تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

ہینگ: زمامہ قدیم سے انسانی بیماریوں کی دشمن

ہینگ اینٹی بائیوٹک، اینٹی آکسیڈینٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات رکھتی ہے۔ ہینک میں ایسرینووٹنوالس اے اور بی، فیرولک ایسڈ، امبلیلیفیرون جیسے مرکبات پائے جاتے ہیں۔اور چار نامعلوم مرکبات شامل ہیں۔ اس سے بننے والے تیل میں آرگنوسلفائڈ کثرت سے ہوتے ہیں۔بٹائل،پروپینیل ڈی سلفائڈ، ڈائلل سلفائڈ، ڈائلیل ڈی سلفائڈ وغیرہ بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔جبکہ ڈائیمتھائل ٹرائی سلفائڈ اور آرگنوسلفائڈ نامی مرکبات ہیگ کی بدبو اور بدذائقہ کی وجہ ہیں۔

زمانہ قدیم سے ہینگ کا استعمال برصغیر پاک و ہند کے رہنے والے اپنے کھانوں اور ادویات میں کر رہے ہیں۔ہینگ اپنی بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے انسانی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ہینگ کا عربی نام حلتیت ہے،اسے فارسی میں انگوزہ، گجراتی میں ہنگرا کہتے ہیں اور انگریزی نام ایسافی ٹیڈا ( Asafoetida)ہے۔اس کی بو تیز لہسن کی بو جیسی ہوتی ہے۔ ہینگ کی بہترین قسم ہیرا ہینگ ہے، تاہم یہ بہت مہنگی ہے جبکہ افادیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو بالکل بھی مہنگی نہیں ہے۔

ہینگ ہزاروں سال پرانی ایک نباتاتی دوا ہے، جس کا ذکرسنسکرت کی کتابوں میں بھی ملتا ہے۔ہینگ اصل میں انجدان نامی درخت کی گوند ہے۔ یہ درخت پاکستان، افغانستان اور ایران میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ہینگ کے پودوں سے ہینگ بالکل ربڑ کی طرح حاصل ہوتی ہے۔جب درخت کی عمر 4/5 سال ہوتی ہے تو اس پر پھول لگتے ہیں۔جو مارچ اور اپریل میں کھلتے ہیں۔پھول آنے سے ذرا پہلے (فروری کے آخری دنوں میں) جڑ کا بالائی حصہ (یعنی تنے کا آخری حصہ)اردگرد کی زمین کھود کر ننگا کردیا جاتا ہے۔پھر تنے کو کاٹ کر مٹی کا بنا ہوا پیالہ نما برتن باندھ دیا جاتا ہے۔تنے کے کٹے ہوئے حصے سے دودھ خارج ہوکر اس برتن میں جمع ہوتا رہتا ہے جو خشک ہوجاتا ہے۔ ایک پودے سے 2 سے3 پونڈ کے درمیان خام ہینگ نکلتی ہے۔حاصل شدہ ہینگ کو چمڑے کے تھیلوں میں بھرلیا جاتاہے۔

ہینگ میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
ہینگ اینٹی بائیوٹک، اینٹی آکسیڈینٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات رکھتی ہے۔ ہینک میں ایسرینووٹنوالس اے اور بی، فیرولک ایسڈ، امبلیلیفیرون جیسے مرکبات پائے جاتے ہیں۔اور چار نامعلوم مرکبات شامل ہیں۔ اس سے بننے والے تیل میں آرگنوسلفائڈ کثرت سے ہوتے ہیں۔بٹائل،پروپینیل ڈی سلفائڈ، ڈائلل سلفائڈ، ڈائلیل ڈی سلفائڈ وغیرہ بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔جبکہ ڈائیمتھائل ٹرائی سلفائڈ اور آرگنوسلفائڈ نامی مرکبات ہیگ کی بدبو اور بدذائقہ کی وجہ ہیں۔

ہینگ کے طبی فوائد:
ہینگ ہمارے دل اور نظام ہضم خاص طور پر گیس اور پیٹ کی بلغم، پیٹ درد اور دوسری بہت سی بیماریوں کو ختم کرنے کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔فوڈ پوائزننگ میں فوری اثر کرنے صلاحیت کا کوئی اور دوا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

نز لہ، کھانسی، دمہ:
ہینگ میں قدرتی طور پر اینٹی بائیوٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کے سبب یہ دمہ، کھانسی، سینے کے بلغم، کالی کھانسی اور پسلیاں چلنے کے درد اور سردی میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
بلغمی کھانسی میں ہم وزن سونٹھ پاؤڈر اور شہد میں ایک چٹکی ہینگ ملا کر استعمال کرنے سے سے بلغمی کھانسی میں آرام ملتا ہے۔بلغم آنے کی وجہ سے سینے میں درد بھی ہوتا ہے، ایسے میں ہینگ اور پانی کو ملا کر سینے پر ملنے سے سکون کی نیند آتی ہے۔پسلی کے درد میں عمدہ ہینگ باریک پیس لیں اور انڈے کی زردی میں ملا کر لیپ کریں، پسلی کے درد میں آرام آئے گا۔نزلے سے ہونے والا سر کا درد ہو یا پھر مائیگرین، میں ہینگ کا استعمال فوری راحت دیتا ہے۔کافور، ہینگ، پیپر منٹ اور سونٹھ کو باریک پیس کر عرق گلاب میں ملا کر لیپ بنا لیں اور اس لیپ کو سر پر لگا کر ہلکے ہاتھ سے مسا ج کریں تھوڑی دیر میں سر کے درد میں آرام محسوس کریں گے۔

پیٹ میں درد کا علاج:
پیٹ کے درد،قے، جگر کا ورم، بد ہضمی، گردے کا درد، بھوک کی کمی ہو یا پیٹ میں گیس ہو تو ہینگ گرم پانی کے ساتھ کھانے سے پیٹ کا ہر طرح کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔

معدہ کا درد:
جن افراد کو معدہ کمزور اور بار بار معدے کی کارکردگی متاثر ہونے کی شکایت ہو تو ہینگ کا استعمال منقہ کے ساتھ کرنے سے افاقہ ہوتا ہے۔
منقہ کے بیج نکال کر اس میں ذرا سی ہینگ بھریں اور کھا لیں،معدے کے درد میں فوری آرام آئے گا، یہ ٹوٹکا ان لوگوں کے لیے بھی مفید ہے جنہیں معدے کے درد سے غنودگی طاری ہونے لگتی ہو یا ان چکر آنے کی شکایت ہو۔

بالوں کا جھڑنا:
ہینگ کا استعمال بالوں کے لیے نہایت مفید ہے، اس کا بالوں کی جڑوں میں لیپ کرنے سے سے بال مضبوط اور چمکدار ہوتے ہیں۔
دو چمچ ہینگ میں آدھا چائے کا چمچ پسی ہوئی کالی مرچ اور دو کھانے کے چمچ سرکہ ملا کر بالوں کی جڑوں میں مساج کریں، چند دنوں میں بال جھڑنا بند ہو جائیں گے۔

دانت کا درد:
ہینگ جسم کے ہر درد میں مفید اور سوجن ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے، دانت کے درد میں اس کا استعمال فوری راحت دیتا ہے، داڑھ کے درد میں ایک چٹکی ہیرا ہینگ داڑھ میں رکھنے سے فوری آرام آتا ہے۔
کالی مرچ، ہینگ، نیم کے خشک پتے اور لاہوری نمک ہم وزن لے کر باریک پیس لیں، ہفتے میں دو بار اس منجن کا استعمال کریں، نہ دانت میں کیڑا لگے گا اور نہ ہی ٹھنڈا گرم لگنے کی شکایت ہو گی۔
دانت کا درد ختم کرنے کے لیے ایک کپ پانی میں دو چٹکی ہینگ اور دو لونگیں ڈال کر ابال لیں اور اب اس پانی سے کلی کریں، دانت کے درد میں آرام آئے گا۔
لیموں کے رس میں ہینگ ملا لیں اور روئی سے دانت پر لگائیں، دانت سے خون اور پیپ آنا بند ہو جائے گا۔

کتے کے کااٹے کا علاج:
ایک ماشہ ہیرا ہینگ کو عرق گلاب میں حل کر کے روزانہ پلائیں، ہینگ کو پانی میں گھول کر پاگل کتے کے کاٹے پر لگانے سے آرام آتا ہے۔

لال بیگ،چیونٹیاں بھگانا:
ہینگ کو پیس کر چیونٹیوں کے سوراخ میں ڈالنے سے چیونٹیاں بھاگ جاتی ہیں، کچن کے کیبنٹس کے کونوں میں بھی ہینگ لگانے سے چیونٹیاں اور لال بیگ نہیں آتے۔

کان کے درد میں آرام:
اکثر بچوں کے کان میں درد رہتا ہے اور بڑوں کو بھی نزلہ جم جانے کی وجہ سے کان کے درد کی شکایت رہتی ہے، ایسے میں ہینگ کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔
ایک تولہ ہینگ، ایک تولہ سونٹھ اور ثابت دھنیا پیس کر ایک کلو پانی اور آدھا پاؤ سرسوں کے تیل میں ہلکی آنچ پر پانی خشک ہو نے تک پکائیں۔
اب تیل کو ٹھنڈا کر کے چھان کر بوتل میں بھر کر رکھ لیں۔کسی بھی قسم کے کان کے درد میں ہلکا گرم کر کے چند بوندیں کان میں ڈال لیں، اس عمل سے فوری آرام آئے گا۔

ماہواری کا درد:
وہ خواتین جو ہر ماہ ماہواری کا شدید درد برداشت کرتی ہوں یا جنھیں ماہواری کھل کر نہ آتی ہو اور ماہواری کا ماہانہ نظام مستقل نہ ہو ان کو ہینگ کا استعمال ضرور کرنا چاہئے.
ایک کپ دودھ میں ایک چٹکی ہینگ، ڈیڑھ کھانے کا چمچ میتھی دانہ کا سفوف اور آدھا چائے کا چمچ نمک ملاکر ایک مہینہ تک مستقل دن میں دو دفعہ پینا چاہئے۔ ایک مہینہ کے اندر ہی ماہواری کی تکلیف دور ہوجائے گی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button