شخصیات

ہینری فورڈ: انقلاب ساز امریکی بزنس مین….. رانا اشتیاق احمد

دُنیا میں محض چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو اپنی دُھند اور ارادے کے باعث دُنیا کی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ صرف آج کے لیے ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ کام کرتے ہوئے ان کے سامنے کوئی خاص طبقہ، قوم یا گروہ نہیں ہوتا بلکہ پوری انسانیت کی فلاح وبہتری ہوتی ہے۔ دورِجدید کے ایسے لوگوں میں ایک نام ہینری فورڈ کا ہے۔ آٹوموبائل کی دُنیا میں انقلاب برپا کرنے والے ہینری فورڈ کا تعلق امریکہ سے ہے۔ ان کا شمار امریکہ کے اوّلین صنعتکاروں میں ہوتا ہے۔
ہینری فورڈ 30جولائی 1863ء کو امریکہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1908ء میں فورڈ ماڈل کی ”ٹی“کار بنائی۔ اس کے بعد وہ کاروں کو اسمبل کرنے کے میدان میں نت نئے تجربات کرتے رہے جس کے باعث آٹوموبائل انڈسٹری میں ایک انقلاب برپا ہو گیا۔ اس انقلاب کے باعث فورڈ نے لاکھوں کی تعداد میں گاڑیاں فروخت کیں اور دیکھتے ہی دیکھتے انہیں فورڈ کمپنی کے سربراہ کے طور پر عالمی شہرت حاصل ہو گئی۔ گو کہ موجودہ دور میں فورڈ کو آٹوموبائل انڈسٹری میں پہلے جیسا غلبہ حاصل نہیں ہے لیکن امریکی انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں اس کے دیرپا اثرات اب بھی موجود ہیں۔ آج بھی ہینری فورڈ کو ایک ایسے بزنس مین کے رُوپ میں یاد کیا جاتا ہے جس نے امریکی معیشت کو سنبھالنے اور ترقی دینے میں بے مثال کردار ادا کیا تھا۔
1908ء میں جب ٹی ماڈل کی کار متعارف کرائی گئی تو اس وقت یہ واحد گاڑی تھی جو زیادہ تر امریکیوں کی قوت خرید میں تھی۔ اس کار کو ”ٹن لیزی“ بھی کہا جاتا تھا۔ یہ کار اپنی انفرادیت اور مضبوطی کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھی۔ تجارتی حوالے سے اس کار کی کامیابی کی وجہ کمپنی کی کم قیمت میں زیادہ پیداوار کی صلاحیت بھی تھی۔ اس صلاحیت کے پیچھے صرف اور صرف ہینری فورڈ کا ہاتھ تھا۔ یہ کار 1908ء سے لے کر 1927ء تک بنائی جاتی رہی۔
یہ بھی پڑھیں! جولاہے سے لوہے کے سوداگر تک…… رانا اشتیاق احمد
سستی اور چلانے میں آسان یہ کار امریکی عوام میں اس قدر مقبول ہوئی کہ 1918ء میں امریکہ بھر میں موجود تمام کاروں کی نصف تعداد ”ماڈل ٹی“ پر مشتمل تھی۔
1913ء میں ہینری فورڈ نے ”متحرک اسمبل لائن“ کا آغاز کیا۔ یہ امریکہ میں اس طرح کی پہلی ”اسمبل لائن“ تھی جس کا مقصد زیادہ تعداد میں ٹی گاڑیاں بنانا تھا۔ اس نئی تکنیک نے کار بنانے کا وقت 12گھنٹوں سے کم کر کے صرف اڑھائی گھنٹے کر دیا۔ اس سے نہ صرف یہ کہ کاریں زیادہ تعداد میں بننا شروع ہو گئیں بلکہ ”ماڈل ٹی“ کار کی قیمت بھی 850 ڈالر سے کم ہو کر 1926ء تک صرف 310 ڈالر رہ گئی۔ فورڈ نے ٹیکنالوجی میں جدت لانے کے ساتھ ساتھ اپنے ورکرز کا بھی خیال رکھا۔ روزانہ 8 گھنٹے کام کرنے کی اُجرت کم وبیش ڈبل کر دی۔ اس اقدام کا مقصد ورکرز کو کمپنی کے ساتھ وفادار رکھنا تھا۔ ایسے اقدامات کی وجہ سے فورڈ کمپنی اپنے منافع کی بجائے انقلابی ویژن کے حوالے سے جانی جانے لگی۔
ہینری جب 13سال کا تھا تو اس کے باپ نے اسے ایک گھڑی تحفے میں دی۔ ہینری نے وہ لے کر فوراً اس کے پُرزے پُرزے کر دیئے اور دوبارہ اچھے طریقے سے اسے جوڑ بھی دیا۔ اس کے دوست اور رشتہ دار فورڈ کی اس مہارت سے اتنا متاثر ہوئے کہ وہ اس سے اپنی گھڑیاں ٹھیک کرانے کا مطالبہ کرنے لگے۔
فارم کے کام سے اُکتا کر ہینری فورڈ نے 16سال کی عمر میں گھر چھوڑ دیا، اس نے ڈیٹرائٹ میں بحری جہاز بنانے والی ایک کمپنی میں مکینک کا کام سیکھنا شروع کر دیا۔ کچھ ہی سالوں میں وہ اس قابل ہو گیا کہ وہ سٹیم انجن کی سروس کرنے اور اسے کامیابی سے چلانے لگا۔ 1890ء میں ہینری کو ڈیٹرائٹ ایڈیسن کمپنی میں انجینئر کی نوکری مل گئی۔ اس کی بے پناہ ذہانت کے باعث اُسے جلد ہی چیف انجینئر کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔
اسی دوران ہینری فورڈ کے ذہن میں انقلابی آئیڈیا آیا۔ وہ گھوڑوں کے بغیر چلنے والی گاڑی بنانے کا سوچنے لگا۔ 1892ء میں اس نے اپنی پہلی پٹرول پر چلنے والی گاڑی بھی بنا ڈالی۔ اس کے دو سلنڈر اور ایک چارہارس پاور کا انجن تھا۔ 1896ء میں اس نے ”فورڈ قویڈری سائیکل“ کے نام سے پہلی ماڈل کار بنائی۔ اس سال اس نے ایڈیسن کے ایگزیکٹوز سے ملاقات کی اور کچھ ہی عرصہ میں وہ عظیم تھامس ایڈیسن کے سامنے بیٹھا آٹوموبائل پلان کی وضاحت کر رہا تھا۔ ایڈیسن نے فورڈ کی حوصلہ افزائی کی اور اسے اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ دوسرا اور بہتر ماڈل تیار کرے۔
1898ء میں ہینری فورڈ کو کاربورٹیز کی سند حقِ ایجاد سے نوازا گیا۔ 1899ء میں ہینری نے سرمایہ کار تیار کیے اور اپنی کار کا تیسرا ماڈل بنانے کے لیے ایڈیسن کی کمپنی چھوڑ دی اور کُل وقتی کاریں بنانے کا کاروبار کرنے کی ٹھان لی۔
کاریں اور کمپنیاں بنانے کے کچھ ابتدائی تجربات کرنے کے بعد 1903ء میں ہینری فورڈ نے ”دی فورڈ موٹرکمپنی“ کی بنیاد رکھی۔
ہینری فورڈ ایک امن پسند انسان تھا جس نے دوسری جنگ عظیم کی کھل کر مخالفت کی اور امن قائم کرنے کے مقاصد کے لیے فنڈز بھی دیئے۔ 1936ء میں فورڈ اور اس کے خاندان نے ”فورڈ فاؤنڈیشن“ قائم کی جس کا مقصد ریسرچ، تعلیم اور ترقی کے لیے گرانٹ مہیا کرنا تھا۔
ہینری فورڈ کی بزنس فلاسفی بھی کارکن دوست تھی۔ وہ چھ ماہ تک کمپنی میں کام کرنے والے ورکرز کو منافع میں حصہ دیا کرتا تھا جس کی وجہ سے اس کے ورکرز قابل احترام زندگی گزارتے تھے۔
فورڈ کمپنی کا ”سکول ڈیپارٹمنٹ“ ورکرز کی ذاتی زندگی کے بارے میں یہاں تک خیال رکھتا تھا کہ وہ شراب نوشی، قماربازی یا دوسری ایسی ناشائستہ حرکتوں میں تو ملوث نہیں، یہ سب کرنے کا مقصد یہ تھا کہ آیا ورکرز منافع میں حصہ دار بننے کا اہل ہے یا نہیں۔
اگرچہ ہینری فورڈ فلاح وبہبود کے کاموں پر خرچ کے حوالے سے جانا جاتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ سامی نسل کے لوگوں کا شدید مخالف تھا، شاید اس وجہ سے 1939ء میں فورڈ کو ایڈلف ہٹلر کی جانب سے ”گرینڈکراس آف دی جرمن ایگل“ دیا گیا۔
1998ء میں نیویارک کے شہر نیوجرسی میں فورڈ کمپنی کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا گیا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے شہر کلون میں فورڈ کی ٹرک بنانے والی کمپنی میں لوگوں سے جبری مشقت لے کر منافع کمایا گیا۔ اس پر فورڈ کمپنی کا مؤقف تھا کہ اس وقت کمپنی نازیوں کے قبضہ
میں تھی۔ 2001ء میں فورڈ کمپنی کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی کہ کمپنی نے جرمنی کی ماتحت کمپنی سے کوئی منافع حاصل نہیں کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ غلامی اور جبری مشقت پر تحقیق کے لیے 4 ملین ڈالر کا عطیہ دے گی۔
ایک مشین مکینک سے ”فورڈ موٹرکمپنی“ کے مالک تک کا سفر کرنے والا ہینری فورڈ اپریل 1947ء کو 83 سال کی عمر میں اس جہان سے چل بسا۔ اسے اس کی محبوب جگہ Fair Lane میں دفن کیا گیا۔

Leave a Reply

Back to top button