HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » زہرا کنول » یہ جو سوہنی دھرتی ہے اس کے پیچھے وردی ہے

یہ جو سوہنی دھرتی ہے اس کے پیچھے وردی ہے

پڑھنے کا وقت: 5 منٹ

کنول زہرا ……

ستائیس فروری 2019پاکستان کی تاریخ کا ایک اور یادگار دن ہے۔ اس دن نے چھ ستمبر 1965 کے دن کی یاد کو تازہ کیا ہے، دن کے اجالے میں پاکستان ایئر فورس کے اسکوڈران لیڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے راشد مہناس اور ایم ایم عالم کی روحوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے قوم کو سرخرو کیا، پاکستان ایئر فورس نے ثابت کر دیا، کامیابی کے ہم نوا رات کے اندھیرے نہیں بلکہ دن کے اجالے ہوتے ہیں۔

27 فروری کو بھارت کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے دو پاکستانی سپوتوں نے بھارت کو دھول چٹادی۔ پاکستان ایئر فورس کے ہوا بازحسن صدیقی اور نعمان نے جے ایف 17 کو مہارت سے اڑاتے ہوئے، انڈیا کو مگ اکیس اور ایس یو 30 سے محروم کیا، جبکہ ان کا ونگ کمانڈر ابھی نندن کو بھی زیرحراست لیا گیا۔ بعدازاں خیر سگالی کے جذبے کے تحت دو روز بعد اسے بھارت کے حوالے کردیا گیا۔ بھارتی پائلٹ نے اعترافی بیان میں کہا کہ وہ پاکستان میں اپنا ٹارگٹ تلاش کر رہا تھا مگر پاکستان کے شیر دل جوانوں نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ ابھی نندن جن پر حملہ کرنے کی غرض سے آیا تھا ان کی مہمان نوازی کا گرویدہ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: مینگروزکی افزائش اور پاک بحریہ کا کردار

بھارتی ایئر فورس کے ونگ کمانڈر ابھی نندن نے جاتے وقت افواج پاکستان اور پاکستانی چائے کی بہت تعریف کی۔ پاکستانی افواج وہ فورس ہے جو دشمن کی خواہش کا بھی احترام کرتی ہے۔ ستمبر 1965 میں بھارتی فوج نے لاہور میں صبح کا ناشتہ اور شام کی چائے کی خواہش کی تھی اس وقت کی بھی چائے اور ناشتہ تاریخ کا حصہ ہے جبکہ رواں سال ستائیس فروری کی چائے کی چسکی نے بھارت کے لئے وہ عالم سبکی ہے جسے دورجدید کے تقاضوں کے تحت کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ابھی نندن کی واپسی کو اقوام عالم نے پاکستان کی اخلاقی فتح قرار دیا ہے۔

ستائیس فروری 2019پاکستان کی تاریخ کا ایک اور یادگار دن ہے۔ اس دن نے چھ ستمبر 1965 کے دن کی یاد کو تازہ کیا ہے، دن کے اجالے میں پاکستان ایئر فورس کے اسکوڈران لیڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے راشد مہناس اور ایم ایم عالم کی روحوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے قوم کو سرخرو کیا

بھارت پہلے ہی نیوی آفیسر کل بھوشن کے مشن امپاسبل کی خفت سے دوچار ہے، ادھر پائلٹ ابھی نندن نے بھی اسے منہ دیکھانے کے لائق نہیں چھوڑا ہے۔ یہ الگ بات ہے وہ ایک ڈھیٹ ملک ہے۔ اسی لئے اسے اپنی بے عزتی کا احساس نہیں ہوتا ہے۔ دوسری جانب ان کا میڈیا اپنے عوام کو مزید یہ جھوٹ بتارہا ہے کہ ابھی نندن نے پاکستان کا ایف سولہ مارگرا ہے۔ مزے کی بات ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق ایف سولہ اس آپریشن میں استعمال ہی نہیں کیا گیا تھا۔ چلیں اگر کیا بھی گیا اور ابھی نندن نے کوئی کارنامہ سرانجام بھی دیا تو ان کا ثبوت دیدو تو کوئی جواب نہیں۔۔ کئی روز گزار جانے کے بعد بھارت کے ایک اینکر راہول کنول نے لائیو شو میں یہ دعوی کیا کہ ہم نے ایف سولہ کے ٹکڑے تلاش کر لئے ہیں، اگلے ہی لمحے ان کے دفاعی تجزیہ کار نے بتایا کہ بھائی صاحب یہ پڑوس ملک کے نہیں بلکہ اپنے جگر کے ٹکڑے ہیں، جو پاکستانی ایئر فضائیہ کے ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے پاش پاش کیا تھا، جی ہاں وہ ایس یوتھرٹی کی باقیات تھیں جیسے ان کا جنگی صحافی راہول کنول ایف سولہ گردان رہا تھا۔

پاک فوج مادر وطن کے دفاع کے لئے ہر وقت چوکس ہیں۔ پاک فوج کئی مرتبہ بھارتی ڈرون مار گرائے جبکہ کل 16مارچ 2019کو ایل او سی پر ایک بھارتی جاسوس ڈرون مار گرایا گیا۔ جبکہ اس کے برعکس بھارتی فضائیہ کے کارگردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے وہ پاکستان کی طرف سے آنے والے گیس کے غبارے اور کبوتر سے بھی ڈر جاتے ہیں۔ وہ ان بے ضرر چیزوں سے اسقدر گھبرا جاتے ہیں کہ لڑاکا طیارے ان کے پیچھے لگا دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ واقعات تین بار رونما ہوچکے ہیں. 27 جنوری 2016ء،دو دسمبر 2016 اور 14 جولائی 2018ءکو بھارتی افواج کی جانب سے پیش کردہ عالمی لطیفے خبروں کی زینت بن چکے ہیں۔

بہرحال 26 فروری کی صبح کا آغاز پاکستان کے لئے افسردگی کا پیغام لایامگر بھارت کا 350 بندے مارنے کا دعوی ایک بار پھر جھوٹ ثابت ہوا کیونکہ بھارت جس جگہ پر اپنی کامیاب کارروائی کا دعوی کر رہا ہے وہاں ہمارے چار درخت اور ایک کوے کی لاش ملی ہے۔

انڈین ائیر مارشل بھارت کمار نے اگست 2015 میں تسلیم کیا ہے کہ 1965ءجنگ میں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ پاکستان نے صرف دو دن میں بھارت کے35طیارے تباہ کردیئے تھے۔ ائیرمارشل بھارت کمار نے یہ اعتراف اپنی کتاب” دی ڈیولزآف دی ہیمالین ایگل، دی فرسٹ انڈو پاک وار“ میں کیا ہے جو یکم ستمبر 2015 کو منظر عام پر آئی۔ بھارت کے اخبار ”ٹائمز آف انڈیا“نے اس کتاب کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی شائع کی۔ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی وزارت دفاع کے ریکارڈ میں تسلیم کیا گیا کہ1965کی جنگ میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

جنگ کے دوران بھارت کے 460 طیاروں میں سے 59اور پاکستان کے186 میں سے 43طیارے تباہ ہوئے۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ 1965کی جنگ بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلی فضائی جنگ تھی۔ بھارتی فضائیہ کو پاک فضائیہ پر عددی لحاظ سے برتری حاصل تھی لیکن پاکستانی طیارے ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھارت کے مقابلے میں زیادہ جدید تھے۔ جنگ کے وقت بھارتی فضائیہ کے پاس28لڑاکا اسکوڈرن جبکہ پاکستان کے پاس صرف11اسکواڈرن تھے۔

تاریخ شاید ہے کہ 1965 ءکی پاک ،ہند جنگ کے دوران، جہاں ہندوستان کو پاک فضائیہ کے ہاتھوں بہت زیادہ نقصان اور شرمندگی اٹھانی پڑی وہاں اس کی سبکی کا ایک واقعہ یہ بھی تھا کہ پاک فضائیہ نے ہندوستانی جنگی طیارہ پاکستانی ہوائی اڈے پہ اتروا لیا اور اس کے پائلٹ نے جان بچانے کے لئے سرنڈر کیا۔ اس واقعہ کی نشانی وہ ہندوستانی جنگی طیارہ آج بھی پاکستان کی تحویل میں ہے اور پی ایف میوزیم کراچی میں بھارتی سورماوں کا منہ چڑا رہا ہے.

جواب دیجئے