سپیشل

ہاتھ کٹ گئے، قلم کلائی سے باندھ کر قرآن مجید کی خطاطی کی!

محمد صفدر ٹھٹوی

تاریخِ ٹھٹہ کی کتابیں ظلم و جبر اور سفاکی کی داستانوں سے بھری پڑی ہیں۔ ان میں کچھ کردار ایسے بھی ہیں جنہوں نے جبر تو سہا مگر اپنے فن سے غداری نہ کی۔ انہوں نے ہمت اور جذبے کے ساتھ وہ تاریخ رقم کی جو کبھی فراموش نہیں کی جا سکتی۔ ایسے ہی باہمت کرداروں میں ایک نام خطاط اور مصور محمد عالم ٹھٹوی کا بھی ہے۔

ٹھٹہ کے ان کاتبوں کے بارے میں تاریخ کے متعدد ذرائع خاموش ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ سما، کلھوڑا، ارغون، ترخان اور مغل ادوار میں ٹھٹہ شہر میں سرکاری اور خانگی سطح پر بڑی تعداد میں لائبریریاں موجود تھیں، جن میں بہت سے خطاط اور مصور جلد سازی کے کام میں مصروف رہتے تھے۔

کلھوڑوں دورِ حکمرانی میں خطاطی کی روایت برقرار رہی۔ اس دور میں کئی خطاط بلند مرتبے پر پہنچے۔ محمد عالم بن محمد پناہ ٹھٹوی انہیں بلند پایہ خطاطوں میں شامل تھے جو فنِ خطاطی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ مگر یہ عظیم فنکار اپنے سرپرستوں کی مہربانیوں سے دور رہا اور کسی بات پر اس کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے۔

میر علی شیر قانع ٹھٹوی لکھتے ہیں کہ محمد عالم نے اپنے کٹے ہاتھوں سے ”دیوان خزین“ کا نسخہ نقل کیا۔ اس کے آخر میں اس کے دستخطوں کے ساتھ ایک تحریر بھی موجود ہے۔ اس نے کٹے ہاتھوں سے کئی اور کتابیں بھی لکھیں۔ مثنوی غنیمت اور دیوان محسن اس کی انتھک محنت اور اعلیٰ صلاحیتوں کی مثال ہیں۔ اس نے قرآن پاک کے کئی نسخے بھی نقل کئے جو تالپور لائبریری میں محفوظ ہیں۔ اس کی آخری خطاطی ”مناقب مرتضوی“ ہے جس میں تاریخ 19 ذوالقعد 1225 ہجری لکھی ہوئی ہے۔ اس باہمت خطاط کی تاریخ وفات معلوم نہ ہو سکی۔ اس کا ایک اور فارسی دیوان بھی ہے جس میں اس کے دستخط موجود ہیں اور سنہ 1187ہجری درج ہے۔

محمد عالم کے بارے میں ابوبکر شیخ اپنی کتاب ”نگری نگری پھرا مسافر“ کے صفحہ 143 پر لکھتے ہیں کہ مکلی میں سمہ دور کے علاوہ ارغون، ترخان اور مغل دور کی سنگ تراشی کے کئی تراشیدہ مناظر اور خطاطی کے کئی روح میں اتر جانے والے خط ملتے ہیں، جن کو دیکھ کر ان فنکاروں کی فن سے محبت اور محنت کو داد دئیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ کہتے ہیں کہ یہاں ایک کاتب تھے، نام تھا محمد عالم ٹھٹوی جن کے ہاتھ کاٹ دئیے گئے تھے مگر کتابت سے عشق اس حد تک تھا کہ قلم کلائی سے باندھ کر اس نے قرآن شریف کے کئی نسخوں کی کتابت کی اور دیوان حزین بھی لکھا۔ میر علی شیر قانع لکھتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ”دیوان خزین“ کا قلمی نسخہ دیکھا جسے محمد عالم نے نقل کیا تھا اور آخر میں محمد عالم کے دستخط کے ساتھ یہ جملہ تحریر تھا ”محمد عالم نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھوں سے نقل کیا“۔

Leave a Reply

Back to top button