کالم

ہم ”عہد قاسمی“ میں زندہ ہیں…… میم سین بٹ

عطاء الحق قاسمی ہمارے لئے”استاد“ کا درجہ رکھتے ہیں انہیں پڑھ پڑھ کر ہم نے لکھنا سیکھا انہیں سفرنامے،ڈرامے اور طنزومزاح کے علاوہ کالم لکھتے ہوئے بھی نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے ربع صدی تو ہمیں بھی لکھتے ہوئے ہو چکی ہے، ادب کی مختلف اصناف میں لکھنے ولے عطاء الحق قاسمی جیسے بزرگ ادیب و شاعر اب انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں یہ سپیشلائزیشن کا دور جا رہا ہے، جلد وہ وقت آنے والا ہے جب شاعر ادیب نہیں ہوگااورادیب شاعر نہیں ہوگا اور صحافی تو دونوں نہیں ہونگے ورنہ ایک زمانہ تھا کہ صحافی ادیب،شاعر بھی ہوتے تھے بلکہ اردو صحافت کا آغاز ہی ادیبوں،شاعروں نے کیا تھا،عطاء الحق قاسمی بھی ایم اے او کالج میں لیکچرر بننے سے پہلے نوائے وقت میگزین میں سب ایڈیٹر رہے تھے اور محمود شام ان کے میگزین انچارج ہوتے تھے قاسمی صاحب کی ادبی حیثیت سے ان کے مخالفین کو بھی انکار نہیں ہوگا البتہ کسی کو ان کے سیاسی نظریات سے اختلاف ہو سکتا ہے تاہم ہمیں تو اس حوالے سے بھی قاسمی صاحب کے ساتھ مکمل ”اتفاق“ ہے۔
تفنن برطرف چار عشروں سے آج بھی ہمار امعمول ہے کہ صبح اخبار میں عطاء الحق قاسمی کا کالم ضرور پڑھتے ہیں،اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم ”عہد قاسمی“ میں جی رہے ہیں،قاسمی صاحب پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے فارغ التحصیل ہیں اورچیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد بھی اسی زمانے میں اورینٹل کالج میں زیر تعلیم رہے تھے،عطاء الحق قاسمی بعدازاں ایم اے او کالج شعبہ اردو سے منسلک ہو گئے تھے جہاں حلقہ ا رباب ذوق کے سابق سیکرٹری زاہد حسن بھی ان کے شاگرد رہے تھے،قاسمی صاحب نئے لکھاریوں کی بیحد حوصلہ افزائی کرتے ہیں،محبان عطاء الحق قاسمی کی طویل فہرست ہے جس کے نمایاں ناموں میں عزیر احمد، ابرارندیم، شہزاد بیگ،حسن عباسی،گل نوخیز اختر،علی رضا احمد، ناصر محمود ملک، گوہر رشید بٹ وغیرہ خاص طور قابل ذکر ہیں۔
لاہور آنے کے بعد ہم کپورتھلہ ہاؤس کے بعد وارث روڈ پرسہ ماہی ”معاصر“کے دفتر اور الحمرا ٓآرٹس کونسل میں بھی قاسمی صاحب سے ملنے جاتے رہے ہیں اس کے علاوہ جب کبھی وہ ہوٹل میں ادبی تقریب رکھتے ہیں تو ہمیں بھی ضرور یاد کرتے ہیں مگر ہم ان کی تقریبات میں بہت کم شریک ہو پاتے ہیں کیونکہ صبح سویرے سونے کی وجہ سے دوپہر کے وقت نیند پوری کرکے بیدار ہوتے ہیں اور پھر ہمیں شام کے وقت نائٹ ڈیوٹی کیلئے دفتر بھی پہنچنا ہوتا ہے جبکہ ادبی تقریبات بھی عموماََ شام کے وقت شروع ہوتی ہیں اور رات ڈھلنے تک جاری رہتی ہیں البتہ جب کبھی قاسمی صاحب فلیٹیز میں ہائی ٹی کی دعوت دیتے ہیں تو ہم پہلے رائل پارک ہاسٹل اور اب ایمپریس روڈ کے فلیٹ یا پریس کلب رپورٹنگ روم سے نکل کرچند منٹ میں ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔
اتوار کو قاسمی صاحب نے عمان سے وطن واپس آئے ہوئے معروف شاعر قمر ریاض کے اعزاز میں محفل سجائی توسہ پہر کے وقت ہم بھی فلیٹ سے اٹھ کر فلیٹیز پہنچ گئے جہاں عطاء الحق قاسمی اپنے تینوں صاحبزادوں یاسر قاسمی، عمر قاسمی اورعلی عثمان قاسمی سمیت اصغر ندیم سید، علی اصغر عباس، عباس تابش، نجیب احمد، عزیراحمد، جمیل احمد پال،قمر رضا شہزاد،شعیب بن عزیز، فاروق عالم انصاری، گل نوخیز اختر، علی رضا احمد،نوید چوہدری،پرویز بشیر، سیف سپرا،آغا نثار،شکیل جاذب، امیرحمزہ،مظفر محسن،گوہر رشیدبٹ اورناصر محمود ملک بھی موجود تھے،کچھ دیر بعد مہمان خصوصی قمرریاض بھی پہنچ گئے جبکہ ناصر بشیر خاصی تاخیر سے آئے اس وقت ہم پریس کلب لائبریری کی تقریب میں شرکت کیلئے فلیٹیز سے باہر نکل رہے تھے،قاسمی صاحب نے جب اپنے صاحبزادوں کا تعارف کرواتے ہوئے سب سے چھوٹے صاحبزادے علی عثمان قاسمی کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے اچھے افسانے لکھے یہ خاندان کے علمی وارث بھی ثابت ہوئے ہیں،غیرملکی ادارے نے ان کی تین کتابیں شائع کی ہیں توبعدازاں اصغر ندیم سید نے ڈاکٹر علی عثمان قاسمی کو دنیا کے چند بڑے اسکالرز میں شامل قراردیا جو ان کے زمانے میں گورنمنٹ کالج میں رہے تھے اور اصغرندیم سید نے علی عثمان قاسمی کو جی سی کی مجلس اقبال میں شامل رکھا تھا۔
قمر ریاض کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے عطاء الحق قاسمی نے ان کی شاعری کو دلنواز قرار دیا اور ان کی انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف کیا انہوں نے قمرریاض کی یہ خوبی بھی بتائی کہ وہ کسی شخصیت کی عدم موجودگی میں بھی اس کیلئے جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہیں،قمر رضا شہزاد کو قمرریاض کی شخصیت اس لئے پسند آئی تھی کہ وہ وہ اپنی شاعری کے حوالے سے خبط عظمت میں مبتلا نہیں ہوتے اوران کی محبت کسی صلے اور ستائش کی تمنا کے بغیر ہوتی ہے،عباس تابش نے انہیں محبت کا شاعر قراردیتے ہوئے ان کے تعلق نبھاہنے کی تعریف کی،عمر قاسمی نے انہیں اچھا شاعر اورعلی عثمان قاسمی نے عمدہ انسان پایا، گل نوخیز اختر نے قمرریاض کو ہنستا مسکراتا اور دوستی نبھاہنے میں اپنا ثانی نہ رکھنے والا شاعرتسلیم کیا جبکہ یاسر قاسمی نے قمرریاض کے بارے میں سب شرکاء کی گفتگو سے اتفاق کرتے ہوئے اس پر اپنا انگوٹھا ثبت کرنے کا اعلان کیا۔
نجیب احمد کو قمر ریاض کی شاعری پڑھنے کا ابھی تک اتفاق نہ ہوا تھا اس انکشاف پر بیشتر شرکاء حیران رہ گئے،اصغر ندیم سید کو قمر ریاض کی شاعری میں ان کے ذاتی دکھ اور تجربات محسوس ہوئے،شعیب بن عزیز نے شاعری کے جو چند مجموعے سنبھال کررکھے ہوئے ہیں ان میں ایک شعری مجموعہ قمرریاض کا بھی ہے انہیں چاہیے اسے نجیب احمد کو دیدیں،شکیل جاذب نے خود بھی شاعر ہونے کے باوجود قمرریاض کی شاعری کو دل میں اتر جانے والا شعری کلام قراردیا،امیرحمزہ نے انہیں بہت سی خوبیوں کا مالک پرخلوص انسان جبکہ نوید چوہدری نے قمرریاض کو ذہانت کا پیکر اور محنتی انسان قراردیا،عزیزاحمد نے انہیں بہت اچھا منتظم قراردیتے ہوئے بتایا کہ کام کے دوران قمرریاض پر جنون کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔
آخر میں قمر ریاض نے عطاء الحق قاسمی کے ساتھ اپنی سالگرہ کا کیک کاٹا اور شرکاء نے انہیں مبارکباد پیش کی بعدازاں قمرریاض نے اپنی شاعری سنا کر حاضرین سے بیحد داد پائی ہمیں تو ان کی ایک غزل کے یہ دو شعر سب سے زیادہ پسند آئے۔۔۔
تیرے لئے مجھے لاہور سے محبت ہے
یہ بات سارے جہاں کو بتانے والا ہوں
سنا تو ہے کہ دعاؤں سے لوگ ملتے ہیں
تو میں دعا کیلئے ہاتھ پھیلانے والا ہوں

Leave a Reply

Back to top button