مختصر تحریریں

گھنے جنگل سے گریٹر اقبال پارک تک!

پرانے وقتوں میں دریائے راوی بادشاہی مسجد اور قلعہ اکبری کی شمالی دیواروں کے قریب سے گزرا کرتا تھا۔ کئی صدیاں اس جگہ بہنے کے بعد دریا آہستہ آہستہ اپنا رُخ تبدیل کرتا ہوا اپنی موجودہ گزرگاہ تک جا پہنچا۔گویا جس جگہ راوی کی لہریں کبھی ٹھاٹھیں مارا کرتی تھیں وہاں ایک وسیع وعریض میدان وجود میں آ گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں ایک خطرناک گھنا جنگل اُگ آیا۔ شالامار باغ سے بادامی باغ تک پھیلا ہوا یہ جنگل اس قدر گنجان تھا کہ یہاں دن کے وقت بھی کوئی شخص گزرتے ہوئے خوف محسوس کرتا تھا۔ سکھوں کا دور آتے آتے یہ جنگل ڈاکوؤں اور لٹیروں کی پناہ گاہ بن گیا تھا۔ انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کیا تو انہوں نے اپنی حفاظت کے پیش نظر اس جنگل کو صاف کر دیا تا کہ انگریز مخالف گروہ یا دیگر سماج دشمن عناصر یہاں چُھپ کر کارروائیاں نہ کر سکیں۔
جنگل کٹنے کے بعد یہاں چٹیل میدان وجود میں آگیا جسے انگریزوں نے پلٹن میدان کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا جہاں انگریز فوج کی پریڈ وغیرہ ہوا کرتی تھی۔ علاوہ ازیں گھڑدوڑ اور نیزہ بازی کے مقابلے بھی اس میدان میں منعقدکرائے جاتے تھے۔ شام کے وقت اندرون شہرکے لوگ میدان میں چہل قدمی اور سیر کے لیے آیا کرتے تھے۔1930 ء کے لگ بھگ میدان میں آم اور دوسرے پھلوں کے درخت لگوائے گئے۔ علاوہ ازیں میدان کو گھاس اور پودوں سے بھی آراستہ کیا گیا۔ اس طرح یہاں جو باغ وجود میں آیا اُسے اس وقت کے گورنر جنرل ہند (وائسرائے) لارڈ منٹوکی نسبت سے منٹوپارک کا نام دے دیا گیا۔ یہ نام قیام پاکستان تک مشہور رہا اوراب تک یہ نام ذہنوں میں محفوظ ہے۔
جس زمانے میں لاہورشہرصرف قلعہ اوراس کے گردونواح تک محدودتھا اس وقت منٹو پارک بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ شہرکے قریب ترین ہونے کی وجہ سے منٹو پارک عوام میں بے پناہ مقبول تھا۔ اس وقت تک لاہورکے دوسرے پارک اور باغات صرف انگریز حکمرانوں اور امراء کے لیے مخصوص تھے اسی لیے منٹو پارک کی اہمیت زیادہ ہوگئی تھی۔ عام شہریوں کی تفریح وعوامی تقریبات کے لیے منٹو پارک کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ اس لیے یہ مقام اپنے اندرکئی یادگار داستانیں سمیٹے ہوئے ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ شروع ہی سے یہ پارک ادبی محافل، بڑے پہلوانی دنگلوں اور سیاسی اجتماعات کا مرکز رہا۔ بسنت پر یہاں پتنگ بازی کے مقابلے ہوتے جن میں ہر مذہب کے لوگ ذوق وشوق سے حصہ لیتے تھے۔ منٹو پارک میں فٹ بال، ہاکی، کبڈی،کُشتی اورکرکٹ کے مقابلے ہوا کرتے۔ پارک کا مغربی حصہ مختلف کھیلوں اور ادبی محافل کے لیے مخصوص تھا۔
آل انڈیا مسلم لیگ کا 27 ویں اجلاس 22،23 اور24 مارچ 1940 کو اسی منٹوپارک میں منعقدہوا۔ 23 مارچ کو یہاں پاکستان کے قیام کی تاریخی قرارداد پیش کی گئی جسے 24 مارچ کو منظوری دے کر تاریخ میں ایک نئے باب کااضافہ کیا گیا۔ اور بعد ازاں اسی جگہ پر مینار پاکستان تعمیر کیا گیا۔

Leave a Reply

Back to top button