شمالی امریکی کیریبین ملک بارباڈوس نے معروف پاپ گلوکارہ ریانا کو سرکاری سطح پر ’قومی ہیرو‘ قرار دے دیا جب کہ ملک کے نام کے ساتھ بھی ’جمہوری‘ کا لفظ لگا دیا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق بارباڈوس کی وزیر اعظم نے 29 اور 30 نومبر کی درمیانی شب کو ہونے والی تقریب میں گلوکارہ کو سرکاری اعزاز سے نوازا۔

ریانا جزیرہ نما بارباڈوس کی 150 سالہ تاریخی کی دوسری خاتون بن گئیں، جنہیں حکومت نے ’قومی ہیرو‘ کا درجہ دیا ہے، اس سے قبل 1866 میں ’سارا این گل‘ نامی مذہبی اسکالر خاتون کو ’قومی ہیرو‘ قرار دیا گیا تھا۔

یہی نہیں بلکہ ریانا زندہ افراد میں وہ دوسری شخصیت بن گئیں، جنہیں ملک و قوم کے سرکاری ’قومی ہیرو‘ کا درجہ حاصل ہوگا۔

ان سے قبل 85 سالہ کرکٹر سر گار فیلڈ کو ’قومی ہیرو‘ کا درجہ حاصل ہے اور انہیں بھی کئی سال قبل مذکورہ اعزاز دیا گیا تھا۔

ریانا کو قومی ہیرو قرار دیے جانے اور اس کا میڈل دینے کی تقریب میں وزیر اعظم میا امور موتلے نے انہیں ملک و قوم کا فخر قرار دیتےہوئے انہیں ایوارڈ اور سند پیش کی۔

بارباڈوس کی حکومت نے ستمبر 2018 میں ریانا کو صحت و تعلیم سے متعلق سفیر بھی مقرر کیا تھا جب کہ انہیں متعدد ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

جہاں بارباڈوس کی حکومت نے ریانا کو ’قومی ہیرو‘ قرار دیا، وہیں حکومت نے ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم کا نام بھی اعزازی ریاستی سربراہ کے خانے سے نکال دیا جب کہ ملک کے نام میں تبدیلی کرتے ہوئے ملک کا سرکاری نام ’جمہوریہ بارباڈوس‘ رکھ دیا۔

ملکہ برطانیہ بارباڈوس کی اعزازی سربراہ تھیں جو گزشتہ 70 سال سے وہاں کے آئیں میں بارباڈوس کے سربراہ کے طور پر شامل تھیں۔

بارباڈوس ماضی میں سلطنت برطانیہ کے قبضے میں رہ چکا ہے اور اسے بھی دیگر ممالک کی طرح برطانیہ نے 1966 میں آزادی دی تھی۔

سلطنت برطانیہ میں ملکہ برطانیہ اپنے تمام مقبوضہ ممالک کی سربراہ تھیں اور ان کی آزادی کے بعد بھی چند ممالک کی وہ علامتی سربراہ رہی تھیں،جن میں سے بارباڈوس بھی ایک تھا۔

Leave a Reply

Back to top button