انٹرویوز

ہمارے صف اوّل کے ڈرامہ نگار اب ایکٹیو نہیں: عطاء الحق قاسمی

بین الاقوامی شہرت یافتہ مزاح و ڈرامہ نگار اور کالم نویس عطاء الحق قاسمی سے راجا نیئر کا مکالمہ
قارئین! عطاء الحق قاسمی بلاشبہ کسی تعارف کے محتاج نہیں، دُنیا بھر میں جہاں جہاں اردو پڑھنے، بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں وہ مزاح، ادب، کالم، ڈرامہ اور شاعری کے حوالے سے عطاء الحق قاسمی کی شخصیت سے ضرور واقف ہوں گے۔ وہ پاکستان کے نمائندہ تخلیق کار ہیں۔ ادب کے حوالے سے اُن کی شخصیت کی کئی جہتیں ہیں اور اُن کی ان تخلیقی جہتوں کے باعث اُن کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں بنتی ہے۔ وہ کئی دہائیوں سے اپنے سفر ناموں، کالموں، ڈراموں، شاعری اور مزاح نگاری سے وطن عزیز کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔ عطاء الحق قاسمی اپنے وطن پاکستان اور یہاں کے عوام سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور پاکستانی تہذیب و ثقافت، کلچر اور روایات کو محبت اور فخر سے اپنی تحریروں میں شامل کرتے ہیں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ پاکستان کے تخلیقی سفیر ہیں …… آئیے! آج اس بے مثال اور منفرد شخصیت سے کی گئی گفتگو پڑھیں!
سوال: عطا صاحب آج آپ جس مقام پر ہیں …… اس مقام تک آتے آتے کئی تلخ و شیریں یادیں تو ہوں گی …… کچھ شیئر کریں گے؟
جواب: اصل میں مجھ پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوئیں ہیں اور ان میں سے ایک بہت بڑی رحمت یہ ہے کہ تمام تر تلخ و شیریں لمحوں کے باوجود میں اُن تمام تر تلخیوں کو بھلا دیتا ہوں۔ ہم سفید پوش خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ میرا بچپن اور جوانی بہت خوشگوار یادوں سے بھرا ہوا ہے۔ اگر کوئی اور ہو تو یہ کہے گا کہ ہمارا بچپن بہت محرومیوں میں گزرا …… لیکن الحمدللہ مجھے کوئی محرومی یاد ہی نہیں۔ ہمارے ابا جی نے ہماری تربیت ہی ایسی کی تھی کہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے رہے۔ بہت اچھا لباس یا کھانا وغیرہ یا گاڑی نہیں ہے تو ان سب کے نہ ہونے یا نہ ملنے کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ابا جی نے یہ بتایا ہوا تھا کہ ہمارے اباواجداد کی خدمات کیا تھیں …… وہ کوئی سو، دو سو یا چار سو برس کی بات نہیں ہزار سال کی خدمات تھیں جو تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں۔ چنانچہ عام لوگ جسے محرومی کہتے ہیں ہمیں اُس کا کبھی سامنا ہوتا بھی تو ہمیں اپنا خاندانی پس منظر اور اعلیٰ کارکردگی کا خزانہ ضرور یاد آتا۔ ہم ان عام لوگوں کو محروم سمجھ لیتے تھے……
سوال: سنا ہے بڑا آدمی بننے کے لیے سو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں …… اور خیر سے آپ تو بہت بڑے آدمی ہیں؟
جواب: یار میں پھر وہی بات کروں گا نیئر کہ مجھے کبھی بھی کوئی پاپڑ نہیں بیلنا پڑا۔ کوئی ہے جو میری انگلی پکڑ کر مجھے وہاں تک لے جاتا ہے جس کا مجھے خواب بھی نہیں آیا ہوتا۔ میں ایک مثال دیتا ہوں کہ جب ہم وزیر آباد سے ترک سکونت کر کے ماڈل ٹاؤن لاہور آئے تو یہاں میرا حلقہ احباب اُمراء پر مشتمل تھا۔ اُن سب نے امریکہ جانے کا پروگرام بنایا۔ جہاز کی ٹکٹیں لیں اور سب امریکہ پہنچ گئے۔ میرے پاس تو پیسہ ہی نہیں تھا۔ اس وقت میں نوائے وقت میں کام کرتا تھا۔ نوائے وقت سے 323 روپے تنخواہ ملتی تھی۔ میرے پاس 50 سی سی ہنڈا تھا وہ میں نے 1500 روپے میں بیچا، کچھ ابا جی اور بھائی جان سے لیے، ٹوٹل 6000 روپے لے کر میں ان پیسوں سے یورپ تک بائی روڈ اور پھر لیگزن برگ سے ایک سستی ایئر لائن کے ذریعے امریکہ پہنچا۔ ایک ہزار روپے پھر بھی بچ گئے۔ میں وہاں 2 سال رہا۔ زندگی کی ہر نعمت حاصل کی۔ تمام تر آسائشوں کے باوجود وہاں میرا دل نہیں لگا۔ ابا جی کا روزانہ خط آتا تھا ”لوٹ آؤ بیٹا“۔ میں کہتا تھا کہ کچھ پیسے جمع کر لوں تو لوٹ آؤں گا …… وہ لکھتے کہ میں پیسوں پر لعنت بھیجتا ہوں، مجھے صرف بیٹا چاہیے …… راجا صاحب آپ جانتے ہیں کہ آج کل اس کے برعکس کہا جاتا ہے کہ مجھے صرف پیسہ چاہیے…… میں بیٹے پر…… خیر میں نے کیا جمع کرنا تھا …… جتنا وہاں کمایا اسے ساتھ ساتھ خرچ کرتا رہا۔ پھر ایک دن جب تمام دوست مجھے روکتے رہے، واپس نہ جانے کے لیے بار بار کہتے رہے، میں یورپ تک بائی ایئر اور لاہور تک بائی روڈ واپس آ گیا۔ میں نے ابا جان کو سرپرائز دینے کے لیے اپنی آمد کی اطلاع نہیں دی تھی مجھے یاد ہے شام کا وقت تھا جب میں نے ماڈل ٹاؤن والے گھر کے باہر آ کے بیل دی…… جس پر ابا جی باہر آئے اور اچانک مجھے سامنے پا کر ان کے چہرے پر خوشی کے جو رنگ بکھرے وہ میری زندگی کا حاصل ہیں۔ انہوں نے کپکپاتی ہوئی آواز میں میری بہنوں کو کہا…… عطاء الحق قاسمی آ گیا جے کُڑیو……2 سال کے بعد (بغیر ایئر کنڈیشنڈ) مکان کی چھت پر میں بان کی چارپائی پر لیٹا تھا، آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا…… مجھے لگا کہ میں واپس اپنی جنت میں آ گیا ہوں۔
میں ناروے میں پاکستان کا سفیر بنا، الحمراء آرٹس کونسل کا 8 سال تک چیئرمین رہا۔ پی ٹی وی کا سربراہ بنا اور یہ تینوں مناصب مجھے بغیر کسی سفارش اور کوشش کے ملے تھے اور ان تینوں مناصب سے میں نے از خود استعفیٰ دیا…… یہ تو دنیاوی کامیابیوں کے ”پاپڑ“ ہیں جو مجھے نہیں بیلنے پڑے۔ لیکن اصل کامیابی وہ تھی جو بطور ادیب پہلے ملک گیر اور پھر بین الاقوامی سطح پر مجھے ملی۔ میں نے جس کام میں بھی ہاتھ ڈالا اللہ تعالیٰ نے اُس میں برکت عطا کی۔ میں نے کالم لکھنے شروع کیے تو مجھے صف اوّل کا کالم نگار قرار دیا گیا۔ ٹی وی کے لیے ڈرامے لکھے تو وہ کلاسیک کا درجہ اختیار کر گئے۔ طنزو مزاح لکھا تو الحمدللہ اس میں بھی اپنا مقام بنایا۔ سفر نامے لکھے تو انہیں رُحجان ساز سفر نامے قرار دیا گیا اور ان میں سے کسی کام کے لیے بھی مجھے کوئی پاپڑ نہیں بیلنا پڑے۔ اندر سے یہ چیزیں جنم لیتی تھیں اور قبولیت اللہ تعالیٰ عطا فرماتا تھا۔
سوال: حسد کرنے والوں کے حوالے سے کس طرح سوچتے ہیں؟
جواب: راجا صاحب ایک بات میں آپ سے کہوں کہ ہر آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی میں اعلیٰ مقام پر پہنچے۔ پھر ان میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ جو کسی خاص مقام پر تو نہیں پہنچ سکتے لیکن وہ محنت کے ساتھ ساتھ اپنے اُن سینئرز اور ہم عصروں کا بے پناہ احترام اور محبت کرتے ہیں جو اعلیٰ مقام پر ہیں …… دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جو اپنی ناکامی کی وجوہات تلاش کرنے لگتا ہے اور پھر وہ اس حوالے سے ان لوگوں کو اپنا دشمن تصور کرتا ہے جنہوں نے ان کے ساتھ سفر شروع کیا لیکن ان سے آگے نکل گئے۔ یا اپنے طور پر سینئرز کو اپنی ناکامی کا باعث سمجھنے لگتے ہیں …… مجھے کبھی کبھار کچھ لوگ آ کر بتاتے ہیں کہ فلاں آدمی آپ کے بارے میں منفی بات کر رہا تھا یا فلاں شخص فیس بک پر مسلسل آپ کے خلاف لکھ رہا ہے۔ تو میں اس کے جواب میں صرف ایک بات کہا کرتا ہوں کہ کیا اس شخص کے منفی رویے سے میرے قد و قامت میں کوئی کمی آئی ہے…… اور اس کے قد و قامت میں اضافہ ہو گیا ہے تو پھر میرے لیے مقام فکر ہے …… لیکن ہوتا یہ ہے کہ دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھنے والے زندگی میں دو قدم آگے بڑھنے کی بجائے چار قدم مزید پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور جسے وہ پست قامت بنانا چاہتے ہیں دن بہ دن اس کی قامت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ میں اپنے سب دوستوں کو یہ نصیحت کروں گا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے رہا کریں کہ ان کے حاسدوں میں اللہ مزید اضافہ کرے…… کیونکہ جس دن انہوں نے آپ کو بُرا بھلا کہنا بند کر دیا تو سمجھ لیں کہ آپ ان کے لیے مسئلہ نہیں رہے آپ واقعی اپنے مقام سے گر چکے ہیں۔
اس وقت مجھے منیر نیازی کی ایک بات یاد آ رہی ہے کہ ایک دن کوئی شخص انہیں بتانے لگا کہ فلاں شاعر آپ کے بارے میں بہت بُری بُری باتیں کر رہا تھا جس پر فطری طور پر منیر نیازی نے بھی اس کے بارے میں اپنے رد عمل کا اظہار کیا اور یہ گفتگو 5 تا 7 منٹ جاری رہی پھر اچانک منیر نیازی نے اپنی گمبھیر آواز میں کہا یار دیکھو وہ کتنا گھٹیا شخص اپنی عدم موجودگی میں بھی ہمارا وقت ضائع کر رہا ہے۔
سوال: کالم نگاری، مزاح نگاری، سفر نامہ نگاری، ڈرامہ نویسی اور شاعری اتنا کچھ کس طرح اکٹھا Manageکر لیتے ہیں؟
جواب: اس پر میں آسان سی بات بتاتا ہوں کہ ایک آدمی جو موٹر سائیکل چلانا نہیں جانتا وہ کسی کو موٹر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اسے اس سارے عمل پر چیف انجینئر ٹائپ کوئی چیز سمجھ لیتا ہو گا لیکن جب اسے کک مارنے، گیئر لگانے، ریس دینا اور باقی تمام عوامل آ جاتے ہیں تو اس کے لیے سب کچھ کتنا آسان ہو جاتا ہے …… یہی حال عام پڑھنے والے اور ادیب کا ہے۔
سوال: تعلیمی اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے بھی اکثر سوالات اٹھائے جاتے ہیں، انہیں کئی چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔ اس پر کیا کہیں گے؟
جواب: یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ پرائیویٹ ادارے مشرومز کی طرح ملک میں پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کی لاکھوں کی فیسیں ہیں اور ان کی شان و شوکت حیران کن …… ان اداروں کے اندرونی مخلوط ماحول کو دیکھ کر بچے بھی انہی اداروں میں پڑھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ والدین ان اداروں کی کارکردگی سے سخت مایوس ہوتے ہیں۔ مجھے ان والدین پر شدید غصہ آتا ہے جو اپنی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے کے سبب اپنا پیٹ کاٹ کر قرض لے کر حیلے بہانے سے پیسہ اکٹھا کر کے اپنے بچوں کو ان اداروں میں پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں تاہم اگر کوئی ا فورڈ کر سکتا ہے تو شوق سے یہاں داخلہ لے لیکن ایک بات ضرور کہوں گا کہ ہمارے جتنے بھی مشاہیر ہیں انہوں نے تعلیم ٹاٹوں پر بیٹھ کر حاصل کی تھی۔
سوال: تو کیا آج کے اساتذہ طالبعلموں کو صحیح انداز میں تعلیم دینے سے قاصر ہیں اور پہلے اساتذہ کی اکثریت بہتر انداز میں پڑھاتے تھے؟
جواب: اس وقت بھی کچھ استاد اچھے تھے اور آج بھی چند اچھے استاد ہیں۔ یقین جانیے مجھے سکول، کالج میں کبھی کسی استاد نے متاثر نہیں کیا۔ البتہ یونیورسٹی میں ہمارے تین اساتذہ نے ہمیں بہت متاثر کیا۔ ہم ڈاکٹر سید عبداللہ، ڈاکٹر سید وقار عظیم اور ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کی قابلیت اور تعلیم دینے کے انداز کو آج تک نہیں بھلا سکے۔ (خواجہ صاحب اور ہماری عمروں میں کچھ زیادہ فرق تو نہیں تھا تاہم وہ حقیقی طور پر اعلیٰ پائے کے استاد ہیں)۔
سوال: موجودہ حکومت کے آنے سے خاندانوں کے اندر بھی سیاسی اختلافات نے جنم لے لیا ہے اس پر کیا کہیں گے؟
جواب: یہ بات درست ہے کہ پی ٹی آئی کے آنے سے عام خاندانوں کے مابین بھی مخاصمتیں پیدا ہو گئی ہیں حالانکہ میرے خیال میں ہر شخص کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی رائے رکھے۔ میں مسلم لیگ (ن) کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتا ہوں مگر میرے بہت سے عزیز دوستوں کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔ کاش ہماری قوم کے سارے افراد سیاسی رائے کو دشمنی میں تبدیل نہ کریں۔
سوال: آج کا ٹی وی ڈرامہ 80ء اور 90ء کی دہائی کی نسبت پستی کا شکار ہو چکا ہے اس حوالے سے کیا کہیں گے؟
جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے صف اوّل کے ڈرامہ لکھنے والے اب ”ایکٹیو“ نہیں ہیں …… سوائے اصغر ندیم سیّد کے …… اور جو نئے لکھنے والے آئے ہیں وہ ریٹنگ کو مدنظر رکھ کر چینل مالکان کی ہدایت کے مطابق موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں۔
سوال: الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر اردو زبان کو جس زوال کا سامنا ہے اس پر آپ نے کبھی غور فرمایا ہے …… نہ تلفظ کا خیال کیا جاتا ہے اور نہ ہی ٹِکرز پر املا کا ……؟
جواب: بات یہ ہے کہ جب ایک ادیب کتاب لکھتا ہے یا کوئی اور تحریر لکھتا ہے اس میں آپ کو یہ شکایت نہیں ملے گی۔ ڈرامہ لکھنے والے نے اکثرکردار کے مطابق زبان لکھنی ہوتی ہے یوں وہ اردو کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں کر رہا ہوتا بلکہ کردار نگاری کے نئے رحجانات متعارف کروا رہا ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ زبانوں میں ردّو بدل ہوتا رہتا ہے۔ شیکسپیئر کے دور کی انگریزی، مولانا روم ؒکے دور کی فارسی دیکھ لیں آج کل کے دور میں وہ انگریزی اور فارسی نہیں لکھی جا رہی۔ اسی طرح جو اردو ملا وجیہہ کے دور میں تھی آج نہیں ہے ……زبان میں تبدیلی فطری عمل ہے۔ اس سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ میں اکثر اپنی تحریروں میں پنجابی زبان کے الفاظ استعمال کرتا ہوں …… لوگ اعتراض کرتے رہتے ہیں۔ ایک قاری نے مجھے خط لکھا کہ آپ زبان بگاڑ رہے ہیں۔ تو میں نے اس حوالے سے ایک کالم میں یہ جملہ لکھا جو بہت مقبول ہوا”برادرم اب پاکستان میں اردوئے معلیٰ نہیں اردوئے محلہ چلے گی۔“
سوال: ٹی وی کے کامیڈی شوز میں …… مزاحیہ اداکاروں کی بھرمار سے ہم اپنے کلچر اور زبان کو کس طرف لے جانا چاہتے ہیں؟
جواب: آپ کو میرا جواب شاید پسند نہ آئے کیوں کہ ایک سطح پر تو میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ کچھ اداکار نہایت پست زبان استعمال کرتے ہیں اور ذو معنی باتیں بھی کرتے ہیں ……لیکن دوسری طرف ان میں انتہائی قابل (Talented) لوگ بھی موجود ہیں۔ میں بعض اوقات ان کا کوئی جملہ سنتا ہوں تو بطور مزاح نگار میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش یہ جملہ میں نے لکھا ہوتا…… مجھے یاد ہے کہ (پی ٹی وی) کے ایک ڈرامے میں ایک کردار دوسرے کردار سے کہتا ہے میرے لیے پانی لاؤ۔ تو وہ آدھا گلاس پانی لاتا ہے۔ یہ کہتا ہے یار میں ذرا پتلا پانی پیتا ہوں اس میں کچھ اور پانی ملا لاؤ……
ہمیں اردو زبان میں علاقائی زبانوں کی ملاوٹ اور مزاح تکلیف دیتا ہے۔ انگریزی کے ڈراموں اور کامیڈی شوز میں ”ننگی گالیاں“ اور بدزبانی عام ہے مگر وہ لوگ اپنے ”کامیڈی شوز“ میں سب کچھ برداشت کرتے ہیں، ہم مادری زبان کے تقدس کی پامالی کا رونا روتے ہیں مگر وہ کچھ نہیں کہتے شاید انگریزی ان کی ”فادری زبان“ کی حیثیت رکھتی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button