تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحتٹیکنالوجی

ہرن کھری: سونے سے زیادہ قیمتی گھاس

ہرن کھری میں متعدد الکلائڈز شامل ہیں، جن میں سیڈوٹروپائن کثرت سے پایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ٹراپائن، ٹراپائنون، اور میسو کسوکائگرین کی بھی خاصی مقدارہوتی ہے۔

ہرن کھری ایک چھوٹی بیل دار بوٹی ہے۔ جسے انگریزی میں field bindweed کہا جاتاہے اورنباتاتی نام Convolvulus arvensis ہے۔ یہ جڑی بوٹی عموماًربیع میں پیدا ہوتی ہے۔ گندم، کپاس اور کمادکے کھیتوں میں بکثرت ہوتی ہے۔اس کی شاخیں دھاگے کی مانند باریک ہوتی ہیں۔اس کے توڑنے پر سفید دودھ کا قطر نکلتاہے۔اس کے پتے مثلث نوک دار مشابہ سم آہو(ہرن کھری) کے مانند اور پھول کٹوری نما سفید مائل بہ گلابی ہوتے ہیں۔اس کے ہر ایک جز کا مزہ تلخ ہوتاہے۔اس کے پتے یا پھول چبانے سے منہ میں قدرے خراش معلوم ہوتی ہے اور پھر رال بہنے لگتی ہے۔جب اسے کوٹ کر جسم کے کسی حصہ پر لیپ کریں تو وہ جگہ سرخ ہو جاتی ہے۔

ہرن کھری بوٹی جسے بکر بیل، لہلی، کڑاڑی، گلوہڑی اور بیلوا بھی کہا جاتا ہے۔ سونے سے بھی زیادہ قیمتی گھاس ہے۔ قدرت نے اس شفا بخش بوٹی کو خود رو پیدا کرنے میں بڑی فراخدلی سے کام لیا ہے۔ یہ فصلوں کے علاوہ سبزہ زاروں، ریگستانوں اور کوٹھیوں کے باہر حفاظتی باڑوں میں لپٹی ہوئی کئی کئی فٹ تک لمبی ہو جاتی ہے۔ باغوں اور فصلوں میں چھوٹی اورجنگلوں میں بڑے پتوں والی عام ملتی ہے۔بکریاں اسے بڑے شوق سے کھاتی ہیں، اس کے کھانے سے ان کے دودھ کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے۔

ہرن کھری میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
ہرن کھری میں متعدد الکلائڈز شامل ہیں، جن میں سیڈوٹروپائن کثرت سے پایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ٹراپائن، ٹراپائنون، اور میسو کسوکائگرین کی بھی خاصی مقدارہوتی ہے۔

ہرن کھری کے طبی فوائد:

معدہ کی خشکی و جلن کا علاج:
معدہ کی خشکی، جلن اور تیزابیت دُور کرنے کے لیے یہ مفت مِلنے والی گھاس آبِ حیات سے کم نہیں۔ ہرن کھری بوٹی 6 گرام سے 60 گرام تک دو سے سات عدد تک مرچ سیاہ کپ ڈیڑھ کپ پانی میں رگڑ کر چھان کر کھانڈ یا نمک ملا کر چند روز استعمال کرنے سے معدہ دُرست، قبض دُور اور تیزابیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

دماغی کمزوری کا علاج:
دماغی کمزوری، نیند کی کمی اور سر کے چکر دُور کرنے کے لیے بھی ہرن کھری اپنی مثال آپ ہے۔صبح ہرن کُھری 12 تا 24 گرام، مغز بادام 5، 7 عدد اور چھوٹی الائچی دو تین عدد پانی میں رگڑ کر چھان کر میٹھا مِلا کر پینے اور اس کے ساتھ خمیرہ گاؤزبان 12 گرام دونوں مِلا کر چند یوم استعمال کرنے سے خدا کے فضل سے دماغ تروتازہ، چکر موقوف اور نیند آنے لگ جاتی ہے۔

خون میں تیزابیت:
جب خون میں تیزابیت بڑھ جائے اور بدن پر خارش، پھوڑے پُھنسیاں اور داغ دھبے پڑنے شروع ہو جائیں تو صبح یہ بوٹی 12 تا 60 گرام، سیاہ مرچ دو سے سات عدد کے ساتھ چند روز رگڑ کر پلائیں۔ چند روز کھلا کر قدرت کا نظارہ دیکھیں۔ تازہ بیل نہ مِلے تو خشک رکھی ہوئی چوتھائی سے آدھا وزن تک استعمال ہو سکتی ہے۔

انتڑیوں میں خارش:
جب انتڑیوں میں خارش ہو جائے اور بار بار دست آنے لگیں تو 3 سے 6 گرام ہرن کُھری 1 سے 2 گرام دھنیا کے بیج پانی میں رگڑ چھان کر میٹھا یا نمک مِلا کر ایک دو مرتبہ پلانے سے ہی دست بند اور پیٹ کی خرابی رفع ہو جاتی ہے۔

بندش ایام:
بندش ایام کی صورت میں ہرن کھری کا کوئی جواب نہیں ہے۔

دائمی قبض:
دائمی قبض کی صورت میں ہرن کھری چار تولہ خشک سفوف کر کے اس میں ایک تولہ گڑ ملا کر چھوٹے بیر برابر گولیاں بنا لیں ایک سے دو گولی نیم گرم پانی یا دودھ سے کھانے سے دو گھنٹہ بعد لیں۔دائمی قبض جاتی رہے گی۔

کمزور نظر:
ہرن کھری کے تازہ رس میں ململ کا صاف کپڑا تر و خشک کریں۔ پھر فتیلہ بنا کر چراغ میں چنبیلی کا تیل ڈال کر کاجل اتاریں۔ یہ کاجل آنکھوں میں لگانے سے کمزوری نظر دور ہو جاتی ہے اور بہت دور تک نگاہ جاتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button