تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

گوند کتیرا: گرمی میں دے جسم کو ٹھندک کا احساس

گوند کتیرا کا استعمال تقریباً سو سال سے ہو رہا ہے، اندرونی طور پر استعمال کرنے کیلئے اس کے ساتھ پانی کی زیادہ مقدار استعمال کرنی چاہئے، دنیا میں اس کی پیداوار تقریباً 5500 ٹن سالانہ ہے۔ ایک درخت سے ایک سال میں پانچ کلو گوند ملتا ہے۔

گوند کتیرا (Tragacanth gum) ایک خاردار درخت کا گوند ہے،یہ پودا عام طور پر پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے، جس کی اونچائی تقریباً 15میٹر تک ہوسکتی ہے۔ دُنیا میں سب سے زیادہ گُوند کتیرا ایران میں پیدا ہوتا ہے۔ ایران کے علاوہ بھارت، پاکستان، انڈونیشیا، ویتنام اور سوڈان میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس پودے کی گوند کی کوئی خوشبو اور ذائقہ نہیں ہوتا، یہ پودے کی اندرونی رطوبت کو خشک کرکے بنایا جاتا ہے اور اس کو کئی طرح سے استعمال کیا جاتا ہے، کھانے کیساتھ ساتھ اس کو دیگر انڈسٹریز میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس درخت کے پھولوں کی خوشبو ناگوار ہوتی ہے، اس کا گوند ہی بطور دوا استعمال ہوتا ہے۔

گوند کتیرا کا استعمال تقریباً سو سال سے ہو رہا ہے، اندرونی طور پر استعمال کرنے کیلئے اس کے ساتھ پانی کی زیادہ مقدار استعمال کرنی چاہئے، دنیا میں اس کی پیداوار تقریباً 5500 ٹن سالانہ ہے۔ ایک درخت سے ایک سال میں پانچ کلو گوند ملتا ہے۔

گوند کتیرا کے طبی فوائد

ہیٹ سٹروک:
گوند کتیرا ہیٹ سڑوک کا انتہائی موثر علاج ہے۔ گرمیوں کے موسم میں گوند کتیرا کا ستعمال آپ کو سخت گرمی اور لو سے محفوظ رکھتا ہے۔

ناک سے خون بہنا:
اگر آپ کے ناک سے خون بہتا ہے اور آپ کے ناک سے نکسیر آتی ہے تو گوند کتیرے والا پانی پینا اس کا موثر علاج ہے۔ عموماً نکسیر گرمی کے موسم میں آتی ہے چنانچہ گوند کتیرا کے استعمال سے آپ کا ٹمپریچر بھی بہتر رہتا ہے اور اس سے آپ کی صحت بھی اچھی رہتی ہے۔ اور اس طرح آپ کو بہت زیادہ گرم موسم میں گرمی نہیں لگے گی۔

مدافعتی نظام کی درستگی:
گوند کتیرا میں شامل اجزا آپ کے نظام مدافعت کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ اور جسم میں اضافی توانائی اور طاقت لاتا ہے۔

قبض کی شکایت:
اگر آپ کو قبض وغیرہ کی شکایت ہے تو اس کے لیے آپ گوند کتیرے کا استعمال شروع کر لیں۔ اس سے آپ کو جتنی بھی قبض،بواسیر ہو، اس سے آپ کو کافی آرام مل جائے گا۔اور اس سے آپ کی صحت بھی اچھی رہے گی اور اس سے آپ کا معدہ ٹھیک ہو گا۔ اور پھر نظام انہظام بھی بہتر کام کرنے لگے گا۔

1 2 3اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button