سپورٹس

'ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں آیا'

عمراکمل کا شمار پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بہترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں ورلڈ کپ کے سلسلے میں منتخب ہونے والی ٹیم میں ان کا نام شامل کیا گیا۔ اس موقع پر عمر اکمل سے ان کے انتخاب اور کرکٹ ٹیم ‘ کرکٹ بورڈ اور دیگر حوالوں سے گفتگو ہوئی۔ عمر اکمل نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کھلاڑیوں میں سے ہیں جو دروازہ توڑ کے بین الاقوامی کرکٹ میں آئے ہیں۔

خیال رہے کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے ورلڈکپ کے لئے پاکستانی ٹیم کے اعلان کے بعد فیس بک پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ کچھ کرکٹر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے آتے ہیں۔ کچھ پیچھے کے دروازے سے لائے جاتے ہیں اور کچھ دروازہ توڑ کر پاکستانی ٹیم میں آتے ہیں’۔

عمر اکمل کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں آغاز پر ان کے سینیئر کھلاڑیوں خاص طور پر یونس خان، محمد یوسف نے انہیں بہت حوصلہ دیا اور رہنمائی بھی کی۔

ہر بڑے ٹورنامنٹ میں اکمل برادران کے ٹیم میں شامل ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘میں نے بین الاقوامی کرکٹ ہو یا جونیئر لیول کی کرکٹ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر جگہ بنائی ہے’۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کرکٹ ٹیم اکمل برادران کی نہیں بلکہ پاکستان کی ٹیم ہے اور جو اچھا کھیل پیش کرے گا وہ اپنی جگہ بنا پائے گا۔

عالمی کپ میں ہندوستان کے ہاتھوں شکست کی روایت بن جانے پر عمر اکمل نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ پاکستان کیوں ہمیشہ ہارتا ہے تاہم اس مرتبہ پوری کوشش کی جائے گی کہ اس تاثر کو ختم کیا جائے۔

ورات کوہلی سے موازنہ

ویرات کوہلی سے موازنہ کیے جانے کے سوال پرعمر اکمل کا کہنا تھا کہ ‘ہم دونوں میں بنیادی فرق بیٹنگ آرڈر کا ہے۔ ‘کوہلی کئی سال سے نمبر 3 پر کھیل رہے ہیں جب کہ میرے حوالے سے کوئی تسلسل نہیں۔’

عمر اکمل نے بتایاکہ 2007ء کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پاکستان کو ہندوستان کے ہاتھوں شکست نے انہیں دلجمعی کے ساتھ کرکٹ کھیلنے اور سخت محنت پر آمادہ کیا۔

پاکستان کی جانب سے دوسری مرتبہ ورلڈ کپ اسکواڈ میں جگہ بنانے والے نوجوان بلے باز کا کہناتھا کہ وکٹ کیپنگ اکمل برادران کے خون میں شامل نہیں، وہ خود انڈر -19 کی جانب سے آل راؤنڈر کی حیثٰیت سے کھیلتے تھے ۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ریگولر وکٹ کیپر نہیں تاہم ٹیم کو ضرورت پڑنے پر وہ یہ ذمہ داری بھی نبھاتے ہیں ،البتہ سرفراز کا فارم میں ہونا خوش آئند ہے اور دعا ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح کی کارکردگی دکھاتے رہیں۔

نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں ٹیم سے ڈراپ کئے جانے پر عمر نے کہا کہ انہیں اس پر مایوسی ہوئی تھی، ورلڈ کپ سے قبل اگرانٹرنیشنل میچ کھیلنے کا موقع ملتا تو اعتماد میں اضافہ ہوتا۔

چوبیس سالہ بلے باز کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لئے تیار ہیں اور سلیکشن کمیٹی اور کپتان نے جو ان پر اعتماد کیا ہے وہ اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔

Leave a Reply

Back to top button