HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » سیاسیات » ” یہ احتساب نہیں بلکہ انتقام ہے“ نعرے نے بلاول کو ایکسپوز کر دیا!

” یہ احتساب نہیں بلکہ انتقام ہے“ نعرے نے بلاول کو ایکسپوز کر دیا!

پڑھنے کا وقت: 5 منٹ

ریاض احمد ساگر

سندھ میں ہفتہ رفتہ میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر رہیں ۔ ایک جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جیالوں کو متحرک کرنے کے لئے کراچی سے لاڑکانہ تک ٹرین مارچ کیا تو دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان عمران خان بھی دو روزہ دورے پر کراچی پہنچے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کراچی میں باغ ابن قاسم کی از سر نو بحالی کا افتتاح کیا اور کراچی ٹرانسفارمیشن کمیٹی کا اجلاس کی صدارت کی اور پھر گھوٹکی میں سیاسی جلسے سے خطاب بھی کیا۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی قیادت کی ممکنہ گرفتاریوں کے خدشے کے پیش نظر سندھ کے عوام اور جیالوں کو متحرک کرنے کے لئے اپنا کراچی سے لاڑکانہ ٹرین مارچ کیا، تاہم ٹرین مارچ سے وہ ان حلقے کو تو متاثر نہیں کر سکے جن کے ہاتھ میں احتساب کا کوڑا ہے مگر وہ کسی حد تک سندھ کے جیالوں اور عوام کو متحرک کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنا ٹرین مارچ بانی پاکستان پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی سے چند روز قبل شروع کر کے برسی کے اجتماع میں شرکت کرنے کے لئے کارکنوں متحرک کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس ٹرین مارچ کے دوران بلاول بھٹو بار بار یہ باور کرانے کی کوشش کرتے نظر آئے کہ ان کے ٹرین مارچ سے وزیر اعظم ہاﺅس سے چیخوں کی آوازیں آ رہی ہیں ۔ انہوں نے یہ جملہ تقریباَ ہر اسٹاپ پر کہا ۔ ایک اور جملہ جو بلاول بھٹو زرداری کی زبان پر مسلسل رہا وہ تھا ” یہ احتساب نہیں بلکہ انتقام ہے “ اس جملے کے بار بار بولنے سے وہ ” ایکسپوز “ ہو گئے کہ ان کا ٹرین مارچ دراصل اپنے والد آصف علی زرداری ، پھوپی فریال تالپور و دیگر رہنماﺅں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج تھا ۔

وزیر اعظم عمران خان نے کراچی کی ترقی کے لئے 162 ارب روپے کے کراچی پیکیج کا اعلان کیااور حیدر آباد یونیورسٹی کی منظوری بھی دی ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کراچی پیکیج کے تحت شہر قائد میں 18 منصوبوں پر کام کیا جائے گا ۔ ان منصوبوں میں 10 منصوبے پبلک ٹرانسپورٹ اور 7 منصوبے واٹر اینڈ سیوریج کے ہوں گے ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نون لیگ اور پییلز پارٹی اپنی چوری بچانے کے لئے اکھٹے ہو رہے ہیں ۔ عوام کا پیسہ جعلی اکاﺅنٹ میں جاتا ہے ، ان پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے توکہا جا تا ہے کہ جمہوریت خطرے میں پڑ گئی ہے ۔

بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ یا پھر لانگ مارچ کے اعلان سے ان حلقوں پر کوئی اثر نہیں ہوا جن حلقوں کو وہ دباﺅ میں لانا چاہتے تھے ۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری اور پارٹی کے دیگر اہم رہنماﺅں کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف حالیہ بیانات کے بعد وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی میں اختلافات کی خلیج مزید بڑھ گئی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ کراچی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کو ” نظر انداز “ کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان کراچی میں نہ تو وزیر اعلیٰ سے ملے اور نہ ہی انہیں کراچی ٹرانسفارمیشن اجلاس میں بلایا اور باغ جناح کے افتتاح کی تقریب میں بھی صوبے کے چیف ایگزیکٹو دکھائی نہیں دیئے ۔ اس صورتحال پر پیپلز پارٹی کے صوبائی وزراءچراغ پا ہوئے اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی پالیسیوں اور طرز عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔

ادھر وزیر اعظم عمران خان نے کراچی کی ترقی کے لئے 162 ارب روپے کے کراچی پیکیج کا اعلان کیااور حیدر آباد یونیورسٹی کی منظوری بھی دی ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کراچی پیکیج کے تحت شہر قائد میں 18 منصوبوں پر کام کیا جائے گا ۔ ان منصوبوں میں 10 منصوبے پبلک ٹرانسپورٹ اور 7 منصوبے واٹر اینڈ سیوریج کے ہوں گے ۔ اپنے دورہ کراچی کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے سندھ کے پسماندہ ترین ضلع تھرپارکر میں صاف پانی کے لئے ایک ارب روپے مالیت کے آر او پلانٹس لگانے کا بھی اعلان کیا ۔ ادھر گھوٹکی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بھی وزیر اعظم عمران خان نے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ زرداری اور نواز قوم کا پیسہ واپس کر دیں تو انہیں ریلیف دیا جائے گا ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نون لیگ اور پییلز پارٹی اپنی چوری بچانے کے لئے اکھٹے ہو رہے ہیں ۔

عوام کا پیسہ جعلی اکاﺅنٹ میں جاتا ہے ، ان پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے توکہا جا تا ہے کہ جمہوریت خطرے میں پڑ گئی ہے ۔ بلاول کے ٹرین مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چوری بچانے کے لئے ٹرین مارچ کیا گیا ۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ نواز لیگ کے بعد اب وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف سخت رویہ اختیار کر چکی ہے ۔ وفاقی حکومت نے ” بے نظیر انکم سپورٹ “ پروگرام سے بے نظیر کا نام نکالنے کا بھی عندیہ دے دیا ہے جس پر پیپلز پارٹی کی قیادت سیخ پا نظر آ رہی ہے ۔ پیپلز پارٹی نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بے نظیر بھٹو کا نام ختم کرنے کے وفاقی حکومت کے ممکنہ اقدام کے خلاف سخت بیان بازی شروع کر دی ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بے نظیر بھٹو کا نام ہٹانے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت پہلے بے نظیر کا نام ہٹائے گی اور بعد میں اس پروگرام کو بند کر دے گی ۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم کرانے کے لئے قانون سازی کرنا پڑے گی جو اس کے لئے مشکل امر ہے ۔ وفاق اور پیپلز پارٹی کے مابین حالیہ کشیدگی کی ایک وجہ وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کے فنڈز میں کٹوتی بھی ہے ۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ وزیر اعظم عمران خان سے اس لئے ناراض ہیں کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے حصے کے 120 ارب روپے کٹوتی کی ہے جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر بھی سندھ کو شدید تحفظات ہیں ۔ اس وقت سندھ حکومت کی مالی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے ۔ صوبائی ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی مشکل ہوتی جا رہی ہے جبکہ سندھ کی بیشتر ترقیاتی اسکیمیں روک دی گئی ہیں ۔ سندھ حکومت کی مالی صورتحال خراب ہونے کا معاملہ اس وقت کھل کر سامنے آ گیا جب سندھ بھر کے اساتذہ اپنے مطالبات کے حق میں کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کر رہے تھے ۔

جواب دیجئے