کالم

گمانوں کے لشکر میں گِھرا قلب…… ارم صبا

گمانوں کے لشکر میں گھرے قلب کو یقین کا اثبات کیسے حاصل ہو۔کثرتِ گماں میں یقینِ وحدت حاصل کرنا ناممکن سی بات لگتی ہے۔ گمان کی طاقت یقین کی عمارت کو پل بھر میں زمیں بوس کر دیتی ہے۔ گمان تو لطیف خیال میں ملاوٹ پیدا کر کے یقین کی ڈور کو توڑ کر معاشرے میں تفرقہ پیدا کر دیتا ہے، نہ صرف معاشرے میں بلکہ روحانی قلب کو بھی پراگندہ کر دیتا ہے۔ یقین محفوظ رہے تو پروردگار کی طرف سے بھی نعمتوں کا نزول رہتا ہے۔

تجسس میں گوندھی انسانی فطرت کے لئے خیر اور شر کے درمیان تمیز مشکل امر ہے۔ بے یقینی کی فضا میں سانس لیتی زندگی حالات سے زیادہ خیالات سے پریشان ہو جاتی ہے۔ آج کی سائنسی ترقی اور فلسفیانہ بحث کی عمارت سر مایہِ بے یقینی پر استوار ہو رہی ہے۔ اگر امیری کے باوجود سرمایہ یقین نہ ملے تو ایسی امیری حاصل کو لاحاصل بنا دیتی ہے۔ زندگی مستقبل کے فرضی اندیشوں سے خوف زدہ رہتی ہے جبکہ اکثر گمان صرف فرضی ہوتے ہیں۔ حضرت علیؓ کا فرمان ہے دل کی روشنی یقین، روح کی نصیحت…… یقین زہد کا پھل، یقین عقلمند کی چادر، یقین اور علم کا کمال یقین ہے۔

گمانوں کی آماجگاہ قلب ہے اور اگر یہ گمانوں میں گھر جائے تو قلب سوزوگداز سے محروم ہو کر وسوسوں کی دلدل میں پھس جاتا ہے اور جب قلب رفعت خیال سے محروم ہو جائے، نصیحت کرنے والا یقین سے محروم ہو جائے تو تبلیغ تاثیر سے محروم ہو جاتی ہے۔ ہمارے آپس کے مباحثے بھی بلند فکری کے فقدان کی وجہ سے گمانوں اور اندیشوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ صاحب گماں اگر صاحب یقین نہ ہو تو خرد کی گتھیاں سلجھا کر بھی گمانوں کی تاریکی میں گھرا رہتا ہے۔ یقین اور گمان غیر مادی ہیں اور ان کا مسکن قلب ہے۔ یقیں منطق اور دلیل کا محتاج نہیں ہوتا، زندگی میں معنویت کو یقین ہی تلاش کر سکتا ہے ورنہ گمان میں تو وجود ہستی کا تصور بھی باقی نہیں رہتا۔ علامہ اقبالؒ نے بھی کیا خوب فرمایا تھا:

سن اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار
غلامی سے بدتر ہے بے یقینی

تقربِ الہی انسان کو حزن، اندیشوں اور گمانوں سے آزاد کر دیتا ہے۔ وجود کی عظمت کو صاحب یقین ہی تلاش کر سکتا ہے۔ یقین کا راستہ تعمیر روح اور تعمیر کردار کا راستہ ہے۔ یہ انسان میں خود اعتمادی کی صلاحیت پیدا کر کے ارداوں کو متزلزل ہونے سے بچاتا ہے۔ یقین خود شناشی کا فہم دیتا ہے۔ امام غزالیؒ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ یقین تاریکی میں روشنی کا گلاب، دولت لازوال کا معراجِ، کمال یقین کو نہ کوئی ڈرا سکے اور نہ کوئی لبھا سکے۔ اور واصف علی واصفؒ نے فرمایا کہ گمانوں کے لشکر میں یقین کاثبات ایسے ہے، جیسے یزیدی فوج کے سامنے امام حسینؒ۔

Leave a Reply

Back to top button