سپیشل

گورنر ہاؤس پنجاب: کل اور آج!

زکریا رائے

چڑیا گھر، میو گارڈنز، پرل کانٹی نینٹل ہوٹل، آواری ہوٹل، باغ جناح، ایچی سن کالج، قربان لائنز (پولیس) اور چلڈرن کمپلیکس کے قریب واقع گورنر ہاؤس، لاہور کے مال روڈ پر واقع صدیوں پرانی ثقافت کی ترجمانی کر رہا ہے۔گورنر ہاؤس آثارِ قدیمہ کی مختلف النوع اشیاء کا مرکز ہے۔ فرنگی عہد میں جتنی بھی ملکی اور بین الاقوامی شخصیات لاہور کے دورے پر آئیں ان کا قیام اکثر گورنر ہاؤس میں رہا اور یہاں اُن کے اعزازمیں تقاریب منعقد ہوئیں۔

ملکہ وکٹوریا کا بیٹا شہزادہ ایلفرڈ 1869ء میں لاہور آیا تو گورنر ہاؤس میں ان کے اعزاز میں شان دار تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔ ہندوستان کے وائسرائے جب بھی لاہور آتے تو یہیں دربار منعقد کرتے۔ گورنر ہاؤس کو قیام پاکستان کے بعد بھی کئی بین الاقوامی شخصیات کی میزبانی کا شرف حاصل رہا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ، سعودی عرب کے شاہ فیصل، سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن، سابق بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو، متحدہ عرب امارات کے سابق صدر زید بن سلطان النہان، لیبیا کے صدر محمد معمر قذافی اور درجنوں رہنماؤں کے درمیان یاد گار ملاقاتوں کا مرکز رہا ہے۔

1974ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں جب دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی گئی تو امت مسملہ کے رہنماؤں کو پنجاب گورنر ہاؤس لان میں شاندار ظہرانہ پیش دیاگیا۔ جس میز پر کھانا سجایا گیا وہ آج بھی عظمتِ رفتہ کی گواہی دے رہی ہے۔ اسی عمارت میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، وزراء،گورنرز نے حلف اٹھا کر وطنِ عزیز سے وفاداری کا عہد نبھایا ہے۔گورنر ہاؤس صرف گورنر کے لئے ہی مختص نہیں بلکہ اس میں وزیراعظم، صدر، فوجی قیادت اور بین الاقوامی رہنماؤں کے لئے بھی مختلف قیام گاہیں موجود ہیں۔گورنر ہاؤس میں 400 سالہ دربار ہال ہے، جو عام طور پر تمام سرکاری افعال کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

برطانوی افواج نے جب تختِ لاہور فتح کیا تو انہوں نے تقریباً 2500 روپے کے عوض گورنر ہاؤس کی موجودہ عمارت خریدی، جو برطانوی لیفیٹیننٹ گورنر کے زیر استعمال رہتی،گورنر اگر لاہور سے باہر کہیں جاتے تو سفر کا ذریعہ چونکہ ریلوے تھا اس لیے لاہور ریلوے اسٹیشن سے گورنر ہاؤس تک ایک سیدھی سڑک بنائی گئی جسے ایمپریس روڈ کہا گیا۔

1849 ء سے1921ء تک گورنمنٹ ہاؤس لیفٹیننٹ گورنرز کی اقامت گاہ رہا۔1921ء کے بعد لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کا عہدہ گورنر پنجاب قرار پایا۔ پنجاب کے انتظامی بورڈ کا سربراہ سر ہنری لارنس تھا جس نے1849ء میں گورنر ہاؤس سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ اُس نے 20 جنوری1853ء کو لاہور اور پنجاب کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا، ہنری لارنس کے چھوٹے بھائی جان لارنس پنجاب کے پہلے چیف کمشنر اور بعدازاں 1859ء میں پہلے لیفٹیننٹ گورنر ہاؤس کی رونق بنے۔ وہ چار سال تک گورنر ہاؤس میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ بعدازاں سر جان لارنس کی جگہ سر رابرٹ منٹ گمری پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ جنوری1865ء میں منٹ گمری کی جگہ سر ڈونلڈ میکلوڈ لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے گورنر ہاؤس میں براجمان ہوئے۔ان کے بعد سر ہنری میرین ڈیورنڈ یکم جون 1870ء کو پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر بنے۔ وہ صرف سات ماہ اس عہدے پر فائز رہے اور یکم جنوری 1871ء کو ٹانک میں ایک حادثے میں چل بسے۔ ان کی وفات کے بعد سر ہنری ڈیوئیس اس عہدے پر فائز ہوئے۔

وہ 1877ء تک گورنر ہاؤس میں رہ کر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پھر اپریل 1877ء میں سر رابرٹ ایلز ایجرٹن کا تقرر ہوا۔ وہ 1882ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ایجرٹن کے بعد4 اپریل1882ء کو سر چارلس ایچی سن پنجاب کے گورنر بنے اور1887ء تک اپنے عہدے پر فائز رہے۔ وہ ہندستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ ان کے دور میں پنجاب نے بہت ترقی، نہری نظا م کو ترقی ملی اور پنجاب چیف کالج قائم کیا گیا۔ ان کے بعد سر جیمز براڈووڈ لائل اپریل 1887ء میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر بنے اور1892ء تک اس عہدے پر فائز رہ کر ریٹائر ہوئے۔ سر لائل کے بعد سر ڈینیس فٹز پیٹرک 1892ء میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر بنے۔ وہ1897ء میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ فٹز پیٹرک کے بعد سر ولیم میک ورتھ ینگ پنجاب کے گورنر بنے۔ وہ 1902ء تک پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر رہے۔ ان کے بعد سر چارلس منٹ گمری ریواز سر ڈینزل ایبٹسن، سر تھامس لوئیس ولیم ڈین، سر فرانس اوڈوائر، ایڈورڈ میکلیگن، سر میلکم ہیلی، مونٹ مورنسی، ایمرسن، سر ہنری ڈفیلڈ کریک، سرپی، جے گلینسی اور سر ای، ایم جینکنز قیام پاکستان تک بالترتیب گورنر رہے۔ اور اس حیثیت سے گورنر ہاؤس میں مقیم رہے۔

قیام پاکستان کے بعد سر فرانسس موڈی، سردار عبدالرب نشتر، ابراہیم اسمعیل چندریگر، میاں امیر الدین، حبیب ابراہیم رحمت اللہ، میاں مشتاق احمد گورمانی صوبہ پنجاب کے گورنر رہے۔ اس کے بعد 1957ء میں ون یونٹ کی تشکیل ہوئی اور پنجاب مغربی پاکستان صوبے میں شامل ہو گیا۔ مغربی پاکستان کے گورنروں کی اقامت گاہ بھی لاہور کا گورنر ہاؤس ہی رہا اور اختر حسین، ملک امیر محمد خاں نواب آف کالا باغ، جنرل محمد موسیٰ، یوسف ہارون، ایئرمارشل نور خاں، جنرل عتیق الرحمن، مغربی پاکستان صوبہ کے گورنر کی حیثیت سے گورنر ہاؤس لاہور میں مقیم رہے۔ ون یونٹ کے خاتمہ کے بعد پنجاب کی پرانی صوبائی حیثیت 1970ء میں بحال ہوئی تو جنرل عتیق الرحمن پنجاب کے گورنر مقرر ہوئے۔ آپ صاحب تصنیف بھی تھے۔

انھوں نے سات کتابیں تصنیف کیں جن میں سے ان کی خودنوشت "Back to the Pavilion ” کو زیادہ شہرت ملی۔ ان کے بعد ملک مصطفیٰ کھر،حنیف رامے، نواب صادق حسین قریشی، نواب محمد عباس خان عباسی، جسٹس اسلم ریاض حسین، لیفٹیننٹ جنرل سوار خان، لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان، مخدوم محمد سجاد حسین قریشی، جنرل (ر) ٹکا خان، میاں محمد اظہر، چوہدری الطاف حسین، لیفٹیننٹ (ر) راجا سروپ خان، خواجہ طارق رحیم، شاہد حامد، ذوالفقار علی کھوسہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد صفدر، لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول اور سلمان تاثیر بالترتیب پنجاب کے گورنر رہے ہیں۔سلمان تاثیر کو 4 جنوری 2011ء کو راولپنڈی میں ان کے گارڈ نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ ان کے بعد سردار لطیف کھوسہ اور سیّد احمد محمود گورنر پنجاب رہے۔ چوہدری محمد سرور2013ء میں گورنر بنے مگر کچھ عرصہ بعد مستعفی ہو گئے،لیکن گورنر کا عہدہ ایک بار پھر رفیق رجوانہ سے ہوتا ہوا چودھری سرور کے دامن میں آ گرا۔

گورنر ہاؤس کی رہائشی عمارتیں، دربار، ہالز، دفاتر، مال خانے، جھیل، سرسبز لان، مصنوعی پہاڑی اس پر بل کھاتی سیڑھیاں، یہ تمام نظارے دیکھنے والوں کو سحر زدہ کر دیتے ہیں۔ زندگی کی تمام سہولتوں کی فراہمی کے پیش نظر اس عمارت کو ہر لحاظ سے مکمل بنایا گیا ہے۔ بڑے بڑے آہنی دروازوں کے پیچھے طویل سڑکوں اور سبزہ زاروں کے درمیان سفید رنگ کی یہ پُرشکوہ اور شان دار عمارت اپنی طرز کا بے حد اور منفرد شاہکار ہے۔ آج بھی گورنر ہاؤس کسی چھوٹی سی ریاست کی طرح اپنی ہی ایک دنیا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button