شخصیات

یعقوب الکندی کو خلیفہِ وقت نے اس قدرعجیب سزا کیوں دی؟…… محمد صفدر ٹھٹھوی

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ناانصافی، بے قدری اور ظلم وستم کے قصے ملتے ہیں۔ ان بے قدریوں کا شکار بعض علمی شخصیات بھی ہوئیں۔ اس ضمن میں یعقوب الکندی کی مثال موجود ہے۔ جن کے سر پر، مخالفین کی سازشوں کی بدولت، انہی کی کتابیں ماری گئیں۔ یعقوب الکندی کو ملنے والی اس سزا کو آج کے ملحد حضرات مسلمان سائنسدانوں پر تنقید کے طور پر استعمال کرتے ہیں مگر اس واقعہ کو درست تناظر میں نہیں دیکھتے۔ یہ لوگ مسلم سائنس دانوں کے کارناموں کو قبول نہیں کرتے۔ تاریخ کے اس پہلو کے صحیح ادراک کے لئے ہمیں یعقوب الکندی کو خلیفہ وقت سے ملنے والی اس سزا کی اصل وجوہات پر نظر ڈالنا ہو گی۔
یعقوب ابن اسحاق الکندی اسلامی دُنیا کے پہلے بڑے فلاسفر اور مفکر تھے۔ انہوں نے اسلامی دُنیا میں سائنسی علوم کے مطالعہ کا آغاز کیا۔ ان کو بیک وقت فلاسفی، علم جوتش، فلکیات، علم کیمیا، منطق، ریاضی، موسیقی، طبیعات، بصریات، طب، نفسیات، علم الادویا، علم مناظرہ اور موسمیات پر عبور حاصل تھا۔ الکندی پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے قرآن پاک کی سائنسی وعقلی تفسیر کا آغاز کیا تھا۔ عباسی خلفاء، المامون اور معتصم نے آپ کی سرپرستی کی۔ آپ کے زمانہ میں کوفہ سائنسی علوم کا مرکز بن چکا تھا۔ انہیں کچھ عرصہ تک خلیفہ مامون الرشید کے دربار میں اعلیٰ مقام حاصل رہا۔ بغداد کے سائنسی انسٹیٹیوٹ بیت الحکمہ کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ الکندی کو اتنی کامیابیوں اور جملہ علوم میں مہارت کی وجہ سے کئی دُشمنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی مخالف شخصیات میں ابومعشر بن محمد بلخی، محمد بن موسیٰ شاکر اور احمد بن موسیٰ شاکر قابلِ ذکر رہے۔ البیرونی نے لکھا تھا کہ موسیٰ برادران کی، الکندی سے نفرت اور دُشمنی عروج پر تھی۔ علم وفنون کے ماہر لوگوں کے خلاف سازشیں کرنا ان کی عادت تھی۔ انہوں نے ریاضی دان سند بن علی کو بھی خلیفہ متوکل کے دربار سے سازش کر کے الگ کرایا۔ موسیٰ برادران نے حسد اور بغض کی بنا پر کندی کے خلاف بھی سازشیں کیں۔ انہوں نے خلیفہ متوکل کے کان بھرنا شروع کیے۔ موسیٰ برادران کے اُکسانے پر ہی خلیفہ متوکل نے حکم دیا تھا کہ الکندی کی اپنی تصنیف کردہ کتابیں ان کے سر پر اتنی بار ماری جائیں کہ یا تو سرپھٹ جائے یا پھر کتابیں۔ خلیفہ متوکل کے حکم پر انہوں نے الکندی کی لائبریری کو ضبط کیا۔ کچھ وقت بعد انہوں نے سند بن علی سے اپنی لائبریری بحال کروانے کو کہا جو خلیفہ متوکل نے بحال کر دی۔
الکندی کا محبوب مشغلہ درس وتدریس اور تصنیف وتالیف تھا، اس لیے ان کے یہاں ہر وقت علم کے طالب علموں اور سالکوں کا جم غفیر رہتا تھا۔ آپ کے شاگردوں میں سلمویہ نصرانی کا نام آتا ہے جو خلیفہ معتصم کا طبیب خاص تھا۔ الکندی نے قرآن پاک کی آیات کی تمثیلی تفسیر کا آغاز کیا تھا جس کا استعمال مفسرین قرآن اور علماء حضرات اب تک کرتے آ رہے ہیں۔ الکندی تمام عمر علم کے مینارہ کو منور کرتے رہے۔ آپ نے مختلف علوم وفنون پر جو تصانیف سپرد قلم کیں ان کی کُل تعداد 242 ہے جن میں سے صرف 40 محفوظ رہی ہیں۔ اکثر کتب حوادث زمانہ کی نذر ہو چکی ہیں۔
یعقوب الکندی کو عباسی دورِخلافت کے بہترین مترجمین میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف فلسفہ کی کتابوں کے تراجم کیے بلکہ ان کی تشریح کا کارنامہ بھی سر انجام دیا۔ اسلامی دُنیا میں الکندی سب سے پہلے فلسفی کے لقب سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے متعدد رسائل، علم کلام کے مسائل پر بھی لکھے تھے جیسے ایک رسالہ منانیہ، ثنویہ اور ایک رسالہ نبوت پر لکھا تھا۔
الکندی نے مسلم اور غیرمسلم سائنس دانوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی مگر افسوس کہ کندی کی علمیت اور عقلیت ان کے لیے بُری ثابت ہوئی۔ بغداد کے علمی مرکز میں خلیفہ المامون کے دربار میں کندی ایک چمکتا ہوا ستارہ تھا جس کی علمی روشنی سے دور دور تک انسان واشیاء جگمگا رہی تھیں۔ اس کے بعد خلیفہ واثق اور خلیفہ معتصم کے دربار میں بھی انہیں خاص قربت کا مقام رہا مگر خلیفہ متوکل کا دور آتے ہی الکندی کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔ الکندی سے حسد اور نفرت کرنے والے علماء نے خلیفہ متوکل کے کان بھرے کہ یہ فلاسفر، فاسد وملحدانہ عقائد پھیلا رہا ہے۔ خلیفہ متوکل نے بغداد کی مشہور زمانہ لائبریری کندیہ کو ضبط کر لیا۔ پھر اسی پر بس نہ کی بلکہ ساٹھ سالہ کندی کو سرعام پبلک اسکوائر میں 50کوڑے لگائے گئے۔ ہر کوڑے کے لگنے پر لوگ داد وتحسین کی صدائیں بلند کرتے۔ اس توہین آمیز سزا کے بعد کندی پر ڈیپریشن کا حملہ ہوا، گویا اس کی زبان پر تالہ لگ گیا۔ ایک دوست نے اس کی لائبریری دست برد ہونے سے بچا لی، لیکن عوام کے سامنے کوڑے کھانے سے جو اس کی ذلت ورُسوائی ہوئی تھی، اس سے اس کی عزت نفس سخت مجروح ہوئی تھی۔
اسلامی دُنیا میں عقلیت پسندی کے خلاف علماء کی یہ پہلی جیت تھی۔ الکندی تو873 ء میں 72سال کی عمر میں اس دُنیائے فانی سے منہ موڑ گیا لیکن عقلیت پسندی، تنگ نظری، لسانی ومذہبی تعصب کی یہ جنگ آج بھی جاری ہے جس کا آغاز بغداد سے ہوا تھا۔

Leave a Reply

Back to top button