Uncategorized

گلہائے صد رنگ کے ہیوسٹن گروپ کی جانب سے پہلا سید عبدالستار مفتی میموریل مشاعرہ

سید عبدالستار مفتی مرحوم کے صاحبزادے سید ایاز مفتی المعروف اِبنِ مفتینے کچھ عرصہ قبل عبدالستار مفتی میموریل عالمی فی البدیہہ طرحی آن لائن کے نام سے فیس بک پر ایک نئے سلسلے کا آغاز کیا۔ جس کے تحت اب تک آن لائن اب تک بیس مشاعرے ہو چکے ہیں۔ بعد ازاں اِبنِ مفتی نے اِسمیں لگاتار شرکت کرنے والے دنیا کے مختلف ملکوں کے شرکت کنندگان کے لئے گلہائے صد رنگ کے نام سے ایک ضخیم مجموعہ ہائے دیوان  نکالنے کا عزم مصمم کیا۔ جسمیں ان تمام شعرا کا کلام دیوانِ مختصر کی صورت میں شامل کیا جائے گا۔ جو لگاتار اس سلسلے سے وابستہ رہیں گے۔ امریکہ، کینیڈا، پاکستان، ہندوستان اور یورپ کے شعرا نے انکے اس منصوبے کو بے حد سراہا۔ اور اس اپنی طرز کے اس منفرد اور اچھوتے منصوبے پر مولف کی کاوشوں کی تعریف کی۔ اب جبکہ گلہائے صد رنگ تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے۔ تو اس ضمن میں گلہائے صد رنگ کے ہیوسٹن گروپ نے نو۔ نومبر 2014 کی شب ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔ جسمیں اس عظیم پروجیکٹ کے بارے میں معلومات اور اپ ڈیٹس دی گئیں۔ اس موقع پر باسط جلیلی نے بتایا کہ گلہائے صدرنگ میں دنیا کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے شعرا کو انکا دیوانِ مختصر بغیر کسی مالی تحریص کے اور بغیر کسی قیمت کے ایک ادبی کاوش کے طور پر بالکل مفت فراہم کیا جائے گا۔ تاہم ہیوسٹن گروپ اسکے مالی بوجھ کو اٹھانے کے لئے کوشاں ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور یورپ کے لوگ اگر اس پروجیکٹ میں کوئی کردار ادا کرنا چاہیں تو انکی پیشکش کو قبول کیا جاسکتا ہے۔ مگر پاکستان اور انڈیا سے کسی بھی قسم کا مالی تعاون نہیں لیا جائے گا۔ گلہائے صدرنگ میں تقریباً تیس دیوان شامل ہونگے۔ اور یہ کتاب چھ سو یا چھ سو صفحات سے زیادہ ہو گی۔ اسکی ساری ڈیزائننگ، ترتیب، مضامین اور تالیف اِبنِ مفتی نے کی ہے۔ اسکے پیچھے انکی شب و روز کی انتھک محنت شامل ہے۔ تمام شرکا نے اس موقع پر اس پروجیکٹ کی کامیابی کے لئے اپنے تعاون کا ہر ممکن یقین دلایا۔ اور اسکے بعد پہلے سید عبدالستار مفتی میموریل مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ اس نشست میں ہیوسٹن کے وہ تمام شعرا شامل تھے۔ جو آن لائن فیس بک پر عبدالستار مفتی میموریل عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے میں لگاتار حصہ لیتے رہے ہیں۔ اور گلہائے صد رنگ  کے اس مجموعے میں انکا کلام بھی شامل ہو گا۔ اس موقع پر اِبنِ مفتی نے سامعین کو بتایا کہ آج باسط جلیلی صاحب کی سالگرہ ہے اور اس مناسبت سے تقدیسِ ادب کے اس ڈائریکٹر کی سالگرہ منائی گئی اور کیک کاٹا گیا۔ اس مشاعرے کی صدارت کے لئے ناظم ِ مشاعرہ جناب باسط جلیلی نے تقدیسِ ادب کے بانی اِبنِ مفتی  کا نام تجویز کیا اور تالیوں کی گونج میں وہ اپنی نشت پر تشریف لائے۔ مہمانِ خصوصی تین شاعری کے مجموعوں کی خالق محترمہ رعنا حسین کو بنایا گیا۔ نظامت کے فرائض جناب باسط جلیلی نے سر انجام دئیے۔

جھلکیاں
تلاوت: جناب انور حسین نے کی
نعت ِ رسولِ مقبولۖ: جناب سید ایاز مفتی نے بارگاہِ رسالتما ب ۖ میں گلہائے عقیدت کا نذرانہ پیش کیا ۔
ناظم مشاعرہ نے اس موقع پر اس مشاعرے کے فارمیٹ کا اعلان کیا ۔ جس کے مطابق اس مشاعرے میں سید عبدالستار مفتی مرحوم کے مصرعہ طرح پر کہی جانیوالی غزل پیش کی جائیگی اور دوسری تخلیق کے لئے شاعر کچھ بھی سنا سکتا ہے
زاہد محمود: اس موقع پر اِبنِ مفتی کی ایک نئی دریافت  جناب زاہد محمود نے اپنا مزاحیہ اور سنجیدہ کلام پیش کی
شمشاد ولی خان: شہر کی بڑی معروف شخصیت جناب شمشاد ولی نے گلہائے صد رنگ کے پروجیکٹ کے لئے دامے درمے سخنے اپنے تعاون کا یقین دلایا اور خود بھی اسمیںکوئی کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اور اسکے بعد اپنا کلام سنایا۔ اور حاضرین سے داد و تحسین کے سزاوار ٹہرے
شاہ گل: شاہ گل نے دونوں غزلیں مصرعہ  طرح پر سنائیں۔ اور مترنم سنائیں ۔ انکو ایک ایک شعر پر داد دی گئی۔ اور بار بار انکے اشعار کو سنا گیا۔ شاہ گل گویا مشاعرہ لوٹ کر لے گئیں۔
ڈاکٹر خالد رضوی: پہلی طرحی غزل  جو مزاحیہ تھی۔ بے پناہ داد حاصل کی۔ اور بعد ازاں ایک آزاد نظم سنائی
نعیم صدیقی : نعیم صدیقی نے مختصر مگر بے حد جامع کلام سناکر ہر اک دل کو موہ لیا ۔
ترنم شبیر: کراچی کے کامیاب دورے اور تقدیس ِ ادب کی جانب سے کئی عالمی مشاعروں میں شرکت کے بعد لوٹنے والی ترنم شبیر نے دو غزلیں مصرعہ  طرح پر سنائیں۔ انہیں بھی بے حد داد و تحسین سے نوازا گیا
سید الطاف بخاری : بہت ہی جامع اور متاثر کن غزلیں سناکر تمام سامعین کو چونکا گئے۔ انہیں بے حد داد دی گئی
ناظم ِ مشاعرہ باسط جلیلی:  نے اوجِ انسان کے نام سے ایک آزاد نظم پیش کر کے تمام سامعین کے دل موہ لئے ۔ انکی نظم دلوں کو چھو لینے والی تھی ۔ اسکے بعد انہوں نے مصرعہ  طرح پر ایک مختصر غزل بھی سنائی
رعنا حسین: مہمانِ خصوصی محترمہ رعنا حسین نے اس موقع پر طرحی اور غیر طرحی دونوں غزلیں سنائیں اور ایک آزاد نظم بھی پیش کی ۔ جسے سامعین نے بے حد سراہا۔
سید ایاز مفتی: صاحب صدر جناب سید ایاز مفتی  المعروف ابنِ مفتی نے اس موقع پر اپنے والد سے موسوم مشاعروں میں کہا جانیوالا اپنا طرحی کلام سنایا۔ انہوں  نے ایک غزل تحت سے اور ایک ترنم سے سنائی۔ اسکے بعد سامعین کے بے حد اصرار پر انہوں نے ایک نئی غزل سنائی۔ جس کو سامعین نے بے حد سراہا اور اسے حاصلِ مشاعرہ غزل قرار دیا۔
آخر میں شاعروں کے ساتھ فوٹو سیشن کیا گیا

– See more at: http://www.urdutimes.com/content/68533#sthash.HjgJNpEC.dpuf

Leave a Reply

Back to top button